صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ: باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنَ النَّاسِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص صبح جا کر اپنی پشت پر لکڑیاں لاد کر لے آئے اور اس سے صدقہ کرے اور لوگوں سے (مانگنے سے) بے نیاز اور مستغنی ہو جائے وہ اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے مانگے وہ اسے دے یا محروم رکھے کیونکہ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے افضل ہے اور (کشادہ دستی کا) آغاز اپنے زیر کفالت افراد سے کرو۔‘‘
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ " ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کا صبح صبح جا کر اپنی پشت پر لکڑیاں لاد کر بیچنا‘‘ پھر اوپر کی حدیث کے معنی حدیث بیان کی ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ ، فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ " .حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایندھن کا گٹھا باندھے اور اپنی پیٹھ پر لادے، اور بیچ دے، اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے سوال کرے، (چاہے) وہ اسے دے یا نہ دے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ انسان کے لیے اپنی خود داری کا تحفظ بہت ضروری ہے۔
جس طرح بھی ہو سکے اپنے ہاتھ سے کمائی کرے۔
یہ اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ دوسروں کے سامنے سوال کرتا پھرے۔
ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ رزق کا راستہ کھول دیتا ہے۔
(2)
ان احادیث میں لکڑیوں کو فروخت کرنے کا حکم بیان ہوا ہے، پانی پینے پلانے کی احادیث میں انہیں اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ پانی، گھاس اور لکڑیوں سے نفع اٹھانے میں سب لوگ شریک ہیں اور یہ چیزیں کسی کی ملکیت نہیں، جو بھی ان پر پہلے قبضہ کر لے وہی ان کا مالک ہے اور اس کے لیے مباح اور جائز ہیں۔
روایات میں اگرچہ لکڑیوں کا ذکر ہے، تاہم امام بخاری ؒ نے گھاس کو بھی اس میں شامل فرمایا ہے۔
جنگل سے گھاس کاٹ کر لانا اور بازار میں اسے فروخت کرنا، اللہ کے ہاں یہ بھی ایک پسندیدہ عمل ہے، اس سے آدمی سوال کرنے کی لعنت سے محفوظ رہتا ہے۔
(3)
یاد رہے کہ اگر یہ چیزیں کسی کی ملکیت ہیں تو پھر مالک کی اجازت کے بغیر انہیں استعمال کرنا درست نہیں۔
(1)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی پہلی حدیث میں مسکین کی تعریف کی گئی ہے، اس تعریف سے غنا کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے، ہمارے نزدیک غنا کی تین اقسام ہیں: ٭ وہ انسان غنی ہے جو نصاب کا مالک ہو اور اس پر زکاۃ ادا کرنا ضروری ہو، رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ ؓ سے فرمایا تھا کہ یمن کے غنی حضرات سے زکاۃ وصول کی جائے اور ان کے فقیروں پر تقسیم کر دی جائے۔
٭ وہ انسان جو صاحب نصاب تو نہ ہو لیکن اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کے لیے زکاۃ لینا حرام ہو۔
٭ وہ انسان جس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اس کے لیے لوگوں سے سوال کرنا حرام ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ایک دن اور رات کا کھانا موجود ہو اور اتنا کپڑا بھی موجود ہو جس سے وہ ستر پوشی کر سکے۔
(2)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی دوسری حدیث سے کسب حلال کے لیے محنت ومزدوری کرنا ثابت ہے۔
اگر کسی انسان کے پاس اس قدر وسائل ہیں کہ وہ انہیں استعمال میں لا کر گزر اوقات کر سکتا ہے تو اسے بھی غنی کہا جا سکتا ہے اور ایسے شخص پر بھی لوگوں سے سوال کرنا حرام ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ کسی مالدار، صحیح و سلامت اعضاء والے طاقت ور کے لیے زکاۃ جائز نہیں، ایک دوسری روایت میں ہے کہ مالدار، صحت مند اور کمانے والے آدمی کے لیے زکاۃ میں کوئی حصہ نہیں۔
(مسندأحمد: 164/2) (3)
واضح رہے کہ پانچ قسم کے مالدار افراد کے لیے صدقہ جائز ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مالدار شخص کے لیے پانچ صورتوں کے علاوہ صدقہ حلال نہیں: ٭ زکاۃ کا مال اکٹھا کرنے کی صورت میں۔
٭ وہ شخص جو اپنے مال سے صدقے کی کوئی چیز خریدے۔
٭ جو مالدار مقروض ہو جائے۔
٭ فی سبیل اللہ جہاد کرنے والا۔
٭ مسکین پر جو چیز صدقہ کی گئی، وہ کسی مالدار کو تحفہ دے دے۔
(مسندأحمد: 56/3)
علماءنے کہا ہے کہ کمائی کے تین اصول ہیں۔
ایک زراعت‘ دوسری تجارت‘ تیسری صنعت وحرفت۔
بعضوں نے کہا ان تینوں میں تجارت افضل ہے۔
بعضوں نے کہا زراعت افضل ہے۔
