صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب مَا أَنْفَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِ مَوْلاَهُ: باب: غلام کا اپنے مالک کے مال سے خرچ کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُمْ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَلَا تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ " .ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں (نفلی) روزہ نہ رکھے مگر جب اس کی اجازت ہو اور اس کے گھر میں اس کی موجودگی میں (اپنے کسی محرم کو بھی) اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دے اور اس (عورت) نے اس کے حکم کے بغیر اس کی کمائی سے جو کچھ خرچ کیا تو یقیناً اس کا آدھا اجر اس (خاوند) کے لئے ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
عورت خاوند کے گھر سے عام استعمال کی اشیاء معمولی مقدار میں معاشرتی عرف کے مطابق خرچ کر سکتی ہے اور اس عرفی اجازت سے خاوند کے علم کے بغیر خرچ کیا گیا مال بھی خاوند کے لیے اجرو ثواب کا باعث ہے کیونکہ اس کا کسب کردہ ہے اور عورت بھی خرچ کرنے کے سبب ثواب میں حصہ دار ہے لیکن ہر ایک کا مستقل ثواب ہو گا۔
آدھا آدھا کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ایک ثواب ہے جو دونوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
(2)
کسی اجنبی یا غیر محرم کا کسی کے گھر میں آنا جانا درست نہیں ہے ہاں خاوند کی اجازت سے محرم یا غیر محرم رشتہ دار اس کی موجودگی میں آ سکتا ہے اور اس کی غیر حاضری میں بھی اس کی اجازت سے اس صورت میں آ سکتا ہے جب یہ آمدو رفت کسی خرابی کا باعث نہ ہو، اس طرح عورت رمضان کے علاوہ روزے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نہیں رکھ سکتی تاکہ باہمی حسن معاشرت میں خلل پیدا نہ ہو۔
مراد یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کے حکم کے بغیر اس مال میں سے خرچ کرے جو خاوند نے اس کو دے ڈالا ہے یعنی اپنے ماہوار میں سے جیسے کہ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ عورت اپنے خاوند کا مال صدقہ نہیں کر سکتی مگر ہاں اپنی خوراک میں سے اور ثواب دونوں کو برابر ملے گا۔
وہ خرچ بھی مراد ہے جو عادت کے موافق ہو جسے سن کر خاوند ناراض نہ ہو۔
شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر آنے کی اجازت دینے سے اس کے دل میں بدگمانی پیدا ہونے کا خطرہ ہے جو آئندہ عائلی زندگی میں زہر گھول سکتی ہے، لیکن اس ممانعت سے ضروریات مستثنیٰ ہیں، مثلاً: کسی کا اس گھر میں حق ہو یا وہ کوئی ایسی جگہ ہو جو مہمانوں کے لیے مخصوص ہو۔
(فتح الباري: 369/9)
بعض لوگوں نے عورت کے باپ کو بھی اس سے مستثنیٰ کیا ہے لیکن ہمارے رجحان کے مطابق وہ بھی اس امتناعی حکم میں شامل ہے۔
والله اعلم
اس لئے نفلی عبادت سے فرض کی ادا ئیگی ضروری ہے۔
مرد دن میں اپنی بیوی سے ملاپ چاہے تو عورت کو نفلی روزہ ختم کرنا ہوگا۔
لہٰذ ا پہلے ہی اجازت لے کر اگر روزہ رکھے تو بہتر ہے۔
خاوند کی اطاعت فرض ہے اور نفلی روزہ ایک اضافی عبادت ہے، لہٰذا کسی صورت میں نفل کو فرض پر ترجیح نہیں دی جاسکتی، ہاں اگر شوہر سفر میں ہو تو عورت اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھ سکتی ہے کیونکہ اس وقت شوہر اس سے کوئی خدمت نہیں لے سکتا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 782]
1؎: ((لَا تَصُوْمُ)) نفی کا صیغہ جو نہی کے معنی میں ہے، مسلم کی روایت میں ((لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُوْمَ)) کے الفاظ وارد ہیں، یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر کی موجودگی میں نفلی روزے عورت کے لیے بغیر شوہر کی اجازت کے جائز نہیں، اور یہ ممانعت مطلقاً ہے اس میں یوم عرفہ اور عاشوراء کے روزے بھی داخل ہیں بعض لوگوں نے عرفہ اور عاشوراء کے روزے کو مستثنیٰ کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2458]
روزے کی حالت میں زوجین کے مابین تعلقات زن و شو قائم نہیں ہو سکتے۔
علاوہ ازیں بھوک و پیاس کی وجہ سے طبیعت میں گرانی سی بھی آ جاتی ہے اور عین فطری بات ہے کہ شوہر بالعموم ایسی کیفیت گوارا نہیں کرتے اور اس کے نتائج نا مناسب ہو سکتےہیں۔
اس لیے شریعت نے ان کے تعلقات میں معمولی رخنہ آنے کی بھی اجازت نہیں دی اور عورت کو پابند کیا ہے کہ نفلی روزے کے لیے شوہر کی اجازت حاصل کرے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بیوی کو شوہر کی تسکین کے لیے انتہائی حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے، یہ علائق محض نفسیاتی نہیں بلکہ شرعی بھی ہیں۔