حدیث نمبر: 1022
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ رَجُلٌ : لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ : أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا ، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا، اس آدمی نے کہا: اے اللہ تیری حمد! زانیہ پر (صدقہ ہوا) میں ضرور صدقہ کروں گا، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے: ایک مالدار پر صدقہ کیا گیا۔ اس نے کہا: اے اللہ تیری حمد! مالدار پر (صدقہ ہوا) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے: چور پر صدقہ کیا گیا۔ تو اس نے کہا: اے اللہ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے، زانیہ پر، مالدار پر، اور چور پر (صدقہ ہوا)۔ اس کو (خواب میں) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہو چکا، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس (صدقے) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کر لے اور شاید مالدار عبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے (خود) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آجائے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1022
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی نے کہا میں آج رات صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں رکھ دیا تو لوگ صبح باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے اس آدمی نے کہا: اے اللہ! تو ہر حالت میں قابل تعریف ہے زانیہ کو صدقہ دے بیٹھا ہوں آج میں ضرورصدقہ کروں گا پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکل اور اسے ایک مالدار کو تھ دیا صبح... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2362]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اخلاص نیت سے جو صدقہ کیا جائے وہ اللہ کے ہاں شرف قبولیت حاصل کر لیتا ہے اگرچہ وہ غیر شعوری طور پر غیر مستحق آدمی کو دے دیا جائے یہ صدقہ نفلی تھا لیکن اگر فرض صدقہ (زکاۃ)
مالدار کو دے دیا جائے۔
اگرچہ فقیر سمجھ کر ہی دیا جائے تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کو دوبارہ ادا کرنا پڑے گا لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صدقہ ادا ہو گیا اس لیے دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور حدیث کا تقاضا یہی ہے کیونکہ صدقہ کا لفظ عام واجبی اور نفلی دونوں پر اس کا اطلاق کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2362 سے ماخوذ ہے۔