حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي ، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي ، قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " ، فَقَالَ ابْنُ الصَّامِتِ : فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ أَخَا الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ، قُلْتُ : مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ كَذَا وَكَذَا ، فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میرے بعد میری امت سے۔۔۔ یا عنقریب میرے بعد میری امت سے۔۔۔ ایک قوم ہو گی جو قرآن پڑھیں گے وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر اس میں واپس نہیں آئیں گے۔ وہ انسانوں اور مخلوقات میں بدترین ہوں گے۔“ ابن صامت نے کہا: میں حکم غفاری رضی اللہ عنہ کو ملا، میں نے کہا: (یہ) کیا حدیث ہے جو میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے اس طرح سنی ہے؟ اس کے بعد میں نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1067
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 170

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 170 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´خوارج کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں ۱؎۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو غفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 170]
اردو حاشہ: (1)
قرآن کے حلق (گلے)
سے آگے نہ گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں پر قرآن کا اثر نہیں ہو گا یا ان کے دل قرآن مجید کو سمجھنے سے عاری ہوں گے۔

(2)
اہل بدعت جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

(3)
اس حدیث سے دلیل لی گئی ہے کہ بدعتی فرقوں کے لوگ امت میں شامل ہیں، یعنی دنیوی معاملات میں ان سے مسلمانوں والا سلوک کیا جائے گا، البتہ وہ گمراہ اور فاسق ہیں۔
واللہ أعلم.
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 170 سے ماخوذ ہے۔