حدیث نمبر: 39235
٣٩٢٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق عن سعيد بن (السباق) (١) عن أبيه عن سهل بن حنيف قال: كنت ألقى من المذي شدة، فكنت أكثر الغسل منه، فذكرت ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "إنما يكفيك من ذلك ⦗٣٢٦⦘ الوضوء"، قال: قلت: يا رسول اللَّه، فكيف بما يصيب ثوبي؟ قال: "إنما يكفيك كف (من) (٢) ماء تنضح به من ثويك حيث ترى أنه أصاب" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے بڑی تکلیف تھی اور میں اس کی وجہ سے بکثرت غسل کرتا تھا۔ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں مذی سے وضو ہی کفایت کر دے گا۔ حضرت سہل فرماتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جو میرے کپڑوں کو لگ گئی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک چلو پانی تجھے کافی ہے۔ اس کو تو اپنے کپڑوں کے اس حصہ پر چھڑک دے جہاں تیرے گمان کے مطابق مذی لگی ہے۔
حدیث نمبر: 39236
٣٩٢٣٦ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: إذا أجنب الرجل في ثوبه فرأى فيه أثرًا فليغسله، فإن لم ير فيه أثرا فلينضحه بالماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی کپڑے میں جنبی ہوجائے تو پھر وہ اس کپڑے میں اثرات دیکھے تو اس کپڑے کو دھو لینا چاہیے اور اگر کپڑے میں اثرات نہ دیکھے تو پھر اس پر پانی (ہی) چھڑک دے۔
حدیث نمبر: 39237
٣٩٢٣٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق قال: قال رجل من الحي لأبي ميسرة: إني (أجنب) (١) في ثوبي فأنظر فلا أرى شيئا، قال: (فإذا) (٢) اغتسلت فتلفف به وأنت رطب فإن (ذلك) (٣) (يجزئك) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ قبیلہ کے ایک آدمی نے ابو میسرہ سے کہا۔ میں اپنے کپڑوں میں (ہی) جنبی ہوا پس میں نے (کپڑوں کو) دیکھا تو مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی ؟ ابو میسرہ نے کہا۔ جب تم غسل کرو اور کپڑے پہن لواس حال میں کہ تم تر ہو تو تمہارے لئے یہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 39238
٣٩٢٣٨ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم في الرجل يحتلم في الثوب فلا يدري أين موضعه؟ قال: ينضح الثوب بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں جس کو کپڑوں میں احتلام ہوا ہو اور اس کو احتلام کی جگہ معلوم نہ ہو۔ منقول ہے کہ یہ آدمی کپڑے پر پانی چھڑک لے گا۔
حدیث نمبر: 39239
٣٩٢٣٩ - حدثنا محبوب القواريري عن مالك بن حبيب عن سالم قال: سأله رجل قال: (إني) (١) (أحتلم) (٢) في ثوبي، قال: اغسله، قال: خفي علي، قال: رشه بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے پوچھا۔ مجھے میرے کپڑوں میں احتلام ہوا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : کپڑوں کو دھو لو۔ سائل نے کہا۔ وہ (احتلام والا حصہ) مجھ پر مخفی ہوگیا ہے۔ حضرت سالم نے فرمایا : اس پر پانی چھڑک دو ۔
حدیث نمبر: 39240
٣٩٢٤٠ - حدثنا وكيع عن هشام (١) عن أبيه عن (زبيد) (٢) بن الصلت أن عمر نضح ما لم (ير) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیید بن صلت روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نہ دکھائی دینے کی صورت میں چھڑکاؤ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 39241
٣٩٢٤١ - حدثنا غندر عن شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: إن (أضللتَ) (١) (فانضح) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعیدبن مسیب سے منقول ہے کہ اگر تمہیں (موضع احتلام) بھول جائے تو چھڑکاؤ کرلو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اس کپڑے پر چھڑکاؤ نہیں کرے گا۔ پانی (کا چھڑکاؤ) نجاست کو زیادہ ہی کرے گا (کم نہیں کرے گا)