کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: خطبہ کے دوران نماز کا بیان
حدیث نمبر: 39246
٣٩٢٤٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب ابنة أم سلمة عن أم سلمة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم تختصمون إليّ (١) ولعل بعضكم أن يكون (ألحن بحجته) (٢) من بعض، وإنما أقضي بينكم على نحو مما أسمع منكم، فمن قضيت له من حق أخيه شيئًا فلا يأخذه، فإنما أقطع له قطعة من (نار) (٣) يأتي بها يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ میری طرف جھگڑے لے کر آتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض ، بعض سے بہتر اپنی حجت بیان کرسکتا ہو۔ اور میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں ۔ پس جس کے لئے میں اس کے بھائی کے حصہ مں ں سے (کسی شئی کا) فیصلہ کروں تو وہ اس کو نہ لے۔ کیونکہ (اس صورت میں) میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں جس کے ساتھ وہ بروز قیامت حاضر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39246
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٨٠)، ومسلم (٧١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39246، ترقيم محمد عوامة 37642)
حدیث نمبر: 39247
٣٩٢٤٧ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن عبد اللَّه بن رافع عن أم سلمة قالت: جاء رجلان من الأنصار يختصمان إلى رسول اللَّه ﷺ في مواريث بينهما قد ⦗٣٢٩⦘ درست ليست بينهما بينة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم (تختصمون) (١) إليَّ وإنما أنا بشر، ولعل بعضكمَ أن يكون ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي بينكم، فمن قضيت له من حق أخيه شيئا فلا يأخذه فإنما أقطع له قطعة من النار يأتي بها (٢) يوم القيامة"، قال: فبكى الرجلان وقال كل واحد منهما: حقي لأخي يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أما إذ فعلتما فاذهبا (فاقتسما) (٣) وتوخيا الحق، ثم ليحلل كل واحد منكما صاحبه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ انصار میں سے دو آدمی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں باہم ایک قدیم وراثت کا ، جس پر ان کے پاس گواہ نہیں تھے۔ جھگڑا لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک تم لوگ میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو اور میں تو ایک بشر ہوں ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض ، بعض سے بہتر اپنی حجت بیان کرسکتا ہو اور میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں پس جس شخص کے لئے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کسی شئی کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ (اس صورت میں) میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں جس کے ساتھ وہ بروز قیامت حاضر ہوگا۔ ام سلمہ کہتی ہیں۔ پس دونوں آدمی رو پڑے اور ہر ایک نے ان میں سے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میر احق میرے بھائی کے لئے ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اس پر راضی ہو تو جاؤ اور تقسیم کرلو اور ایک دوسرے کا حق پورا پورا ادا کرو اور ہر ایک اپنے بھائی کو معاف کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، وأخرجه أحمد (٦٧١٧)، وأبو داود (٣٥٨٤)، وأبو يعلي (٦٨٩٧)، والحاكم ٤/ ٩٥، وإسحاق (١٨٢٣)، والطحاوي ٤/ ١٥٥، والدارقطني ٤/ ٢٣٨، وابن الجارود (١٠٠٠)، والبيهقي ٦/ ٦٦، والبغوي (٢٥٠٨)، والطبراني ٢٣/ (٦٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39247، ترقيم محمد عوامة 37643)
حدیث نمبر: 39248
٣٩٢٤٨ - حدثنا محمد بن بشر العبدي حدثنا محمد بن عمرو حدثنا أبو سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما أنا بشر، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، فمن قضيت له من حق أخيه فإنما أقطع له قطعة من النار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں ایک بشر ہوں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض ، بعض سے بہتر انداز میں اپنی حجت بیان کرسکتا ہو۔ پس جس کو میں اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ کر کے دوں تو میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اگر دو جھوٹے گواہ قاضی کے ہاں کسی آدمی کی بیوی کو طلاق پر گواہی دیں اور قاضی ان کی شہادت کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان تفریق کر دے تو جھوٹے گواہوں میں سے کسی ایک کو عورت کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39248
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٨٣٩٤)، وابن ماجه (٢٣١٨)، وابن حبان (٥٠٧١)، والطحاوي ٤/ ١٥٤، وأبو يعلي (٥٩٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39248، ترقيم محمد عوامة 37644)