کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سب سے پہلے کون سا عمل کس نے کیا؟
حدیث نمبر: 38797
٣٨٧٩٧ - حدثنا بن الوشاء حدثنا أبو عبد اللَّه محمد بن إبراهيم بن مسلم بن زياد مولى بني هاشم حدثنا محمد بن عمرو بن بكر قال: حدثني يحيى بن الضريس حدثنا عمرو عن جابر عن زاذان عن سلمان قال: حدثني الطيب المبارك (١) رسول اللَّه ﷺ قال: "أول ما يبشر به المؤمن بروح وريحان وجنة نعيم، وإن أول ما يبشر به المؤمن يقال له: أبشر وليَ اللَّه، قدمت خير مقدم، غفر اللَّه لمن ⦗٢٠٢⦘ (شيعك) (٢) "، -قال الشيخ محمد بن إبراهيم أبو عبد اللَّه: لم يرو هذا الحديث إلا هذا الشيخ الواحد- واستجاب اللَّه لمن استغفر لك (وقبل) (٣) ممن شهد لك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو سب سے پہلے خوشبو، ریحان اور ہمیشہ کی جنت کی خوشخبری دی جائے گی۔ مومن کو پہلی خوشخبری دیتے ہوئے کہا جائے گا کہ اے اللہ کے ولی ! تجھے خوشخبری ہو۔ تو بہترین جگہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے جو تیرے پیچھے چلے۔ ابو عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو صرف ایک شیخ نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا کو قبول کرے جو تیرے لئے استغفار کرتے ہیں اور اللہ ان لوگوں کی بات قبول کرے جو تیرے حق میں گواہی دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38797
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عمرو هو ابن شمر متروك، وأخرجه أبو الشيخ في الثواب كما في اللآلئ المصنوعة ٢/ ٣٥٨، وأبو القاسم بن منده في كتاب الأهوال كما في الدر المنثور ٨/ ٣٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38797، ترقيم محمد عوامة 37198)
حدیث نمبر: 38798
٣٨٧٩٨ - حدثنا مسلمة (حدثنا) (١) محمد بن عبد اللَّه بن محمد بن يوسف المكي البغدادي بالقلزم قال: حدثني أبي ﵀ قال: حدثنا أبي محمد ابن يوسف قال: حدثنا أبو داود سليمان بن عمرو النخعي حدثنا سعيد بن إياس عن علقمة قال (عبد اللَّه) (٢) ابن عباس: أول من اتخذ الكلب نوح، قال: يا رب أمرتني أن أصنع الفلك فأنا في صناعته أصنع أياما، فيجيئوني بالليل فيفسدون، كل ما عملت أفسدوه فمتى يلتئم لي ما أمرتني به، قد (طال) (٣) علي أمري، فأوحى اللَّه إليه: يا نوح اتخذ كلبًا يحرسك، فأتخذ نوح كلبًا، فكان يعمل بالنهار وينام بالليل، فإذا جاءه قومه ليفسدوا ما (عمل) (٤) (ينبحهم) (٥) الكلب فينتبه نوح، فيأخذ الهراوة لهم ويثب عليهم فيهربون منه، فالتأم له ما أراد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کتا سب سے پہلے حضرت نوح نے پالا۔ انہوں نے کہا کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے حکم دیا کہ میں کشتی بناؤں۔ میں دن بھر کشتی بناتا ہوں پھر وہ رات کو آکر اسے خراب کردیتے ہیں۔ جو کام میں کرتا ہوں وہ اسے خراب کردیتے ہیں۔ میرا کام مجھ پر بہت لمبا ہوگیا ہے ! اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی طرف وحی بھیجی کہ اے نوح ! اپنی کشتی کی حفاظت کے لئے ایک کتا رکھ لو۔ حضرت نوح نے ایک کتا رکھ لیا۔ حضرت نوح نے دن کو کام کیا اور رات کو سو گئے۔ جب ان کی قوم کے نافرمان لوگ کشتی کو خراب کرنے آئے تو کتا بھونکنے لگا۔ اس پر حضرت نوح جاگ گئے۔ اور ان پر ٹوٹ پڑے جس سے وہ سب لوگ بھاگ گئے۔ اس طرح حضرت نوح اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38798
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): موضوع؛ سليمان بن عمرو النخعي وضاع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38798، ترقيم محمد عوامة 37199)
حدیث نمبر: 38799
٣٨٧٩٩ - حدثنا مسلمة حدثنا أبو علي الحسن بن منصور البغدادي حدثنا [أبو سلمة (يعني) (١) ابن إسماعيل المنقري حدثنا أبان يعني بن يزيد العطار قال: أخبرنا قتادة] (٢) عن الحسن عن أنس بن حكيم عن أبي هريرة أن النبي ﷺ قال: "أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة يحاسب (بصلاته) (٣)، فإن صلحت فقد أفلح وأنجح، وإن (فسدت) (٤) فقد خاب وخسر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا اگر وہ پوری نکل آئی تو آدمی کامیاب وکامران ہوگا اور اگر نماز خراب ہوگئی تو وہ ناکام اور خسارے میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38799
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38799، ترقيم محمد عوامة 37200)
حدیث نمبر: 38800
٣٨٨٠٠ - (حدثنا) (١) (مسلمة) (٢) (حدثنا) (٣) ابن الوشاء حدثنا بكار بن قتيبة القاضي حدثنا روح بن عبادة القيسي حدثنا شعبة عن عاصم الأحول قال: سمعت أبا عثمان النهدي يقول: سمعت سعد بن مالك وأبا بكرة يقولان: (سمعنا) (٤) رسول اللَّه ﷺ يقول: "من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فإن الجنة عليه حرام" قال: وكان سعد بن مالك أول من رمى بسهمه في سبيل اللَّه عز ⦗٢٠٤⦘ وجل قال: وكان أبو (بكرة) (٥) أول من (تسور) (٦) على رسول المنذر ﷺ في وفد ثقيف (٧). تم والحمد للَّه (حق حمده) (٨) (٩)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص خود کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے جنت اس شخص پر حرام ہے۔ حضرت سعد بن مالک وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اللہ کے راستہ میں تیر چلایا۔ حضرت ابو بکرہ وہ پہلے شخص ہیں جو بنو ثقیف کے وفد میں سے سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38800
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38800، ترقيم محمد عوامة 37201)