حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ " ،

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا جبکہ آپﷺ ایک نجرانی چادر جس کے کنارے موٹے تھے اوڑھے ہوئے تھے آپﷺ کو ایک بدوی آ ملا اور اس نے آپﷺ کی چادر کو اس قدر زور سے کھینچا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے ایک طرف دیکھا جس پر اس کے انتہائی زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے حاشیہ (کنارہ) نے نشان بنا ڈالا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہو کر ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنَ الزِّيَادَةِ ، قَالَ : " ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً ، رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ " ، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ : " فَجَاذَبَهُ حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ ، وَحَتَّى بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

ہمام، عکرمہ بن عمار اور اوزاعی سب نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ اضافہ ہے پھر اس نے آپ کو زور سے اپنی طرف کھینچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بدوی کے سینے سے جا ٹکرائے۔ اور ہمام کی حدیث میں ہے اس نے آپ کے ساتھ کھینچا تانی شروع کر دی یہاں تک کہ چادر پھٹ گئی اور یہاں تک کہ اس کا کنارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں رہ گیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1057
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5809 | صحيح البخاري: 6088 | سنن ابن ماجه: 3553

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6088 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6088. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ نے موٹے کنارے والی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس دوران میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔ حضرت انس ؓ نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کے شانہ مبارک کو دیکھا کہ چادر کو زور سے کھینچنے کی بنا پر اس پر نشان پڑ گئے تھے، پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے، اس میں مجھے دینے کا حکم دیجیے آپ ﷺ نے مڑ کر اسے دیکھا تو آپ ہنس پڑے، پھر آپ نے اس کے لیے مال دینے کا حکم دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6088]
حدیث حاشیہ: سبحان اللہ قربان اس خلق کے کیا کوئی بادشاہ ایسا کر سکتا ہے۔
یہ حدیث صاف آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
(صلی اللہ علیہ وسلم)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6088 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5809 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5809. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا جبکہ آپ پر موٹے حاشیے والی نجرانی چادر تھی آپ کو ایک اعرابی ملا اور رسول اللہ ﷺ کی چادر سے آپ کو زور سے کھینچا حتیٰ کہ میں نے آپ کے کندھے پر زور سے کھنچنے کی وجہ سے ایک نشان دیکھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! مجھے اللہ تعالٰی کے اس مال سے دینے کا حکم دیں جو آپ کے پاس ہے رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے پھر ہنس دیے اس کے بعد آپ نے اسے عطیہ دینے کا حکم دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5809]
حدیث حاشیہ: آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ ایسے تھے کہ اس گنوار کی اس حرکت کا آپ نے کوئی خیال نہیں فرمایا بلکہ ہنس کر ٹال دیا اور اسے خیرات بھی مرحمت فرما دی۔
فداہ روحي صلی اللہ علیه وسلم۔
جسم مبارک پر چادر تھی۔
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5809 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5809 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5809. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا جبکہ آپ پر موٹے حاشیے والی نجرانی چادر تھی آپ کو ایک اعرابی ملا اور رسول اللہ ﷺ کی چادر سے آپ کو زور سے کھینچا حتیٰ کہ میں نے آپ کے کندھے پر زور سے کھنچنے کی وجہ سے ایک نشان دیکھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! مجھے اللہ تعالٰی کے اس مال سے دینے کا حکم دیں جو آپ کے پاس ہے رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے پھر ہنس دیے اس کے بعد آپ نے اسے عطیہ دینے کا حکم دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5809]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق فاضلہ سے متصف تھے۔
آپ نے اس گنوار کی حرکت کا کوئی نوٹس نہ لیا بلکہ مسکرا کر اسے ٹال دیا اور اسے خیرات بھی دی۔
اس وقت آپ کے جسم مبارک پر ایک چادر تھی اسی سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب ثابت کیا ہے۔
(2)
دراصل آپ جس سے اسلام لانے کی امید کرتے، اس پر سختی نہ فرماتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کی قرآن کریم نے بھی شہادت دی۔
فداه أبي و أمي و روحي۔
صلی الله عليه وسلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5809 سے ماخوذ ہے۔