کیونکہ اس میں ہاتھ سے محنت کی جاتی ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ کوئی کھانا اس سے بہتر نہیں ہے جو ہاتھ سے محنت کرکے پیدا کیا جائے‘ زراعت کے بعد پھر صنعت افضل ہے۔
اس میں بھی ہاتھ سے کام کیا جاتا ہے۔
اور نوکری تو بدترین کسب ہے۔
ان احادیث سے یہ بھی ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ نے محنت کرکے کمانے والے مسلمان پر کس قدر محبت کا اظہار فرمایا کہ اس کی خوبی پر آپ نے اللہ پاک کی قسم کھائی۔
پس جو لوگ محض نکمے بن کر بیٹھے رہتے ہیں اور دوسروں کے دست نگر رہتے ہیں۔
پھر قسمت کا گلہ کرنے لگتے ہیں۔
یہ لوگ عنداللہ وعندالرسول اچھے نہیں ہیں۔
(1)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بڑے بلیغ انداز میں دوسروں سے سوال کرنے کی مذمت فرمائی ہے، یعنی لکڑیاں جمع کرنے میں جو اسے عار لاحق ہو گی وہ اس ذلت و رسوائی سے کہیں بہتر ہے جو دنیوی مال و متاع کے لیے سوال کرنے سے لاحق ہو گی۔
(2)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے محنت کر کے کمانے والے کے متعلق کس قدر محبت کا اظہار فرمایا ہے کہ اس کی خوبی پر اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے، اس بنا پر جو لوگ محض نکمے بن کر بیٹھے رہتے ہیں اور دوسروں کے دست نگر بنتے ہیں، ایسے لوگ اللہ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے (یعنی اس کی قیمت میں سے) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے (یعنی ان سے نہ مانگے) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۲؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 680]
1؎:
عزیمت کی راہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت و حاجت ہونے پر بھی کسی سے سوال نہ کر ے اگرچہ ضرورت و حاجت کے وقت سوال کرنا جائز ہے۔
2؎:
اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک شخص کا اپنی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر پیٹھ پر لادنا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل (مال) سے نوازا ہو، وہ اس سے مانگے، تو وہ اسے دے یا نہ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2590]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، پھر اسے بیچے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی سے مانگے، تو اسے دے یا نہ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2585]
«. . . 371- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”والذي نفسي بيده، ليأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من أن يأتي رجلا أعطاه الله من فضله فيسأله، أعطاه أو منعه.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنی رسی لے، پھر لکڑیاں اکھٹی کر کے اپنی پیٹھ پر (رکھ کر) لے آئے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جا کر مانگے جسے اللہ نے اپنے فضل (مال) سے نواز رکھا ہو۔ وہ اسے دے یا دھتکار دے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 599]
[وأخرجه البخاري 1470، من حديث مالك به * وفي رواية يحييٰ بن يحييٰ: ”لَأَنْ يَأْخُذَ“]
تفقه:
➊ بہترین رزق وہی ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں اور محنت سے کمائے۔
➋ شرعی عذر کے بغیر لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رجعی طلاق میں نان ونفقہ اور سکنیٰ خاوند کے ذمے ہے، طلاق بائنہ دیتے ہی یہ ذمہ داری خاوند سے ختم ہو جاتی ہے۔ طلاق ملنے پر فساد برپا نہیں کر دینا چاہیے، جس طرح ہمارے ہاں برصغیر میں ہو رہا ہے، کئی کئی سال لڑائیاں چلتی ہیں، اور زمانہ جاہلبیت یاد آتا ہے، بلکہ خاموشی کے ساتھ پرسکون طریقے سے سارا معاملہ کرنا چا ہیے۔
اس حدیث میں رزق حلال کمانے کے لیے محنت مزدوری کر نے کی ترغیب ملتی ہے، انسان کو ہمیشہ ناجائز سوال کرنے سے بچنا چاہیے، جب بھی مانگا جائے صرف اللہ تعالیٰ سے مانگا جائے، کوئی کسی کو کچھ نہیں دے سکتا، ہاں ایک ذات ہے جو سب کو سب کچھ عطا کر سکتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم نبوت کے طالبان کے لیے درس ہے کہ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کردار ادا کریں اور اپنے اساتذہ کے ساتھ چمٹ جائیں، جو کچھ سنے اس کو زبانی یاد کرتے جائیں، جو بھی اپنے اساتذہ سے چمٹا، اللہ تعالیٰ نے اس کو گوہر نایاب بنا دیا۔
موجودہ دور میں دینی مدارس سے محدثین کی جماعتیں کیوں پیدا نہیں ہو رہیں؟ کیا اس دور میں انہی مدارس سے بڑے بڑے محدثین کا پیدا ہونا ممکن ہے؟ وہ کون سی فکر تھی اور کون سا منہج تھا جس نے محدثین کی نیند میں اڑا دیں؟ اس طرح کے ہزاروں سوالوں کے جوابات کے لیے راقم الحروف کی قیمتی کتاب ” نصیحتیں میرے اسلاف کی“ کا مطالعہ کریں۔