کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: پیالہ کو ٹوٹنا اور اس کے ضمان کا بیان
❮
❯
٣٩٠٣٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: أخبرني زيد ابن ثابت أن النبي ﷺ رخص في العرايا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا (درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کے ہدیہ کو کٹی ہوئی کھجوروں سے بدلنا) میں رخصت دی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39038
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٠)، ومسلم (١٥٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39038، ترقيم محمد عوامة 37437)
٣٩٠٣٩ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير قال: حدثني (بُشَيْر) (١) بن يسار أنه سمع سهل بن أبي حثمة ورافع بن (٢) خديج يقولان: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (المحاقلة) (٣) والمزابنة إلا أصحاب العرايا، فإنه قد أذن لهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن ابی خدیج فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا لیکن عرایا والوں کو رخصت دی تھی۔ (محاقلہ : کٹی ہوئی کھیتی کو لگی ہوئی کھیتی کا عوض بنانا) (مزابنہ : کٹے ہوئے پھل کو لگے ہوئے پھل کا عوض بنانا) ۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39039
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٤)، ومسلم (١٥٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39039، ترقيم محمد عوامة 37438)