حدیث نمبر: 38757
٣٨٧٥٧ - حدثنا عفان حدثنا حماد قال: أخبرني الأزرق بن قيس عن يحيى بن يعمر عن رجل من أصحاب النبي ﷺ أن النبي ﷺ قال: "أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته، فإن كان أتمها كتبت له تامة، وإن لم تكن تامة قال: انظروا هل تجدون لعبدي من تطوع فأكملوه بما ضيع (من) (١) فريضته، ثم الزكاة، ثم (تؤخذ) (٢) الأعمال على حسب ذلك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اگر نماز پوری نکل آئی تو ٹھیک اگر پوری نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو کہ اس کے نامہ اعمال میں نفل ہیں۔ نفلوں کے ذریعے اس کے فرضوں کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ پھر زکوٰۃ کا حساب ہوگا۔ پھر باقی اعمال کا حساب اسی طرح ہوگا۔
حدیث نمبر: 38758
٣٨٧٥٨ - حدثنا عبد الرحيم وعيسى عن هشام عن ابن سيرين عن أنس قال: أول سلب خمس في الإسلام سلب البراء بن مالك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلی سلب جس کا اسلام میں خمس دیا گیا وہ براء بن مالک کی سلب تھی۔
حدیث نمبر: 38759
٣٨٧٥٩ - حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن حميد عن أبي الطفيل [عن عبد اللَّه بن عمرو قال: أول من يخرج أهل (مكة من) (١) مكة القردة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ، مکہ سے سب سے پہلے بندروں کو نکالیں گے۔
حدیث نمبر: 38760
٣٨٧٦٠ - حدثنا وكيع حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن أبي زياد عن أبي الطفيل] (٢) عامر ابن واثلة: سألت ابن عباس عن السعي بين (الصفا) (٣) والمروة فقال: (أول) (٤) (من) (٥) فعله إبراهيم (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن واثلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ابراہیم نے سب سے پہلے سعی کی۔
حدیث نمبر: 38761
٣٨٧٦١ - حدثنا (١) بكر بن عبد الرحمن حدثنا عيسى (بن) (٢) المختار عن محمد ابن أبي ليلى عن حبيب عن سعيد بن جبير أنه قال: أول زمرة (تدخل) (٣) الجنة الذين يحمدون اللَّه في السراء والضراء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جنت میں سب سے پہلے وہ لوگ داخل ہوں گے جو خوشی اور تکلیف ہر حال میں اللہ کی تعریف کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38762
٣٨٧٦٢ - حدثنا أسود حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي حُرَّة الرقاشي عن عمه قال: كانت (آخذًا) (١) بزمام ناقة رسول اللَّه ﷺ في أوسط أيام التشريق أذود عنها الناس، فقال: "يا أيها الناس، ألا إن كل مال وماثرة كانت في الجاهلية تحت قدمي هذه إلى يوم القيامة، وإن أول دم موضوع: دم ربيعة بن الحارث ابن عبد المطلب، وإن اللَّه قضى أن أول ربا موضوع: ربا العباس بن عبد المطلب، لكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایام تشریق میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو تھاما ہوا تھا اور لوگوں کو اس سے دور کررہا تھا۔ آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو ! ہر مال اور ہر نشان جو جاہلیت میں تھا وہ قیامت تک کے لئے میرے قدموں کے نیچے ہے۔ سب سے پہلا خون جو معاف کیا گیا وہ ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا خون ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ پہلا سود جو معاف ہوا ہے وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ تمہارے لئے تمہارے پورے پورے مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 38763
٣٨٧٦٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال: خطبنا ابن عباس بالبصرة فقال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے میری قبر کھولی جائے گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔
حدیث نمبر: 38764
٣٨٧٦٤ - حدثنا الأحمر عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان عمر أول شيء يقع منه إلى الأرض (ركبتاه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نماز میں حضرت عمر سب سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 38765
