٣٩٠١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن ابن أبي ليلى عن الحكم قال: بعث النبي ﷺ معاذا وأمره أن يأخذ من كل ثلاثين تبيعا أو تبيعة، ومن كل أربعين مسنة، فسألوه عن فضل ما بينهما، فأبى أن يأخذ حتى سأل النبي ﷺ فقال: "لا تأخذ شيئا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ (زکوۃ کی وصولی) ہر تیس گائیوں پر ایک مؤنث یا مذکر تبیعہ (ایک سالہ بچہ) کو لے۔ اور ہر چالیس گائیوں پر ایک دو سالہ گائے کا بچہ لے۔ لوگوں نے آپ سے ان دونوں کے درماان کے بابت سوال کیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے تک کچھ بھی لینے سے انکار فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم (دو نصابوں کے مابین پر) کچھ نہ وصول کرو۔
٣٩٠١٨ - حدثنا عبد الأعلى عن داود بن أبي هند عن الشعبي قال: ليس (فيها) (١) شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ فاضل مقدار میں کچھ لازم نہیں ہے۔
٣٩٠١٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم، قلت: إن كانت خمسين بقرة؟ قال الحكم: فيها مسنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم سے پوچھا : میں نے کہا : اگر پچاس گائے ہوں تو ؟ حکم نے جواب دیا : اس میں بھی دو سالہ بچہ ہی ہے۔
٣٩٠٢٠ - حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن سالم عن الشعبي عن علي قال: ليس في النَّيِّف شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فاضل مقدار میں کچھ لازم نہیں۔
٣٩٠٢١ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طاوس أن معاذا قال: ليس في الأوقاص شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ دو نصابوں کے مابین مقدار پر کچھ لازم نہیں ہے۔ ٍ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : زیادتی کے حساب سے اس میں بھی زکوٰۃ ہے۔