صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الْمَنِيحَةِ: باب: دودھ والا جانور مفت دینے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ نَهَى فَذَكَرَ خِصَالًا ، وَقَالَ : " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً ، غَدَتْ بِصَدَقَةٍ ، وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے (کچھ اشیاء سے) منع کیا، پھر چند خصلتوں کا ذکر کیا اور فرمایا: ”جس نے دودھ پینے کے لئے جانور دیا تو اس (اونٹنی، گائے وغیرہ) نے صدقے سے صبح کی اور صدقے سے شام کی، یعنی اپنے صبح کے دودھ سے اور اپنے شام کے دودھ سے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند خصلتوں سے منع فرمایا: اور فرمایا: ’’جس نے دودھ دینے والا جانور عاریۃً دیا تو اس کا صبح کا دودھ صدقہ ہو گا اور اس کا شامل کا دودھ صدقہ ہو گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2358]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
صَبُوح: صبح کا دودھ۔
(2)
غَبُوق: شام کا دودھ۔
یہ دونوں لفظ صدقہ سے بدل ہونے کی بنا پر مجرور ہوں گے یا ظرف بن کر منصوب۔
فوائد ومسائل: کسی ضرورت مندی محتاج خاندان کو عاریۃ دودھ پینے کے لیے جانور دینا اتنا ہی اجروثواب کا باعث ہے جتنا صبح و شام کا دودھ صدقہ بنتا ہے۔
جس سے صبح و شام اجر ملتا ہے۔
اسی طرح ضرورت مند گھرانہ کو پھل دار درخت کا عطیہ عارضی طور پر یا مستقل طور پر عنایت کر دینا بھی اجرو ثواب کا بہت بڑا سبب ہے۔
(1)
صَبُوح: صبح کا دودھ۔
(2)
غَبُوق: شام کا دودھ۔
یہ دونوں لفظ صدقہ سے بدل ہونے کی بنا پر مجرور ہوں گے یا ظرف بن کر منصوب۔
فوائد ومسائل: کسی ضرورت مندی محتاج خاندان کو عاریۃ دودھ پینے کے لیے جانور دینا اتنا ہی اجروثواب کا باعث ہے جتنا صبح و شام کا دودھ صدقہ بنتا ہے۔
جس سے صبح و شام اجر ملتا ہے۔
اسی طرح ضرورت مند گھرانہ کو پھل دار درخت کا عطیہ عارضی طور پر یا مستقل طور پر عنایت کر دینا بھی اجرو ثواب کا بہت بڑا سبب ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2358 سے ماخوذ ہے۔