٣٨٧٦٥ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير ﴿خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ قال: خلق آدم ﵊ ثم نفخ فيه الروح وأول ما نفخ في ركبتيه فذهب ينهض فقال: ﴿خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ [الأنبياء: ٣٧].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر قرآن مجید کی آیت { خُلِقَ الإِنْسَاْن مِنْ عَجَلٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا، پھر ان میں روح پھونکی گئی، جب ان کے گھٹنوں میں روح پھونکی گئی تو وہ اٹھ کر کھڑے ہونے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ { خُلِقَ الإِنْسَان مِنْ عَجَلٍ }۔
حدیث نمبر: 38766
٣٨٧٦٦ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا زهير عن أبي إسحاق عن الأسود عن ابن مسعود أول سورة قرأها رسول اللَّه ﷺ (على الناس) (١): ﴿وَالنَّجْمِ﴾ (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو سورت سب سے پہلے پڑھی وہ سورة والنجم تھی۔
حدیث نمبر: 38767
٣٨٧٦٧ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن مجاهد كان يقال: الصبر عند أول صدمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ صبر صدمے کے شروع میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 38768
٣٨٧٦٨ - حدثنا يزيد عن شعبة عن قتادة عن الحسن قال: أول من عرف ⦗١٩٢⦘ بالبصرة ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بصرہ کا تعارف سب سے پہلے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کرایا۔
حدیث نمبر: 38769
٣٨٧٦٩ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن هنيدة بن خالد الخزاعي قال: أول رأس أهدي في الإسلام: رأس عمرو بن الحَمِق أهدي إلى (معاوية) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہنیدہ بن خالد خزاعی کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا سر جو بھیجا گیا وہ عمرو بن حمق کا سر تھا، جو حضرت معاویہ کی طرف بھیجا گیا۔
حدیث نمبر: 38770
٣٨٧٧٠ - حدثنا الفضل حدثنا أبو إسرائيل قال: أخبرني بعض أصحابنا أن طلحة كان أول من بايع عليًا، فرآه أعرابي فقال: أمر لا يتم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسرائیل کہتے ہیں کہ مجھے کسی نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر سب سے پہلے حضرت طلحہ نے بیعت کی۔ انہیں ایک دیہاتی نے دیکھا تو کہا کہ یہ کام پورا نہیں ہوگا۔ فضل کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسرائیل سے کہا کہ یہ کس وجہ سے کہا ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے ہاتھ کی وجہ سے۔ (حضرت طلحہ کا ہاتھ غزوہ احد میں شل ہوگیا تھا)
حدیث نمبر: 38771
٣٨٧٧١ - فقلت لأبي إسرائيل: من أي شيء؟ قال: من أمر يده.
حدیث نمبر: 38772
٣٨٧٧٢ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي سنان قال: حدثني شيخ عن عمرو ابن مرة قال: أول من شَرّط الشُرَط عمرو بن العاص، فلما مرض مرضه الذي مات فيه أرسل إلى شرطه فقال: خذوا سلاحكم (وكراعكم) (١) وائتوني، فلما أتوه قال: إني إنما كنت أعدكم لمثل هذا اليوم، فهل تستطيعون أن تردوا عني شيئًا مما أنا فيه، فقالوا: سبحان اللَّه، تقول هذا وقد كان رسول اللَّه ﷺ يستشيرك ويؤمرك على الجيوش، (فقال) (٢): وما يدريكم لعل رسول اللَّه ﷺ كان يتألفني بذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے پہرے داروں کی شرط حضرت عمرو بن عاص نے لگائی۔ جب وہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے پہرے داروں کے لئے پیغام بھجوایا کہ اپنا اسلحہ اور حفاظتی سامان لے کر میرے پاس آجاؤ۔ جب وہ آگئے تو حضرت عمرو نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھ سے اس چیز کو دور کرسکو جس کا میں شکار ہونے لگا ہوں یعنی موت کا اور میں نے تمہیں اسی دن کے لئے تو مقرر کیا تھا۔ انہوں نے کہا سبحان اللہ ! آپ یہ بات فرما رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے مشورہ لیتے تھے اور آپ کو لشکروں کانگران بناتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم ؟ کیا پتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا دل رکھنے کے لئے ایسا کرتے ہوں۔
