حدیث نمبر: 39078
٣٩٠٧٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه عن النبي ﷺ قال: "من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہے ۔ تو یہ مال فروخت کنندہ کا ہوگا۔ اِلّا یہ کہ مشتری کے لئے اس کی شرط لگائی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 39079
٣٩٠٧٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عمن سمع جابر بن عبد اللَّه يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی غلام بیچے اور غلام کے پاس مال ہو تو یہ غلام کا مال فروخت کنندہ کا ہوگا اِلّا یہ کہ اس مال کو خریدار کے لئے شرط ٹھہرایا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 39080
٣٩٠٨٠ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: قال علي: من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع، (قضى به رسول اللَّه ﷺ) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی غلام بیچے اور اس غلام کا کوئی مال ہو تو یہ مال بائع کا ہوگا۔ ہاں اگر خریدار کے لئے اس مال کی شرط لگائی گئی ہو (تو پھر خریدار کا ہوگا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 39081
٣٩٠٨١ - حدثنا عبدة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (من باع عبدا) (١) وله مال فماله لسيده إلا أن يشترط الذي اشتراه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی غلام کو فروخت کرے اور اس غلام کا کوئی مال ہو تو یہ مال اس کے آقا کا ہوگا۔ ہاں اگر یہ مال خریدار کے لئے شرط ٹھہرایا گیا ہو (تو خریدار کا ہوگا)
حدیث نمبر: 39082
٣٩٠٨٢ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن عطاء وابن أبي مليكة قالا: قال رسول اللَّه ﷺ: "من باع عبدا فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع، يقول: اشتريه منك وماله" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی غلام فروخت کرے تو اس (غلام) کا مال فروخت کنندہ کا ہوگا۔ اِلّا یہ کہ مشتری (خریدار) اس کی شرط لگالے۔ (مثلاً ) کہے۔ میں تم سے یہ غلام اور اس کا مال خریدتا ہوں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اگر غلام کا مال ثمن سے زیادہ ہو تو پھر جائز نیں ہے۔