حدیث نمبر: 1031
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " ،

عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے خبیب بن عبدالرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبر دی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے اور ایسے دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے (گناہ کی) دعوت دی تو اس (آدمی) نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جانتا اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔“

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَالَ : " وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ ، إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ " .

امام مالک نے خبیب بن عبدالرحمان سے انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ۔۔۔ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔۔۔ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) جس طرح عبید اللہ کی حدیث ہے اور انہوں نے (ایسا آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے کے بجائے) کہا: «رجل معلق بالمسجد اذا خرج منه حتي يعود اليه» ”وہ آدمی جب مسجد سے نکلتا ہے تو اسی کے ساتھ معلق رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں لوٹ آئے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1031
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2391

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل امام وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھاوہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہےوہ دو آدمی جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر الگ ہوتے ہیں (ہر حالت میں ایک دوسرے سے اللہ کے لیے محبت کرتے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2380]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث کا مقصد ان تمام امور خیر کی تلقین اور ترغیب دینا ہے اور امام سے مقصود صاحب منصب عہدہ ہے جس سے وہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اگرچہ درجات و مراتب میں فرق ہے اپنے عہدہ کے مطابق سایہ ملے گا ظل کی اللہ کی طرف نسبت محض تشریف و تعظیم کے لیے ہے جیسے بیت اللہ ناقۃاللہ اصل مقصد اللہ کے عرش کا سایہ ہے جیسا کہ بعض روایات میں اس کی صراحت موجود ہے۔
(منة المنعم ج 2 ص112 حاشیہ نمبر91)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2380 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2391 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے (عرش کے) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2391]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی بچپن سے ہی اس کی تربیت اسلامی خطوط پرہوئی اورجوانی کی آنکھیں کھولتے ہی وہ اللہ کی عبادت کوسمجھتا تھا اورپھروہ اس پرکاربند رہا۔

2؎:
یعنی وہ اس انتظارمیں رہے کہ کب اذان ہواوروہ نمازپڑھنے کے لیے مسجد میں جائے۔

3؎:
یعنی ان کے اکٹھا ہونے اورجدا ہونے کی بنیاد دین ہے، گویا دین کی پابندی انہیں ایک دوسرے سے وابستہ رکھتی ہے اوردین سے انحراف انہیں باہم جدا کر دیتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2391 سے ماخوذ ہے۔