صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب أَجْرِ الْخَازِنِ الأَمِينِ وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ. باب: خازن امانتدار اور عورت کو صدقہ کا ثواب ملنا جب وہ اپنے شوہر کی اجازت سے خواہ صاف اجازت ہو یا دستور کی راہ سے اجازت ہو صدقہ دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا " ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت گھر کے کھانے سے کسی بگاڑ اور خرابی کے بغیر خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کے سبب اجر ملے گا۔ اور اس کے خاوند کو اس کی کمائی کے سبب اس کا اجر ملے گا۔ اور خازن کو بھی اجر ملے گا۔ وہ ایک دوسرے کے اجر میں کسی قسم کی کمی کا باعث نہیں بنیں گے۔‘‘
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا " .مصنف یہی روایت بیان کرتے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ یہاں ”مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا‘‘ کی جگہ ”من طعام زوجها‘‘ ہے۔ یعنی خاوند کے طعام سے ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا ، وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت خاوند کے گھر سے کسی بگاڑو فساد کےخرچ کرتی ہے تو اس کو اس کی حیثیت کے مطابق اجر ملے گا۔ اس کے خاوند اس کے مقام کے مطابق کیونکہ اس نے کمایا ہے اور بیوی نے خرچ کیا ہے اور خازن کو بھی اس کے اعتبار سے اور اللہ ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔‘‘
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .مصنف اس کے ہم معنی روایت دوسرے استاد سے اعمش ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
خادم کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
مگر بیوی اور خدمتگار میں فرق ہے۔
بیوی بغیر خاوند کی اجازت کے اس کے مال میں سے خیرات کرسکتی ہے، لیکن خدمت گار ایسا نہیں کرسکتا۔
اکثر علماء کے نزدیک بیوی کو بھی اس وقت تک خاوند کے مال سے خیرات درست نہیں جب تک اجمالاً یا تفصیلاً اس نے اجازت نہ دی ہو اور امام بخاری کے نزدیک بھی یہی مختار ہے۔
بعضوں نے کہا یہ عرف اور دستور پر موقوف ہے، یعنی بیوی پکا ہوا کھانا وغیرہ ایسی تھوڑی چیزیں جن کے دینے سے کوئی ناراض نہیں ہوتا‘ خیرات کرسکتی ہے گو خاوند کی اجازت نہ ملے۔
(1)
بیوی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر مال میں تصرف کرے۔
عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ بیوی گھر کی اشیاء میں شوہر کی اجازت سے تصرف کرتی ہے جس سے اس کا شوہر خوش ہوتا ہے۔
(2)
فساد کی دو صورتیں ہیں: ٭ شوہر کی اجازت کے بغیر تصرف کرے۔
٭ اشیاء میں تصرف سے شوہر خوش نہ ہو۔
پھر بیوی اور خادم میں فرق یہ ہے کہ بیوی کا شوہر کے مال میں کچھ نہ کچھ حق ہوتا ہے، کیونکہ وہ گھر کے مال و متاع کی نگران ہے، اس لیے جائز ہے کہ وہ اسراف اور بگاڑ کے بغیر صدقہ کرے، لیکن نوکر اپنے مالک کے سامان میں تصرف کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا، اس لیے اسے صدقہ کرنے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔
امام بخاری ؒ نے اسی لیے بحکم آقا کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔
(فتح الباري: 382/3)
کسی میں إذا تصدقت المرأة ہے کہ کسی میں إذا أطعمت المرأة ہے کسی میں من بیت زوجها ہے کسی میں من طعام بیتها ہے اور ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ تینوں کو برابر ابرابر ثواب ملے گا۔
دوسری روایت میں ہے کہ عورت کو مرد کا آدھا ثواب ملے گا۔
قسطلانی نے کہا داروغہ کو بھی ثواب ملے گا۔
مگر مالک کی طرح اس کو دوگنا ثواب نہ ہوگا۔
(وحیدی)
حتیٰ کہ بیوی بھی جو شوہر کی اجازت سے اس کے مال سے صدقہ خیرات کرے، وہ بھی ثواب کی مستحق ہوگی۔
