حدیث نمبر: 1040
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " ،

عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے معمر سے، انہوں نے (امام زہری کے بھائی) عبداللہ بن مسلم سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ (بن عمر) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے ساتھ سوال چمٹا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ " مُزْعَةُ " .

مصنف اپنے دوسرے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس میں مذعہ (ٹکڑا کا لفظ نہیں ہے۔)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ ، حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " .

عبیداللہ بن ابی جعفر نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے (مانگنا اس کی عادت بن جاتا ہے) یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1040
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة