صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ: باب: ہر نیکی صدقہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ، قَالَ : " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ ، إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ ؟ ، قَالَ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ " .حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: "اے اللہ کے رسول! زیادہ مال رکھنے والے اجر و ثواب لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں (جو ہم نہیں کرسکتے)۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کرسکو؟ بے شک ہر دفعہ «سبحان اللہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «اللہ اکبر» کہنا صدقہ ہے۔ ہر دفعہ «الحمد للہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «لا إله إلا اللہ» کہنا صدقہ ہے، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور (بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے) تمھارے عضو میں صدقہ ہے۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بتاؤ، اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔"
تشریح، فوائد و مسائل
دثور: دثر کی جمع ہے مال کثیر کو کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: شریعت کی مقرر کردہ حددود کے مطابق جو کام بھی کیا جائے بشرطیکہ مقصود شریعت کی پابندی اور اپنے فریضہ کی ادائیگی ہو تو ہر کام اجرو ثواب کا باعث ہے حتی کہ طبعی اور جنسی ضرورت کو پورا کرنا بھی۔
صحیح نیت کی صورت میں ثواب کا باعث ہے جیسا کہ شریعت کی حدود و قیود کو پامال کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنا گناہ اور نقصان کا سبب ہے۔
اس طرح نیکی کا ہر کام اور عمل ذکر واذکار امربالمعروف اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے یعنی اجرو ثواب کا سبب ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر بالغ انسان کو ہر دن صبح کم ازکم دو رکعات اپنی صحت و سلامتی کے شکرانہ کے طور پر پڑھ لینی چاہئیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی صحت و سلامتی کو برقرار رکھے اور اس کا ہر عضو اور ہر جوڑ شر وفساد اور توڑ پھوڑ سے محفوظ رہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ۲؎؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1285]
سورج طلوع ہوتے ہی جو نماز پڑھی جائے وہ ’’اشراق“ اور جو سورج کے قدرے بلند ہونے پر پڑھی جائے ’’ضحیٰ“ (چاشت) کہلاتی ہے، حقیقت میں یہ ایک ہی نماز ہے، اس کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات ہیں۔
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ”ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1286]
توضیح: یہ دو رکعتیں اس صدقہ لازمہ سے کفایت کرتی ہیں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ فرائض سے بھی کفایت ہو جاتی ہے۔
«. . . - يصبح على كل سلامى من أحدكم صدقة، فكل تسبيحة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وكل تكبيرة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة، ويجزئ من ذلك ركعتان يركعهما من الضحى . . .»
”. . . سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ہر عضو پر صدقہ (واجب) ہے، ہر مرتبہ «سبحان الله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «الحمدلله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «لا إله إلا الله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «الله اكبر» کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب سے وہ دو رکعتیں کافی ہو جائیں گی جو کوئی شخص چاشت کے وقت ادا کرے گا . . .“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة: 486]
دوسری احادیث میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تین سو ساٹھ (360) جوڑ عطا کئے ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ جوڑ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے، اگر ہڈیوں کے جوڑ سلب کر لیے جائیں تو انسان کا جینا دو بھر ہو جائے گا، کھانے پینے کے معاملے میں اس کا انحصار دوسروں پر ہو گا، قضائے حاجت کے معاملہ میں وہ کسی کا محتاج ہو گا، چلن پھرن، اٹھک بیٹھک، غرضیکہ وہ ہر چیز میں دوسروں کی نظر کرم اور دست شفقت کا منتظر ہو گا۔ لیکن کیا ہم ان عظیم نعمتوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں یا دن بدن اللہ تعالیٰ کے مقروض بنتے جا رہے ہیں؟ صرف دو رکعتوں سے 360 جوڑوں کا ٹیکس ادا ہو جاتا ہے۔