کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: درندوں کی کھالوں پر بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 39181
٣٩١٨١ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء قال: فإن النبي ﷺ يخطب فقال للناس: "اجلسوا"، فسمعه عبد اللَّه بن مسعود وهو على الباب فجلس فقال: "يا عبد اللَّه، ادخل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : بیٹھ جاؤ ! حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات سُنی۔ اس وقت وہ دروازہ پر تھے۔ تو وہ بیٹھ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے عبد اللہ ! اندر آ جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39181
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عطاء تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39181، ترقيم محمد عوامة 37577)
حدیث نمبر: 39182
٣٩١٨٢ - حدثنا عيسى بن يونس عن إسماعيل عن قيس قال: جاء أبي والنبي ﷺ (١) يخطب، فقام بين يديه في الشمس، فأمر به فحول إلى الظل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ میرے والد حاضر ہوئے ۔ تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سورج میں ہی کھڑے ہوگئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں سایہ کی طرف منتقل کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39182
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، وأخرجه أحمد (١٥٥١٧)، وأبو داود (٤٨٢٢)، وابن خزيمة (١٤٥٣)، وابن حبان (٢٨٠٠)، والحاكم ٤/ ٢٧١، والبخاري في الأدب المفرد (١١٧٤)، والطيالسي (١٢٩٨)، والدولابي ١/ ٢٤، والمزي ٣٣/ ٢١٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39182، ترقيم محمد عوامة 37578)
حدیث نمبر: 39183
٣٩١٨٣ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: إن كانوا (ليسلمون) (١) على الإمام وهو على المنبر فيرد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ لوگ امام کو سلام کرتے تھے جبکہ وہ منبر پر ہوتا تھا۔ اور امام جواب بھی دیتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39183
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39183، ترقيم محمد عوامة 37579)
حدیث نمبر: 39184
٣٩١٨٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن خالد عن ابن سيرين قال: كانوا يستأذنون الإمام وهو على المنبر، فلما كان زياد وكثر ذلك قال: من وضع يده على أنفه فهو إذنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین روایت کرتے ہیں کہ لوگ امام سے اجازت طلب کرتے تھے درانحالہک امام منبر پر ہوتا تھا۔ پس جب زیاد خلیفہ تھا اور یہ استئندان کثرت سے ہونے لگا تو زیاد نے کہا۔ جو شخص اپنا ہاتھ اپنے ناک پر رکھ لے تو یہ اس کو اجازت (کے قائم مقام) ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39184
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39184، ترقيم محمد عوامة 37580)
حدیث نمبر: 39185
٣٩١٨٥ - حدثنا حفص عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: جاء سليك الغطفاني والنبي ﷺ يخطب يوم الجمعة، فقال له: "صليت؟ " قال: لا، قال: "صل ركعتين تجوز فيهما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت سلیک غطفانی تشریف لائے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا۔ تم نے نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا۔ نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو رکعتیں تخفیف کے ساتھ پڑھ لو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : امام اپنے خطبہ کے دوران کسی سے گفتگو نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39185
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، وأخرجه مسلم (٨٧٥)، وأحمد (١٤٤٠٥)، وأصله عند البخاري (٩٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39185، ترقيم محمد عوامة 37581)