اس میں ایک طرح سے خرچ کرنے کی ترغیب ہے اور دیانت وامانت کی تعلیم وتلقین ہے۔
آیت شریفہ: لَن تَنَالُوا البِرَّ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔
(1)
اشیائے خورد و نوش سے ایسی چیزیں مراد ہیں جو دیر تک رکھنے سے خراب ہونے کا اندیشہ ہو یا ان کے علاوہ ایسی خیرات جو خاوند کو ناگوار نہ گزرے اور نہ اسے زیادہ نقصان ہی پہنچنے کا خطرہ ہو، کیونکہ حدیث میں غیر مفسدہ کی شرط ہے، یعنی اصلاح کی نیت ہو، گھر کو بے آباد کرنا اور اجاڑنا مقصود نہ ہو، نیز گھر کی اصلاح بیوی اور میاں کے باہمی تعاون ہی سے ہو سکتی ہے۔
خازن کا بھی یہی حکم ہے، کیونکہ مال اسی کے قبضے میں ہوتا ہے۔
افساد اور اسراف سے دونوں کو اجتناب کرنا چاہیے۔
(2)
حدیث میں خادم کا لفظ نہیں ہے اور عنوان میں خدمت گزار کا ذکر ہے۔
اس کی تطبیق یوں ہے کہ امام بخاری ؒ نے خازن اور بیوی پر خدمت گزار کو قیاس کیا ہے، کیونکہ خدمت گزاری ان سب میں علت مشترکہ ہے۔
الغرض مالک مال، خزانچی اس کی حفاظت اور بیوی صحیح مصرف میں خرچ کرنے اور صدقہ و خیرات نکالنے کی وجہ سے اللہ کے ہاں اجروثواب کے حقدار ہوں گے۔
اسی طرح خرچ کرنے کی ترغیب اور امانت و دیانت کی تعلیم و تلقین بھی ہے۔
(3)
ابن رشید نے کہا ہے کہ امام بخاری نے اس عنوان کے ذریعے سے تنبیہ کی ہے کہ خازن، خادم اور بیوی، حقیقی مالک کے امین ہیں۔
انہیں مالک کی اجازت ہی سے اس کے مال میں تصرف کرنا چاہیے، وہ اجازت عرفا ہو یا اجمالا یا تفصیلا۔
(فتح الباري: 371/3)
بعض دفعہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خاوند کی اجازت حاصل کرے۔
مگر معمولی کھانے پینے کی چیزوں میں ہر وقت اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
ہاں خازن یا خادم کے لیے بغیر اجازت کوئی پیسہ اس طرح خرچ کردینا جائز نہیں ہے۔
جب بیوی اور خادم بایں طور خرچ کریں گے تو اصل مالک یعنی خاوند کے ساتھ وہ بھی ثواب میں شریک ہوں گے۔
اگرچہ ان کے ثواب کی حیثیت الگ الگ ہوگی۔
حدیث کامقصد بھی سب کے ثواب کو برابر قرار دینا نہیں ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں خاوند کی اجازت کا ذکر نہیں کیا، جیسا کہ عنوان سابق میں خادم کے متعلق حکمِ آقا کا ذکر کیا تھا۔
غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ بیوی اور خادم میں کچھ فرق ہے، یعنی بیوی اپنے شوہر کے مال میں براہ راست تصرف کا حق رکھتی ہے۔
عام طور پر گھر سے تھوڑی بہت اشیاء دینے سے خاوند ناراض نہیں ہوتا، لیکن خادم وغیرہ کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا، تاہم بیوی کا شوہر سے عمومی اجازت لینا بہتر ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ بیوی اگر خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ کرتی ہے تو اسے نصف اجر ملتا ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2065)
دوسری روایت میں ہے کہ ایسے حالات میں دوسرا نصف خاوند کو ملے گا۔
(صحیح البخاري، النفقات، حدیث: 5360) (2)
امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی حدیث کے تین طرق بیان کیے ہیں، حدیث شعبہ جو پہلے ذکر کی ہے، اس کا متن مکمل بیان نہیں کیا جسے علامہ اسماعیلی نے بایں الفاظ ذکر کیا ہے: جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے خرچ کرتی ہے تو اللہ اس کا اجر لکھ دیتا ہے۔
خاوند اور خازن کو بھی اس کے مثل اجر دیا جاتا ہے۔
ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے اجر کو کم نہیں کرے گا۔
خاوند کو کمائی اور عورت کو خرچ کرنے کا اجر دیا جائے گا بشرطیکہ وہ گھر اجاڑنے کا ارادہ نہ کرے۔
(فتح الباري: 383/3)
”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ کہا اے اللہ کے رسول اور غلہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ تو ہمارے افضل مالوں سے ہے۔“