حدیث نمبر: 38773
٣٨٧٧٣ - حدثنا عبد الرحيم عن طلحة بن عمرو قال: سمعت عطاء يقول: أول ما نزل تحريم الخمر ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ (١)﴾ [البقرة: ٢١٩] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے لئے سب سے پہلے یہ آیت نازل ہوئی { یَسْأَلُونَک عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمَ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ }۔
حدیث نمبر: 38774
٣٨٧٧٤ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثني (موسى) (١) قال: أخبرني محمد بن (عمرو) (٢) بن علي عن علي بن أبي طالب قال: أول من دفن بالبقيع عثمان بن مظعون ثم اتبعه إبراهيم بن (محمد) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جنۃ البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون کو دفن کیا گیا۔ پھر ان کے بعد حضرت ابراہیم بن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن کیا گیا۔
حدیث نمبر: 38775
٣٨٧٧٥ - حدثنا حفص عن الأعمش عن حبيب عن أبي عبد الرحمن قال: قال عبد اللَّه: إذا رأيتم (الحدث) (١) فعليكم بالأمر الأول (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی نئی چیز کو وجود میں آتا دیکھو تو پہلی چیز پر عمل کرتے رہو۔
حدیث نمبر: 38776
٣٨٧٧٦ - حدثنا مالك قال: حدثني سهل بن شعيب قال: حدثني فراس بن يحيى قال: أصبت (في) (١) سجن الحجاج ورقًا منقوطا بالنحو، وكان أول نقط رأيته، فأتيت به الشعبي فأريته إياه فقال: اقرأ عليه ولا تنقطه بيدك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فراس بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کے قید خانے میں ایک صفحہ دیکھا جس پر نقطے لگائے گئے تھے۔ وہ پہلے نقطے تھے جو میں نے دیکھے۔ میں وہ ورق لے کر حضرت شعبی کے پاس آیا اور انہیں دکھایا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنی طرز پر چلتے رہو اور اپنے ہاتھ سے نقطے نہ لگاؤ۔
حدیث نمبر: 38777
٣٨٧٧٧ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) حدثنا محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن ⦗١٩٤⦘ أبي بكر وابن أبي نجيح قالا: (أول) (٢) من سن الصلاة عند القتل خبيب (بن) (٣) عدي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر اور حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ قتل کے وقت نماز پڑھنے کا دستور سب سے پہلے حضرت خبیب بن عدی نے شروع کیا۔
حدیث نمبر: 38778
٣٨٧٧٨ - حدثنا يزيد حدثنا هشام عن محمد قال: كان أول من ظاهر في الإسلام (١) خويلة فظاهر منها فاتت النبي ﷺ فأخبرته فأرسل إليه (ونزل) (٢) القرآن: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [المجادلة: ١] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا ظہار حضرت خویلہ کے ساتھ کیا گیا۔ وہ ظہار کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، سارا واقعہ عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے خاوند کو بلایا۔ اور قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں { قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُک فِی زَوْجِہَا }
حدیث نمبر: 38779
٣٨٧٧٩ - حدثنا يزيد (حدثنا) (١) أبو شيبة عن الحكم قال: أول من عرف بالكوفة ابن الزبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ کوفہ کا سب سے پہلے تعارف حضرت ابن زبیر نے کرایا۔
حدیث نمبر: 38780
٣٨٧٨٠ - حدثنا وكيع عن أبي شبيب عن عكرمة عن ابن عباس أن عمر كاتب (عبدًا له) (١) يكنى أبا أمية، فجاءه (بنجمه) (٢) حين حل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے ابو امیہ نامی غلام کو مکاتب بنایا۔ اس نے اپنا بدل کتابت ادا کیا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ یہ اسلام میں ادا کیا جانے والا پہلا بدل کتابت ہے۔
حدیث نمبر: 38781
٣٨٧٨١ - قال عكرمة: (فكان) (١) أول نجم أدي في الإسلام (٢).
