صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب مَا أَنْفَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِ مَوْلاَهُ: باب: غلام کا اپنے مالک کے مال سے خرچ کرنا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : كُنْتُ مَمْلُوكًا ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ " .محمد بن زید نے آبی اللحم (غفاری) رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غلام تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اپنے آقاؤں کے مال میں سے کچھ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور اجر تم دونوں کے درمیان آدھا آدھا (برابر برابر) ہوگا۔“
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا ، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَدَعَاهُ فَقَالَ : " لِمَ ضَرَبْتَهُ " ، فَقَالَ : يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ ، فَقَالَ : " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا " .یزید بن ابی عبید نے کہا: میں نے آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے کر کے خشک کرنے کا حکم دیا، میرے پاس ایک مسکین آ گیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھلا دیا۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا۔ تو انہوں نے مجھے مارا۔ اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا: ”تم نے اسے کیوں مارا؟“ اس نے کہا: میرے حکم کے بغیر میرا کھانا (دوسروں کو) دیتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا۔“ (تم دونوں کو ملے گا)
تشریح، فوائد و مسائل
جو بتوں کے تقرب کے لیے ذبح کیے جاتے تھے۔
اس لیے ان کو ابی اللحم (گوشت کا منکر)
کا نام دیا گیا۔
لیکن افسوس آج مسلمان غیر اللہ کے تقرب اور خوشنودی کے لیے مختلف مزاروں کے لیے نذر و نیاز کے نام حیوان ذبح کرتےہیں اورمسلمان بڑے شوق سے تبرک سمجھ کرکھاتے ہیں۔
عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہو گئی تو اس نے مجھے مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا کھانا (دوسروں کو) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے۔ اور دوسری بار راوی نے کہا: بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ” اس کا ثواب ت [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2538]
(2) ”ثواب دونوں کو ملے گا۔“ البتہ مالک کی اجازت ضروری ہے الا یہ کہ بہت ہی معمولی چیز ہو۔ مالک کو حکم یا رضا مندی کا ثواب اور غلام کو ادائیگی کا ثواب، لیکن ضروری نہیں کہ برابر ہو۔
کیونکہ مالک کی ناراضگی کی صورت میں کوئی چیز جائزنہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جب معاملہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک کو بتا دیا کہ عام معمول و دستور کے مطابق اگر غلام کوئی چیز دے دے تو یہ روا ہے اور دونوں کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اجر ملتا ہے۔
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا (کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2297]
فوائد و مسائل: (1)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے غلاموں کا اس طرح خیال رکھتے تھے جس طرح اولاد کا خیال رکھا جاتا ہے، اس لیے حضرت آبی اللحم ؓ اپنے غلام کو کھانے کے لیے عمدہ چیزیں دے دیتے تھے۔
(2)
حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ کا اپنے غلام کو اس سخاوت سے منع کرنا شفقت کی بنا پر تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ جو چیز انہیں دی جاتی ہے وہ خود کھائیں۔
(3)
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ جذبہ سخاوت کی بنا پر اپنی چیز دوسروں کو دے دیتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا یہ جذبہ پسند فرمایا۔
(4)
ثواب میں شراکت اس وجہ سے ہے کہ سخاوت حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کی تھی لیکن مال حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ کا تھا۔