صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ: باب: رخسار پر مارنا، گریبان چاک کرنا، اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا ، مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى ، وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَا : وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ .یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابومعاویہ اور وکیع نے حدیث بیان کی، نیز (محمد بن عبداللہ) ابن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، ان سب (ابومعاویہ، وکیع اور ابن نمیر) نے اعمش سے، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا اہل جاہلیت کی طرح پکارا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ یہ یحییٰ کی حدیث ہے (جو انہوں نے ابومعاویہ کے واسطے سے بیان کی۔) البتہ (محمد) ابن نمیر اور ابوبکر بن ابی شیبہ (جنہوں نے ابومعاویہ اور وکیع دونوں سے روایت کی) نے ”او“ کے بجائے الف کے بغیر ’و‘، (”یا“ کے بجائے ”اور“) کہا ہے۔
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَا : وَشَقَّ وَدَعَا .جریر اور عیسیٰ نے اعمش سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا: ”اور گریبان چاک کیا اور پکارا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
: دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ: جاہلیت کے دور کی پکار کا معنی ہے: نوحہ کرنا، جزع فزع کرنا، اپنے لیے تباہی و بربادی کی دعا کرنا۔
میت کے صحیح یا غلط کارناموں کو یاد کر کے، اس پر چیخنا چلانا، اور بد قسمتی سے یہ کام آج کل مسلمان گھرانوں کی عورتوں میں عام پائے جاتے ہیں۔
أعاذنا الله منها
مصیبت کے وقت عصبیت کو ہوا دینا اور دوسروں کے جذبات کو اس پر ابھارنا دورجاہلیت کے نعرے ہیں۔
اگرانھیں حلال سمجھ کر کیا جائے توانسان دین سے خارج ہوجاتا ہے، بصورت دیگررسول اللہ ﷺ نے ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش کے طور پر فرمایا: ’’وہ مسلمانوں کی روش پر نہیں ہے۔
‘‘ واللہ أعلم۔
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں (کسی کی موت پر) اپنے چہروں کو پیٹتی اور گریبان چاک کر لیتی ہیں اور جاہلیت کی باتیں بکتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ: 1294]
«الْخُدُوْدَ» جمع ہے «خَد» کی، معنی ہے رخسار۔
«الْجُيُوٌبَ» جمع ہے «جَيٌب» کی، معنی ہے گریبان۔
فہم الحدیث:
معلوم ہوا کہ مصیبت و تکلیف کے وقت جزع فزع اور چیخ و پکار کرنا جائز نہیں اور جاہلیت کی پکار (یعنی ہلاکت و بربادی کی دعائیں، بین کرنا، نوحہ کرنا وغیرہ) بھی حرام ہے۔ قرآن میں ہدایت یافتہ انہیں کہا گیا ہے جو مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور زبان سے یہ الفاظ نکالتے ہیں: «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [سورة البقرة: آيت 156]
معلوم ہوا کہ یہ حرکت سخت ناپسندیدہ ہے
(1)
اس حدیث کے معنی یہ نہیں کہ مذکورہ تین کام کرنے سے وعید کا سزاوار ہو گا بلکہ ان تینوں میں سے ہر کام مذکورہ وعید کا باعث ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جو شخص مصیبت کے وقت اپنے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کرے یا جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم سے نہیں۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 285 (103) (2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت گریبان پھاڑنا اور رخسار پیٹنا حرام ہے، کیونکہ یہ اللہ کی تقدیر پر عدم رضا کی دلیل ہے۔
اگر کسی کو اس کی حرمت کا علم ہے، اس کے باوجود اسے حلال سمجھ کر ایسا کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
حضرت سفیان ثوری ؒ مذکورہ حدیث کے متعلق کسی قسم کی توجیہ یا تاویل کرنے سے منع کرتے تھے کہ اس سے وعید کا مقصد فوت ہو جاتا ہے جو لوگوں کو ایسے افعال شنیعہ سے روکنے کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 209/3)
رسول اللہ ﷺ کے ان افعال کے مرتکب لوگوں سے اظہار بے زاری کے معنی یہ ہیں کہ آپ اس شخص کے اس فعل سے راضی اور خوش نہیں ہیں۔
یہ انداز کبیرہ گناہوں کے متعلق اختیار کیا جاتا ہے، چنانچہ مصیبت کے وقت چلانا، نوحہ کرنا، رخسار پیٹنا، گریبان چاک کرنا، منہ نوچنا، بال کھول کر انہیں پھیلانا، واویلا کرنا اور دور جاہلیت کا سا بکواس کرنا اللہ کی تقدیر پر ناراض ہونے کے مترادف ہے، لہذا یہ کام بالاتفاق حرام ہے۔
والله أعلم۔
بہر حال اس سے بھی نوحہ کی حرمت ثابت ہوئی
اس حدیث میں واویلا کرنے کی ممانعت نہیں۔
امام بخاری ؒ نے عنوان قائم کر کے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جسے حضرت ابو امامہ ؓ نے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر جو مصیبت کے وقت اپنا چہرہ نوچتی ہے، گریبان پھاڑتی ہے اور ہلاکت و تباہی کے بول منہ سے کہتی ہے۔
(سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1585)
اس حدیث میں واویلا کرنے کی صراحت ہے کہ مصیبت کے وقت ایسا کرنا ناجائز اور باعث لعنت ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو گریبان پھاڑے، چہرہ پیٹے اور جاہلیت کی ہانک پکارے ۱؎ ہم میں سے نہیں “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 999]
2؎: یعنی ہم مسلمانوں کے طریقے پر نہیں۔
ایسے موقع پر مسلمانوں کے غیرمسلموں جیسے جزع وفزع کے طورطریقے دیکھ کراس حدیث کی صداقت کس قدرواضح ہوجاتاہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ۱؎ جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے (یعنی نوحہ کرے)۔“ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1861]
➋ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو رضامندی سے تسلیم کرنا چاہیے۔ آہ و بکاناشکری کے زمرے میں آتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1584]
فوائد و مسائل:
(1)
دل کا غم اور آنکھوں سے آنسووں کا بہنا صبر کے منافی نہیں۔
البتہ اس کے علاوہ لوگ بے صبری کی وجہ سے جو مختلف قسم کی نامناسب حرکات کرتے ہیں۔
وہ شرعاً ممنوع ہیں۔ 2۔
(2)
اسلام سے پہلے لوگوں میں یہ عادت تھی۔
کہ مرنے والے پر اظہار غم کےلئے بلند آواز سے میت کی تعریفیں کرکے روتے تھے۔
اور گریبان چاک کردیتے تھے۔
اسلام میں ان چیزوں سے منع کردیا گیا ہے۔
(3) (لَیْسَ مِنَّا)
’’وہ ہم میں سے نہیں‘‘ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی حرکات کرنے والا اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ ہمارے طریقے پر نہیں مسلمانوں کا یہ طریقہ نہیں کیونکہ یہ اہل جاہلیت کی غلط عادتوں میں سے ہے۔
ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینا درست ہے، لیکن اگر شہوت پر کنٹرول ہو تو درست ہے لیکن جو شخص کنٹرول نہ کر سکے تو وہ روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ نہ لے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اوپر بہت زیادہ کنٹرول تھا، سبحان اللہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شرعی مسائل بیان کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتی تھیں، بعض لوگ عورت کی آواز کو بھی پردہ خیال کرتے ہیں، جو کہ غلط ہے۔