تخریج: (ابوداؤد (3565) ترمذي (670) ابن ماجه (2398) مسند احمد 5/267 مسند طيالسي (1127) المصنف لعبد الرزاق (16621) التمهيد 1/230 بيهقي 4/193-194 شرح السنة 6/204)
معلوم ہوا کہ جب ایسا صدقہ و خیرات جو غلے سے کم قدر و قیمت والا ہو وہ خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کر سکتی، تو جو غلہ افضل اموال سے ہے وہ کیسے خرچ کر سکتی ہے۔ [تحفة الاحوذي 3/288]
اگر عورت کو معلوم ہو کہ صدقہ و خیرات کرنے سے مرد روکتا نہیں بلکہ پسند کرتا ہے، تو پھر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اذا تصدقت المراة من بيت زوجها كان لها به اجر وللزوج مثل ذلك وللخازن مثل ذلك ولا ينقص كل واحد منهم من اجر صاحبه شيئا بما كست ولها بما انفقت»
”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرتی ہے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور شوہر کو بھی اسی طرح اجر ملتا ہے اور خزانچی کو بھی اس کی مثل اجر ملتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے اجر کو کم نہیں کرتا۔ مرد کے لیے اس کی کمائی کا اجر اور عورت کے لیے اس کے خرچ کرنے کا اجر ہے۔“ [ترمذي 671 نسائي كبري 2/35]
عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت شوہر کے گھر سے خوشی کے ساتھ عطیہ دے اور عطیہ میں اسراف کرنے والی نہ ہو اس کے لیے شوہر کی مثل اجر ہے اور عورت کے لیے وہ ہے جو اس نے اچھی نیت کی اور خازن کو بھی اسی کی مثل اجر ہے۔“ [ترمذي 672 نسائي كبري 5/379]
علامہ مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں رقمطراز ہیں۔
«وهذا محمول على اذن الزوج لها بذلك صريحا او دلالة» [تحفة الاحوذي 3/390]
”یہ عورت کے لیے شوہر کی اجازت پر محمول ہے خواہ یہ اجازت صراحۃ ہو یا دلالۃ۔“
مطلب یہ ہے کہ مرد نے عورت کو واضح طور پر خرچ کرنے کی اجازت دے رکھی ہو یا اس کے عمل سے معلوم ہو کہ یہ عورت کے خرچ کرنے پر وہ ناراض نہیں ہوتا۔
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ 4/435 میں یہ قول بھی ہے کہ یہ معاملہ اہل حجاز کی عادت کے موافق ہے۔
ان کی عادت تھی کہ انہوں نے اپنی بیویوں اور نوکروں کو اجازت دے رکھی تھی کہ وہ مہمان نوازی کریں۔
سائل، مساکین اور پڑوسیوں کو کھلائیں، پلائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس اچھی عادت اور عمدہ خصلت پر شوق دلایا ہے۔
لہٰذا عورت کو شوہر کی طرف سے جب اجازت ہو، خواہ یہ اجازت وضاحت کے ساتھ ہو یا کسی اور طریقے سے تو اسے خرچ کرنا چاہیے۔
مرد کی طرح عورت کو بھی اجر ملے گا۔
مرد کو کمائی کرنے کی وجہ سے اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے۔
ہمارے گھروں میں مرد حضرات کی عادت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور خواتین اللہ کی راہ میں عطیات و صدقات خرچ کرتی رہتی ہیں اور شوہر اس پر ناراض نہیں ہوتے۔
بہرکیف عورت کو شوہر کی اجازت و رضا مندی حاصل کر لینی چاہیے۔ «والله اعلم بالصواب»
https: //urdufatwa.com/view/1/21459
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1685]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا، اور اس کے شوہر کو بھی۔ اور خازن کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، اور ان میں سے کوئی دوسرے کا ثواب کم نہ کرے گا، شوہر کو اس کے کمانے کی وجہ سے ثواب ملے گا، اور بیوی کو اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2540]
(2) عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے بشرطیکہ خاوند کی طرف سے صراحتاً یا عرفاً اجازت ہو۔ عرفاً اجازت سے مراد رضا مندی ہے۔ اس کے لیے علم ہونا کوئی ضروری نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے (کی روایت میں ” خرچ کرے “ کے بجائے ” جب عورت کھلائے “ ہے) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2294]
