٣٩٠٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جعفر بن محمد عن أبيه أن النبي ﷺ قضى بيمين وشاهد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر فیصلہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : اور علی رضی اللہ عنہ مرتضیٰ نے (بھی) تمہارے سامنے اسی پر فیصلہ فرمایا۔
٣٩٠٧٣ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن سيف بن سليمان عن قيس بن سعد عن عمرو بن دينار عن ابن عباس أن النبي ﷺ قضى بيمين وشاهد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر فیصلہ فرمایا۔
٣٩٠٧٤ - حدثنا ابن علية عن سوار (عن) (١) ربيعة قال: قلت له: في شهادة شاهد ويمين الطالب، قال: وجد في كتب سعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوار، حضرت ربیعہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے ایک گواہ اور قسم کے بارے میں پوچھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : حضرت سعد کے خط میں یہ چیز موجود تھی۔
٣٩٠٧٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن عجلان عن أبي الزناد [أن عمر بن عبد العزيز كتب إلى عبد الحميد أن يقضي باليمين مع الشاهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزناد بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے عبد الحمید کو خط لکھا کہ گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ ابو الزناد کہتے ہیں کہ مجھے ان کے شیوخ یا اکابر میں سے کسی شیخ نے یہ خبر دی کہ حضرت شریح نے اسی پر فیصلہ فرمایا ۔
٣٩٠٧٦ - قال (أبو) (١) الزناد] (٢): (وأخبرني) (٣) شيخ (من) (٤) مشيختهم أو من كبرائهم أن شريحا قضى بذلك.
٣٩٠٧٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن حصين قال: قَضَى عليَّ عبدُ اللَّه ابن عتبة بشهادة شاهد ويمين الطالب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عتبہ نے مجھ پر (میرے خلاف) ایک گواہ اور ایک قسم کی بنیاد پر فیصلہ کیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ جائز نہیں ہے۔