حدیث نمبر: 1013
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، واللفظ لواصل ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَتَلْتُ ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي ، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ : فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین اپنے جگر گوشے سونے اور چاندی کے ستونوں کی شکل میں اگل دے گی (زمین اپنے تمام خزانے باہر نکالے گی) تو قاتل آ کر (دیکھے گا) اور کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا رشتہ داری توڑنے والا آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قطع رحمی کی، چور آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر اس مال کو چھوڑدیں گے۔ اس میں سے کچھ بھی نہ لیں گے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2208

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زمین اپنے جگر گوشے سونے اور چاندی کے ستونوں کی شکل میں اگل دے گی (زمین اپنے تمام خزانے باہر نکالے گی) تو قاتل آ کر (دیکھے گا) اور کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا رشتہ داری توڑنے والا آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قطع رحمی کی، چور آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر اس مال کو چھوڑدیں گے۔ اس میں سے کچھ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2341]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ان تمام احادیث کا تعلق مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری دور سے ہے جب قیامت کا زمانہ قریب آئے گا جنگوں کے نتیجہ میں مرد ہلاک ہو جائیں گے عورتیں رہ جائیں گی۔
زمین اپنے خزانے اگل دے گی لوگوں کے دلوں میں مال و دولت کی ہوس ختم ہو جائے گی اور آخرت کی فکر بڑھ جائے گی اگرچہ اس کی کچھ جھلک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں دیکھی جا چکی ہے لیکن اصل ظہور آخری دور میں ہو گا۔
جب برکات ارضی کا پورا پورا ظہور ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1013 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2208 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´فتنوں سے متعلق مزید پیش گوئی۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2208]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ حال کہ قبرکے عذاب کا اتنا خوف اورڈرلاحق ہو کہ اسے دیکھ کر زاروقطار رونے لگیں باوجودیکہ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ہمارا یہ حال ہے کہ اس عذاب کو بھولے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ منازلِ آخرت میں سے پہلی منزل ہے، اللہ رب العالمین ہم سب کو قبرکے عذاب سے بچائے آمین۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2208 سے ماخوذ ہے۔