کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 39035
٣٩٠٣٥ - حدثنا شريك عن قيس بن وهب عن رجل من بني (سواءة) (١) قال: قلت لعائشة: أخبريني عن خلق النبي ﷺ، فقالت: أوما تقرأ القرآن: ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ [القلم: ٤]، قالت: فإن النبي ﷺ مع أصحابه فصنعت له طعاما وصنعت له حفصة طعامًا، فسبقتني حفصة، قالت: فقلت للجارية: ⦗٢٧٢⦘ انطلقي فأكفئي قصعتها، قالت: فأهوت أن تضعها بين يدي النبي ﷺ فكفأتها فانكسرت القصعة وانتثر الطعام، قالت: فجمعها النبي ﷺ وما فيها من الطعام على الأرض فأكلوا، ثم بعث بقصعتي فدفعها النبي ﷺ إلى حفصة فقال: "خذوا ظرفا مكان ظرفكم، وكلوا ما فيها"، قالت: فما رأيته في وجه رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بنی سواء ہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق خبر دیجئے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟ { وَإِنَّک لَعَلَی خُلُقٍ عَظِیمٍ } فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کے لئے کھانا بنایا اور حضرت حفصہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا بنایا۔ حضرت حفصہ نے مجھ سے پہل کرلی۔ فرماتی ہیں کہ میں نے لونڈی سے کہا۔ جاؤ اور حفصہ کا پیالہ الٹ دو ۔ فرماتی ہیں کہ حضرت حفصہ نے لونڈی کو اشارہ کیا کہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دے۔ پس انہوں نے پیالہ کو الٹ دیا۔ پیالہ ٹوٹ گیا اور کھانا بکھر گیا۔ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ کو جمع کیا اور جو کچھ اس میں سے زمین پر گرا تھا اس کو بھی اس میں جمع کیا پھر سب نے کھایا۔ پھر میرا پیالہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ حفصہ کی طرف بھیج دیا اور فرمایا : اپنے برتن کی جگہ یہ برتن لے لو۔ اور جو اس میں ہے اس کو کھالو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ میں نے اس واقعہ (کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ میں کچھ نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 39036
٣٩٠٣٦ - حدثنا يزيد عن حميد عن أنس قال: أهدى بعض أزواج النبي ﷺ إلى النبي ﷺ قصعة فيها ثريد وهو في بيت بعض أزواجه، فضربت القصعة، فوقعت فانكسرت، فجعل النبي ﷺ يأخذ الثريد فيرده إلى القصعة بيده ويقول: "كلوا، غارت أمكم"، ثم انتظر حتى جاءت قصعة صحيحة، فأخذها فأعطاها صاحبة القصعة المكسورة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک پیالہ ثرید کا بطور ہدیہ کے بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس وقت) اپنی کسی (دوسری) زوجہ کے گھر میں تھے۔ تو ان زوجہ صاحبہ نے پیالہ کو مارا وہ گرا اور ٹوٹ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثرید کو پکڑ کر پیالہ میں اپنے ہاتھ سے جمع کرنا شروع کیا اور فرمایا : کھاؤ ! تمہاری ماں غارت ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتظار فرمایا یہاں تک کہ صحیح پیالہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لیا اور ٹوٹے پیالہ کی مالکن کو عطا فرما دیا۔
حدیث نمبر: 39037
٣٩٠٣٧ - حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين عن (شريح) (١) قال: من كسر عودا فهو له وعليه مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں جو کوئی لکڑی توڑ دے تو وہ ٹوٹی ہوئی لکڑی توڑنے والے کی ہوگی اور اس کے ذمہ اس کا مثل لازم ہوگا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول اس کے برخلاف ذکر کیا گیا ہے کہ : اور کہا ہے کہ اس پر اس کی قیمت ہوگی۔