حدیث نمبر: 39038
٣٩٠٣٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: أخبرني زيد ابن ثابت أن النبي ﷺ رخص في العرايا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا (درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کے ہدیہ کو کٹی ہوئی کھجوروں سے بدلنا) میں رخصت دی ہے۔
حدیث نمبر: 39039
٣٩٠٣٩ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير قال: حدثني (بُشَيْر) (١) بن يسار أنه سمع سهل بن أبي حثمة ورافع بن (٢) خديج يقولان: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (المحاقلة) (٣) والمزابنة إلا أصحاب العرايا، فإنه قد أذن لهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن ابی خدیج فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا لیکن عرایا والوں کو رخصت دی تھی۔ (محاقلہ : کٹی ہوئی کھیتی کو لگی ہوئی کھیتی کا عوض بنانا) (مزابنہ : کٹے ہوئے پھل کو لگے ہوئے پھل کا عوض بنانا) ۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ درست نہیں ہے۔