کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کتے کو پالنے کا بیان
حدیث نمبر: 39017
٣٩٠١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن ابن أبي ليلى عن الحكم قال: بعث النبي ﷺ معاذا وأمره أن يأخذ من كل ثلاثين تبيعا أو تبيعة، ومن كل أربعين مسنة، فسألوه عن فضل ما بينهما، فأبى أن يأخذ حتى سأل النبي ﷺ فقال: "لا تأخذ شيئا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ (زکوۃ کی وصولی) ہر تیس گائیوں پر ایک مؤنث یا مذکر تبیعہ (ایک سالہ بچہ) کو لے۔ اور ہر چالیس گائیوں پر ایک دو سالہ گائے کا بچہ لے۔ لوگوں نے آپ سے ان دونوں کے درماان کے بابت سوال کیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے تک کچھ بھی لینے سے انکار فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم (دو نصابوں کے مابین پر) کچھ نہ وصول کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39017
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الحكم تابعي، وابن أبي ليلى سيء الحفظ، وأخرجه مالك في المدونة ٢/ ٣١١، وعبد الرزاق (٦٨٤٨)، وقد ورد من طريق الحكم عن طاوس عن ابن عباس، أخرجه الدارقطني ٢/ ٩٤، والبيهقي ٤/ ٩٩، وابن عبد البر في التمهيد ٢/ ٢٧٤، وابن حزم ٦/ ٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39017، ترقيم محمد عوامة 37416)
حدیث نمبر: 39018
٣٩٠١٨ - حدثنا عبد الأعلى عن داود بن أبي هند عن الشعبي قال: ليس (فيها) (١) شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ فاضل مقدار میں کچھ لازم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39018
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39018، ترقيم محمد عوامة 37417)
حدیث نمبر: 39019
٣٩٠١٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم، قلت: إن كانت خمسين بقرة؟ قال الحكم: فيها مسنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم سے پوچھا : میں نے کہا : اگر پچاس گائے ہوں تو ؟ حکم نے جواب دیا : اس میں بھی دو سالہ بچہ ہی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39019
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39019، ترقيم محمد عوامة 37418)
حدیث نمبر: 39020
٣٩٠٢٠ - حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن سالم عن الشعبي عن علي قال: ليس في النَّيِّف شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فاضل مقدار میں کچھ لازم نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39020
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ محمد بن سالم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39020، ترقيم محمد عوامة 37419)
حدیث نمبر: 39021
٣٩٠٢١ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طاوس أن معاذا قال: ليس في الأوقاص شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ دو نصابوں کے مابین مقدار پر کچھ لازم نہیں ہے۔ ٍ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : زیادتی کے حساب سے اس میں بھی زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39021
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، وأخرجه الدارقطني ٢/ ٩٩، والطبراني ٢٠/ (٢٤٩)، وورد مرفوعًا، أخرجه مالك في المدونة ٢/ ٣١١، والطبرانى ٢٠/ (٣٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39021، ترقيم محمد عوامة 37420)