صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا: باب: حرص دنیا کی مذمت۔
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلهم ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ " ،حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے (بڑھاپے کے سبب اس کی ساری قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں) مگر اس کے نفس کی دو خصلتیں اور زیادہ جوان (طاقتور) ہو جاتی ہیں دولت کی حرص اور زیادتی عمر کی حرص۔‘‘
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ ،معاذ بن ہشام کے والد ہشام نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) اسی طرح ہے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ .شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔। (آگے) اسی طرح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
واقعی یہ حقیقت ہے کہ جوں جوں انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی حرص اور خواہشات جواں ہوتی رہتی ہیں اور یہی دو باتیں تمام گناہوں کا سرچشمہ ہیں۔
حرص انسان کو قبول حق سے روکتی ہے اور لمبی امید کی وجہ سے انسان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ اسے کسی وقت اس دنیا سے رخصت بھی ہونا ہے۔
اپنی موت اسے بھول کر بھی یاد نہیں آتی، حالانکہ ایسی آرزوئیں کسی کو ساری عمر حاصل ہوئی ہیں اور نہ ہوں گی۔
اس قسم کی خواہشات آخرت کو نظر انداز کر دینے کا باعث ہیں۔
(2)
دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کثرت مال اور لمبی عمر کی حرص کرنا انتہائی مذموم حرکت ہے۔
ان دو خصلتوں کی تخصیص اس لیے ہے کہ انسان کو اپنی جان بہت پیاری ہے، اس لیے اس کی زیادہ رغبت عمر کے باقی رہنے میں ہوتی ہے اور مال سے محبت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی دائمی صحت جس پر لمبی عمر کا دارومدار ہے، اس کی بقا مال و دولت پر منحصر ہے۔
جب بھی انسان عمر اور مال کا ختم ہونا محسوس کرتا ہے تو اس میں اس کی محبت اور اس کے دوام اور ہمیشگی میں رغبت زیادہ ہو جاتی ہے۔
واللہ أعلم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم (انسان) بوڑھا ہو جاتا ہے، اور اس کی دو خواہشیں جوان ہو جاتی ہیں: مال کی ہوس، اور عمر کی زیادتی کی تمنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4234]
بڑھاپے میں آخرت بہتر نانے کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ 2۔
مال اور عمر کی حرص اچھی نہیں۔
ان دونوں کا فائدہ تو تبھی ہے جب ان سے نیکیاں کمانے میں مدد لی جائے۔
لیکن عام طور پر انسان نیکیوں سے غفلت کرتا ہے جو اس کے لیے نقصان کا باعث ہے