حدیث نمبر: 38782
٣٨٧٨٢ - حدثنا يزيد أخبرنا أبو الفضل خالد بن (رباح) (١) حدثنا أبو السوار العدوي عن جندب بن عبد اللَّه قال (٢): أول ما ينتن من ابن آدم بطنه إذا مات فلا تجعلوا فيه إلا طيبًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کے مرنے کے بعد سب سے پہلے اس کے پیٹ سے بو اٹھتی ہے۔ لہٰذاپنے پیٹ میں پاکیزہ چیز ہی ڈالو۔
حدیث نمبر: 38783
٣٨٧٨٣ - حدثنا يزيد أخبرنا (ابن) (١) إسحاق عن يزيد (٢) بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد اللَّه اليزني وكان أول أهل مصر يروح إلى المسجد، وكان لا يأتي بشيء إلا تصدق به. آخر كتاب الأوائل (والحمد للَّه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت مرثد بن عبد اللہ یزنی مصر میں سب سے پہلے مسجد میں جانے والے شخص ہیں۔ ان کے پاس جب بھی کوئی چیز لائی جاتی تھی تو اس میں سے صدقہ ضرور کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 38784
٣٨٧٨٤ - (حدثنا) (١) أبو القاسم مسلمة بن القاسم حدثنا أبو الحسن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم بن يزيد بن حجر القرشي العسقلاني بعسقلان قال: حدثنا ⦗١٩٦⦘ أبو الفضل صالح بن أحمد بن محمد بن حنبل حدثنا إبراهيم بن مهدي المصيصي حدثنا أبو حفص عمر بن عبد الرحمن الأبار عن إسماعيل بن عبد الرحمن الأزدي عن أبي بردة بن أبي موسى (عن أبي موسى) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أول من دخل الحمام وصنعت له النورة: سليمان بن داود ﵇ (٣)، فلما دخله ووجد حره وغمه قال: (أوه) (٤) من عذاب اللَّه، (أوه) (٥) قبل أن لا يكون أوه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے حمام میں داخل ہونے والے اور پہلے وہ شخص جن کے لئے بال صاف کرنے والا پتھر رکھا گیا حضرت سلیمان ہیں۔ جب وہ حمام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اس کی گرمی کو دیکھا تو کہا ہائے اللہ کا عذاب، ہائے وہ آنے سے پہلے کیسا ہے۔
حدیث نمبر: 38785
٣٨٧٨٥ - (حدثنا) (١) مسلمة حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن الجهم ببغداد حدثنا عبد اللَّه بن أحمد بن محمد بن حنبل قال: حدثني أبي حدثنا حجاج قال: سمعت أبا إسرائيل قال: أول يوم عرفت فيه الحكم يوم هلك الشعبي، قال: جاء إنسان يسأل عن مسألة فقالوا: عليك بالحكم بن (عتيبة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسرائیل کہتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلے حضرت حکم کو اس دن پہچانا جس دن حضرت شعبی کا انتقال ہوا۔ جب کوئی شخص مسئلہ دریافت کرنے آتا تو وہ کہتے کہ حکم بن عتیبہ سے جاکر مسئلہ پوچھو۔
حدیث نمبر: 38786
٣٨٧٨٦ - حدثني (١) أبي حدثنا سفيان قال (أيوب) (٢): أول ما جالسناه -يعني ⦗١٩٧⦘ عكرمة -قال: يحسن حسنكم مثل هذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ جب ہم نے سب سے پہلے حضرت عکرمہ کی ہم نشینی اختیار کی تو انہوں نے فرمایا کیا تمہارا حسن اس کی طرح اچھا ہوگا ؟ !
حدیث نمبر: 38787
٣٨٧٨٧ - حدثني أبي حدثنا عبد الرزاق حدثنا معمر عن يحيى بن أبي كثير قال: أول امرأة تزوجها رسول اللَّه ﷺ خديجة بنت خويلد، ثم نكح سودة بنت زمعة، ثم نكح عائشة بنت أبي بكر بمكة وبنى بها بالمدينة، ثم نكح بالمدينة زينب (بنت) (١) خزيمة الهلالية، ثم نكح أم سلمة بنت أبي أمية، ثم نكح جويرية بنت الحارث من بني المصطلق، وكانت مما أفاء اللَّه عليه، ثم نكح ميمونة بنت الحارث، وهي التي وهبت نفسها للنبي ﷺ (٢)، ثم نكح صفية بنت (حيي) (٣)، وهي مما أفاء اللَّه عليه (٤)، ثم نكح زينب بنت جحش وكانت امرأة زيد بن حارثة، توفيت زينب بنت خزيمة قبل النبي ﷺ، ونكح حفصة بنت عمر، وأم حبيبة بنت أبي سفيان، والكندية، وامرأة من كلب، وكان جميع من تزوج أربع عشرة امرأة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے حضرت خدیجہ بن خویلد سے شادی کی۔ پھر حضرت سودہ بنت زمعہ سے، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بن ابی بکر سے مکہ میں شادی کی اور مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ پھر مدینہ میں حضرت زینب بنت خزیمہ ہلالیہ سے شادی کی۔ پھر حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ سے، پھر بنو مصطلق کی حضرت جویریہ بنت حارث سے ، پھر حضرت میمونہ بنت حارث سے جنہوں نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہبہ کردیا تھا۔ پھر حضرت صفیہ بنت حیی سے، پھر حضرت زینب بنت جحش سے جو کہ حضرت زید بن حارثہ کی اہلیہ تھیں۔ حضرت زینب بنت خزیمہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انتقال کرگئی تھیں۔ آپ نے حضرت حفصہ بنت عمر ، حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان ، ایک کندی عورت اور ایک بنو کلب کی خاتون سے نکاح فرمایا۔ آپ نے کل چودہ خواتین سے نکاح فرمایا۔
حدیث نمبر: 38788
٣٨٧٨٨ - حدثنا يعقوب بن إسحاق بن حجر حدثنا أبو موسى حدثنا ضمرة عن يزيد بن أبي (يزيد) (١) عن رجل سماه قال: أول من عقد الألوية إبراهيم خليل الرحمن ﵇ (٢)، بلغه أن قومًا أغاروا على لوط فسبوه، فعقد لواء، وسار إليهم بعبيده ومواليه حتى أدركهم، فاستنقذه وأهله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی یزید ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں کہ سب سے پہلے پرچم ابراہیم نے باندھا۔ انہیں اطلاع ہوئی کہ ایک قوم نے حضرت لوط پر حملہ کیا اور انہیں قید کرلیا ہے۔ ابراہیم نے پرچم باندھا اور اپنے غلاموں اور موالی کو لے کر ان کی طرف گئے، انہیں جالیا اور حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو چھڑا کرلے آئے۔
حدیث نمبر: 38789
٣٨٧٨٩ - (حدثنا) (١) (مسلمة) (٢) حدثنا أبو جعفر أحمد بن إبراهيم بن عبد اللَّه بن محمد بن يحيى المعافري المصري المعروف بابن حمويه بالفسطاط في الجامع إملاء من كتابه في ذي القعدة سنة اثنتين وعشرين وثلاثمائة، قال: حدثنا الربيع بن سليمان المرادي حدثنا أسد بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن (أبي) (٣) (قزعة) (٤) عن حكيم (عن) (٥) معاوية قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "تحشرون مشاة وركبانا وعلى وجوهكم، (تعرضون) (٦) على اللَّه على أفواهكم (الفدام) (٧)، وأول ما يعرب (عن) (٨) (أحدكم) (٩) فخذه" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں اس حال میں جمع کیا جائے گا کہ تم پیدل ہوگے، سوار ہوگے اور منہ کے بل ہو گے۔ تمہیں اللہ کے دربار میں پیش کیا جائے گا تو تمہارے مونہوں کو بولنے کی اجازت نہ ہوگی۔ تمہارے بدن میں سب سے پہلے تمہاری ران بات کرے گی۔
حدیث نمبر: 38790
٣٨٧٩٠ - حدثنا مسلمة حدثنا أبو جعفر محمد بن الحسن الهمداني حدثنا أبو بكر يحيى بن جعفر بن أبي طالب أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء العجلي الخفاف ⦗١٩٩⦘ أخبرنا سعيد وهشام عن قتادة قال: كان أبو الدرداء يقول: (إن) (١) أول ما أنا عاصم به غدا -يعني يوم القيامة- أن يقال لي: يا أبا الدرداء قد علمت فكيف عملت فيما علمت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو دردائ فرماتے ہیں کہ کل قیامت کے دن مجھ سے سب سے پہلے جس چیز کو حساب کیا جائے گا وہ یہ ہے کہ اے ابو دردائ ! تو جانتا تھا اور جو کچھ تو جانتا تھا اس پر تو نے کیا عمل کیا ؟
حدیث نمبر: 38791
٣٨٧٩١ - حدثنا مسلمة حدثنا أبو علي عبد اللَّه بن محمد بن أبي رجاء الزيات المالكي بمكة إملاء من حفظه حدثنا أبو حارثة أحمد بن إبراهيم الغساني بالرملة سنة سبع وسبعين ومائتين حدثنا أبي عن أبيه عن جده عن رجل من جيش مسلم بن عقبة قال: لما نزلنا بالمدينة دخلت مسجد رسول اللَّه ﷺ فصليت إلى جنب عبد الملك ابن مروان، فقال لي عبد الملك: أمن هذا الجيش أنت؟ (قال) (١): قلت: نعم، قال: ثكلتك أمك، أتدري إلى من تسير؟ إلى أول مولود ولد في الإسلام، وإلى ابن حواري رسول اللَّه ﷺ، وإلى ابن أسماء ذات النطاقين، وإلى من حنكه رسول اللَّه ﷺ بيده، (٢) أما واللَّه لئن جئته نهارًا لتجدنّه صائمًا، ولئن جئته ليلًا لتجدنه قائمًا، ولو أن أهل الأرض أطبقوا على قتله (لكبهم) (٣) اللَّه جميعًا في النار على وجوههم، قال ذلك الرجل: ما مضت (إلا) (٤) أيام حتى صارت الخلافة إلى عبد الملك ووجهنا إليه فقتلناه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن عقبہ کے لشکر کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے عبد الملک بن مروان کے ساتھ نماز پڑھی۔ عبد الملک نے مجھ سے کہا کہ کیا تو اس لشکر سے ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے کہا تمہاری ماں تمہیں کھوئے، کیا تم جانتے ہو کہ تم کس سے لڑنے جارہے ہو ؟ تم اسلامی سلطنت میں پیدا ہونے والے پہلے بچے سے لڑنے جارہے ہو، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری (حضرت زبیر ) کے بیٹے سے لڑنے جارہے ہو۔ تم حضرت اسماء ذات النطاقین کے بیٹے سے لڑنے جارہے ہو۔ تم اس سے لڑنے جارہے ہو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھٹی دی تھی۔ خدا کی قسم اگر تم دن کو ان کے پاس جاؤ تو انہیں روزے کی حالت میں پاؤ گے اور اگر رات میں ان کے پاس جاؤ تو انہیں قیام کی حالت میں پاؤ گے۔ اگر ساری زمین کے لوگ ان کے قتل پر اجماع کرلیں تو اللہ تعالیٰ سب کو ان کو منہ کے بل جہنم میں داخل کردے گا۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ عبد الملک کو خلیفہ بنادیا گیا ۔ اس نے ہمیں حضرت عبد اللہ بن زبیر کو قتل کرنے کے لئے بھیجا اور ہم نے انہیں قتل کردیا۔ ! !
حدیث نمبر: 38792
٣٨٧٩٢ - (حدثنا) (١) أبو حارثة قال: حدثني أبي عن أبيه عن جده قال: أول ⦗٢٠٠⦘ من سمى عبد الملك (و) (٢) عبد العزيز: (عبد الملك وعبد العزيز) (٣) ابنا مروان، وأول من واصل بين الظهر والعصر (في الصلاة) (٤) وبين العشاء والعتمة (٥) عبد الملك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حارثہ کے والد اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ سب سے پہلے عبد الملک اور عبد العزیز کے نام مروان کے بیٹوں کے رکھے گئے۔ سب سے پہلے ظہر اور عصر اور عشاء اور مغرب کی نماز کو عبد الملک نے جمع کیا۔
حدیث نمبر: 38793
٣٨٧٩٣ - مسلمة قال: قرأت على أبي العباس أحمد بن عيسى المعروف بابن الوشاء: حدثكم أبو جعفر محمد بن أحمد بن فيروز (البغدادي) (١) العبد الصالح قال: (حدثنا) (٢) علي بن خشرم قال: حدثنا عيسى بن يونس عن ربيعة بن عثمان عن سعد بن إبراهيم عن أبيه أنه قال: أول من خطب على المنابر: إبراهيم خليل الرحمن عليه (الصلاة) (٣) والسلام.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ منبر پر سب سے پہلے ابراہیم نے خطبہ دیا۔
حدیث نمبر: 38794
٣٨٧٩٤ - (حدثنا) (١) مسلمة حدثنا أبو جعفر محمد بن الحسن الهمداني حدثنا جعفر بن أحمد الهمداني حدثنا عبد الرحمن بن أحمد الزهري حدثنا كثير بن هشام حدثنا عيسى بن إبراهيم عن معاوية بن عبد اللَّه قال: سمعت كعبا يقول: أول من ضرب الدينار والدرهم، (آدم) (٢) ﵇، وقال: لا تصلح المعيشة إلا بهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے دینار اور درہم حضرت آدم نے بنائے اور فرمایا زندگی انہی کے ذریعے سے صحیح طور پر چل سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 38795
٣٨٧٩٥ - حدثنا ابن الوشاء حدثنا أبو عثمان سعيد بن الحكم السلمي الدمشقي (يعرف) (١) (بالفندي) (٢) (قرأت) (٣) من كتابه لفظا حدثنا هشام بن خالد حدثنا بقية حدثنا العلاء بن سليمان عن الفروي عن أبي ذر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أول من يدخل الجنة التاجر الصدوق" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں سب سے پہلے سچا تاجر داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 38796
٣٨٧٩٦ - حدثنا ابن الوشاء حدثنا سعيد بن الحكم حدثنا هشام (١) (حدثنا) (٢) بقية حدثنا ابن جريج عن عطاء (عن ابن عباس) (٣) عن النبي ﷺ (مثله) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
…