حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ : " أَلَا رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک) پہنچاتے تھے: ”سن لو، کوئی آدمی کسی خاندان کو (ایسی دودھ دینے والی) اونٹنی دے جو صبح کو بڑا پیالہ بھر دودھ دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر دودھ دے تو یقیناً اس (اونٹنی) کا اجر بہت بڑا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1019
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے ہیں آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا کوئی آدمی ہے جو کسی خاندان کو ایسی دودھ دینے والی اونٹنی دودھ پینے کے لیے دے جو صبح ایک بڑا پیالہ دودھ بھر کر دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر کر دے۔ بلا شبہ اس کا اجر بہت بڑا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2357]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
منيحة: اس عطیہ اور تحفہ کو کہتے ہیں جو عارضی اور وقتی طور پر کسی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دیا جائے اور پھر واپس لے لیا جائے۔
(2)
عس، القدح الكبير: بڑا پیالہ۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2357 سے ماخوذ ہے۔