٣٩٢٤٢ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: جاء سليك الغطفاني والنبي ﷺ يخطب يوم (جمعة) (١)، فقال له: "صليت؟ " قال: لا، قال: "صل ركعتين تَجوَّزْ فيهما" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بیان فرماتے ہیں کہ سلیک غطفانی حاضر ہوئے درآنحالیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : تم نے نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا۔ نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو رکعات پڑھو اور ان میں تخفیف کرلو۔
٣٩٢٤٣ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز قال: إذا جئت يوم الجمعة (و) (١) الإمام يخطب فإن شئت صليت ركعتين، وإن شئت جلست.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی مجلز سے منقول ہے کہ جب تم جمعہ کے دن آؤ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اگر تم چاہو تو دو رکعات پڑھ لو اور اگر چاہو تو بیٹھ جاؤ۔
٣٩٢٤٤ - حدثنا أزهر عن ابن عون قال: كان الحسن يجيء والإمام يخطب فيصلي ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حسن تشریف لائے جب کہ امام خطبہ دے رہا ہوتا تھا تو وہ دو رکعات نماز ادا کرتے۔
٣٩٢٤٥ - حدثنا هشيم أخبرنا منصور و (أبو) (١) (حرة) (٢) ويونس عن الحسن قال: جاء سليك الغطفاني والنبي ﷺ يخطب يوم الجمعة ولم يكن صلى الركعتين، فأمره النبي أن يصلي ركعتين يتجوز فيهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ سلیک غطفانی آئے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ انہوں نے دو رکعات ادا نہیں کی تھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ دو رکعات پڑھیں اور ان میں تخفیف کریں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : (دوران خطبہ) نماز نہیں پڑھے گا۔