فوائد و مسائل: (1)
گھر میں کما کر لانا مرد کا فرض ہے۔
(2)
اگرچہ کمائی مرد کی ہوتی ہے تاہم عورت کو خرچ کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔
(3)
عورت کو خرچ کرتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ مال فضول ضائع نہ کیا جائے اور ناجائز کاموں میں خرچ نہ کیا جائے، اور وہاں خرچ نہ کیا جائے۔
جہاں خاوند پسند نہ کرتا ہو کیونکہ اس سے گھر کے مالی حالات میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور آپس کے تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں۔
(4)
خزانچی سے مراد وہ شخص ہے جو مالک کی اجازت سے گھر کی ضروریات کے لیے خرچ کرتا ہے، خواہ وہ ملازم ہو یا گھر کا کوئی فرد، مثلاً: چھوٹا بھائی یا بیٹا وغیرہ۔
(5)
خازن کو یہ ثواب اس وقت ملے گا جب وہ خوشی سے خرچ کرے، اگر وہ صرف حکم کی تعمیل کے طور پر کسی مستحق کو دیتا ہے لیکن دل میں ناراضی محسوس کرتا ہے کہ میرا مالک یہاں کیوں خرچ کرتا ہے تو اسے ثواب نہیں ملے گا کیونکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب عورت اپنے گھر کے مال سے فضول خرچی کئے بغیر خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کے بدلے میں اجر و ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کیلئے کمانے کا ثواب اور اسی طرح خزانچی کیلئے بھی اجر ہے ہر ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 514]
غَیرَ مُفسِدَۃٍ یعنی فضول خرچی، اسراف وتبذیر کے بغیر، نیز یہ خرچ کرنا خاوند اور اس کے زیرِ کفالت افراد کے اخراجات پر اثر انداز نہ ہو۔ بیوی کو خاوند کے مال سے خرچ کرنے کی اجازت کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ شوہر اپنی بیوی کو صریح طور پر اجازت دے دے یا اشارتًا جیسا کہ معاشرے میں یہ چیز معروف و معلوم ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر معمولی چیزوں کو خیرات میں دے دینا قابلِ مؤاخذہ تصور نہیں کیا جاتا۔ ایسا سمجھاجاتا ہے کہ گویا اس کی بیوی کو اجازت دے دی گئی ہے۔
فوائد و مسائل 514:
➊ عورت کو خاوند کی اجازت کے بغیر اتنا صدقہ و خیرات نہیں کرنا چاہیے کہ خاوند کے گھر کا معاشی نظام متأثر ہو کر برباد ہو جائے اور شوہر کے لیے معاشی مشکلات اور دشواریاں کھڑی ہو جائیں۔
➋ معمولی صدقہ، مثلًا: سائل کو روٹی دے دی یا تھوڑا بہت آٹا دے دیا یا پڑوسی کو تھوڑا بہت نمک مرچ دے دی وغیرہ، اس صدقے میں بیوی کے ساتھ ساتھ اس کا شوہر کما کر لانے کی وجہ سے، خزانچی اس کی حفاظت کرنے کی وجہ سے اور خادم خدمت گاری کی بنا پر اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔ کسی کے اجر میں سے کمی نہیں کی جائے گی، ہر ایک کو اس کا پورا پورا اجر ملے گا۔
اس حدیث سے انفاق فی سبیل اللہ کی فضیات ثابت ہوتی ہے۔ اپنے خاوند کی ملکیت سے جب کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دیتی ہے، تو تین شخصوں کو برابر ثواب ملتا ہے: خاوند جس نے پیے کمائے، بیوی جس نے خرچ کیے اور خزانچی جس نے رقم جمع کی اور اس کی حفاظت کی۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ بیوی اپنے خاوند کے گھر سے مناسب مقدار میں چیز صدقہ کر سکتی ہے۔ بیوی کو اپنے خاوند کی طبیعت کا علم ہوتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کثرت صدقہ کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہو جائے، اس کو حدیث میں ”غیر مفسدة “ (بغیر فساد کے) تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن اگر بیوی اپنی الگ جائداد کی مالک ہوتو اس سے جتنا مرضی خرچ کر سکتی ہے۔