حدیث نمبر: 39022
٣٩٠٢٢ - حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: كنا في المغازي لا يؤمر علينا إلا أصحاب رسول اللَّه ﷺ، فكنا بفارس علينا رجل من مزينة من أصحاب النبي ﷺ (فغلت) (١) علينا المسان حتى كنا نشتري المسن بالجذعتين والثلاث، فقام فينا هذا الرجل فقال: إن هذا اليوم أدركنا فغلت علينا المسان حتى كنا نشتري المسن بالجذعتين والثلاث، فقام فينا النبي ﷺ فقال: "إن المسن يوفى مما يوفى منه الثني" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جہاد میں ہوتے تھے اور ہم پر صحابہ کرام میں سے ہی کوئی امیر ہوتا تھا ۔ پس ہم فارس میں تھے اور ہم قبیلہ مزینہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیر تھے۔ ہمارے پاس دو سالہ گائے کے بچے (قربانی کے لئے) مہنگے ہوگئے یہاں تک کہ ہم دو یا تین کے جذعہ (ایک سالہ یا ایک سالہ گائے) کے بدلہ میں ایک مُسِن (دو سالہ بچہ) خریدتے تھے ۔ تو یہ (صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ دن ہم پر بھی آیا تھا کہ ہمیں دو سالہ بچے مہنگے مل رہے تھے یہاں تک کہ ہم (بھی) دو یا تین جذعہ دے کر مُسِن خریدتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ مُسِنّ جانور اس جگہ پورا ہے جہاں مثنی پورا ہے۔
حدیث نمبر: 39023
٣٩٠٢٣ - حدثنا قاسم بن مالك عن عاصم بن كليب عن أبيه عن رجل من مزينة أن النبي ﷺ ضحى في السفر (١).
مولانا محمد اویس سرور
مزینہ کے قبیلہ کے ایک صاحب روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت سفر میں قربانی کی۔
حدیث نمبر: 39024
٣٩٠٢٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان لا يرى بأسا إذا سافر الرجل أن يوصي أهله أن يضحوا عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے منقول ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی سفر کرتے وقت اپنے گھر والوں کو اپنی طرف سے قربانی کی وصیت کرے۔ اور (امام) ابو حنہفط کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : مسافر پر قربانی لازم نہیں ہے۔