صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ: باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ سَلَمَةُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ : أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً ، فَقَالَ : " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ؟ " ، وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ ، فَقُلْنَا : قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ؟ " ، فَقُلْنَا : قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا ، وَقُلْنَا : قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ : " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا ، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً ، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ ، يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ " .ابومسلم خولانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے ایک پیارے امانت دار (شخص) نے حدیث بیان کی وہ ایسا ہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ۔۔۔ انہوں نے کہا: ہم نو، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (حاضر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟“ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار) آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔“ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا: ”اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔“ اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(آمین)
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ “ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے “، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ ” لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 461]
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: ” کیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ “، جب کہ ہم ابھی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا: ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تین بار دہرایا چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! ہم ابھی بیعت کر چکے ہیں؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور (حکم) سنو گے اور اطاعت کرو گے “، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا: ” لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے “، چنانچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1642]
➋ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کاپاس عہد بے مثل اور زریں کلمات سے لکھنے کے قابل ہے۔
➌ بیعت اس عہد معاہدے کوکہتے ہیں۔جودو افراد میں طے پایاجاتا ہے۔ اسلام میں ایک بیعت اسلام ہے۔ دوسری بیعت جہاد اور تیسری بیعت استرشاد وتوبہ ہے۔خیر القرون میں پہلی دو بیعتوں کا ثبوت ملتاہے۔ خلفائے راشدین ااور ان کے بعد ایک زمانے تک صرف یہی بیعتیں جاری رہی ہیں۔تیسری صرف رسول اللہ ﷺ سے ہی خاص سمجھی گئی ہے۔ مگر بعض صالحین اس تیسری بعیت کے قائل وفائل ہیں۔ جس کی شرعی اہمیت محل نظر ہے۔ اور اہل بدعت نے جو اس میں غلو کیا ہے اللہ کی پناہ وہ سراسربدعت ہے۔ خواہ وہ کیسا ہی ظلم کیوں نہ کریں۔الا یہ کہ (کفر بواح) صریح کفر کا ارتکاب کریں۔اس مسئلے کی تفصیل کےلئے حاکم ومحکوم کے حقوق وفرائض اور روابط کا موضوع دیکھا جائے۔
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے “؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے (بیعت کرنے کے بعد) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو “، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: ” لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو “، راوی کا بیان ہے کہ (اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2867]
فوائد ومسائل: (1)
حضرت ابومسلم ؒ کی اپنے استاد کی تعریف کرنے سے سلف صالحین میں استاد کے احترام اور ان کی محبت کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔
طالب علم کا اپنے استاد سے تعلق ایسا ہی ہونا چاہیے۔
(2)
بیعت اسلام یا بیعت خلافت کے علاوہ کسی نیک کام کے التزام یا گناہ سے اجتناب کے لیے بھی کسی نیک عالم کے ہاتھ بیعت کی جا سکتی ہے۔
اس بیعت کی حیثیت محض ایک وعدے کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وعدہ کرنے والے کے لیے نیکی پر قائم رہنے یا گناہ سے بچنے میں آسانی ہوتی ہے۔
(3)
مروجہ خانقاہی نظام میں بہت سی غیر شرعی اشیاء استعمال ہوچکی ہیں۔
اس بیعت سے اس مکمل نظام کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔
(4)
خود دا ری ایک مطلوب اسلامی وصف ہے۔
«. . . - ألا تُبايعون رسولَ الله؟! - فردَّدها ثلاث مرات-: على أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئاً، والصلوات الخمس- وأسرَّ كلمة خفيَّة-[و] أن لا تسألوا الناس شيئاً . . .»
”. . . سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیعت نہیں کرتے؟“ ہم نے کہا: ہم نے تھوڑا عرصہ پہلے ہی آپ کی بیعت کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیعت نہیں کرتے؟“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تیسری دفعہ) فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیعت نہیں کرتے؟“ سو ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت تو کر چکے ہیں، اس لیے (آپ وضاحت کیجیئے) اب کس چیز پر بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، پانچ نمازیں پڑھو گے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو گے۔“ اور ایک بات آہستہ انداز میں ارشاد فرمائی کہ ”لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرو گے۔“ میں نے دیکھا کہ اگر ان مذکورہ (بیعت کندگان) میں سے بعض افراد کا کوڑا بھی زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے سوال نہیں کرتے تھے کہ وہ اسے اٹھا کر انہیں پکڑا دے (بلکہ وہ خود اٹھا لیتے تھے)۔ . . .“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة: 472]
سبحان اللہ! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر کے مشرف باسلام ہو چکے ہیں۔ لیکن انتہائی اہم امور کی نشاندہی اور تاکید کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بیعت لینے کا اعلان کر دیا۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جذبہ اطاعت رسول دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اس حد تک قدردانی کی کہ اگر کوئی سواری پر سوار ہوتا اور اس کا کوڑا یا لاٹھی گر جاتی تو فرمودہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں سواری سے اتر کر اٹھا لیتا، لیکن کسی سے خدمت لینا گوارہ نہ کرتا۔ «لا تسألوا»