کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: صبح کی نماز کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا کرنے کا بیان
❮
❯
٣٩١٣٥ - حدثنا (حفص) (١) عن أشعث عن الحسن قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الصلاة بين القبور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کے درمیان نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39135
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، وأخرجه العقيلي ٢/ ١٥٦، والترمذي في العلل ١/ ٧٧، وأخرجه من حديث أنس: ابن حبان (٢٣١٨)، وأبو يعلى (٢٧٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39135، ترقيم محمد عوامة 37531)
٣٩١٣٦ - حدثنا حفص عن (حميد) (١) عن أنس قال: أبصرني عمر وأنا أصلي إلى قبر، فجعل يقول: يا أنس القبر، فجعلت أرفع رأسي انظر إلى القمر، فقالوا: إنما يعني القبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے دیکھا اور میں اس وقت ایک قبر کے پاس نماز پڑھ رہا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا : اے انس ! قبر (دیکھو) میں نے سر اٹھا کر قمر کو دیکھا تو لوگوں نے کہا : آپ قبر کہہ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٥٨١)، والبيهقي ٢/ ٤٣٥، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٣٣٩)، والحافظ في التعليق ٢/ ٢٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39136، ترقيم محمد عوامة 37532)
٣٩١٣٧ - حدثنا جرير عن منصور عن أبي ظبيان (عن) (١) عبد اللَّه بن عمرو ⦗٣٠٠⦘ قال: لا يصلى إلى القبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبر کی طرف رُخ کر کے نماز نہ پڑھی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39137، ترقيم محمد عوامة 37533)
٣٩١٣٨ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء عن أبيه وخيثمة قالا: لا يصلي إلى حائط حمام ولا وسط مقبرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء اپنے والد سے اور خیثمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں نے فرمایا : حمام کی دیوار کی طرف (منہ کر کے) نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ اور نہ ہی قبرستان کے درمیان۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39138
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39138، ترقيم محمد عوامة 37534)
٣٩١٣٩ - حدثنا حفص عن الحجاج عن الحكم عن الحسن (العرني) (١) قال: الأرض كلها مساجد إلا ثلاثة: المقبرة والحمام والحش.
مولانا محمد اویس سرور
حسن عرنی فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد (سجدہ گاہ) ہے مگر تین جگہیں : قبرستان، حمام، بیت الخلائ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39139
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39139، ترقيم محمد عوامة 37535)
٣٩١٤٠ - حدثنا (١) حفص وأبو معاوية عن عاصم عن ابن سيرين عن أنس أنه كره أن يصلي على الجنازة في المقبرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس کے بارے میں منقول ہے کہ وہ قبرستان میں جنازہ کی نماز کو (بھی) مکروہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39140
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39140، ترقيم محمد عوامة 37536)
٣٩١٤١ - حدثنا غندر عن شعبة عن (المغيرة) (١) عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يصلوا بين القبور.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ وتابعین قبروں کے درمیان نماز پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اگر آدمی (قبرستان میں) نماز پڑھ لے تو یہ نماز اس کو کفایت کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39141
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39141، ترقيم محمد عوامة 37537)