کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سب سے پہلے کون سا عمل کس نے کیا؟
حدیث نمبر: 38517
٣٨٥١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أشعث عن ابن سيرين أن النبي ﷺ أطعم جدة مع ابنها السدس، وكانت أول جدة ورثت في الإسلام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دادی کو اس کے بیٹے کے ساتھ سدس عطا فرمایا۔ یہ اسلام میں وارث بننے والی پہلی دادی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38517
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف مرسل؛ أشعث ضعيف، وابن سيرين تابعي، وأخرجه سعيد بن منصور ١/ (٩٥)، وعبد الرزاق (١٩٠٩٣)، وأبو داود في المراسيل (٣٥٨)، وورد من حديث ابن سيرين عن ابن مسعود، أخرجه الدارمي (٢٩٣٢)، وورد من طريق مسروق عن ابن مسعود، أخرجه الترمذي (٢١٠٢)، والبيهقي ٦/ ٢٢٦، والبزار (١٩٤٦)، والطبراني في الأوائل (٥٠)، وابن أبي عاصم في الأوائل (٦٥)، وإسناده ضعيف جدًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38517، ترقيم محمد عوامة 36922)
حدیث نمبر: 38518
٣٨٥١٨ - حدثنا حماد بن خالد عن بن أبي ذئب عن الزهري في اليمين مع الشاهد، بدعة وأول من قضى بها معاوية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ گواہ کے ساتھ قسم لینا ایک نئی چیز تھی جس کا سب سے پہلے حکم حضرت معاویہ نے دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38518
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي لم يدرك معاوية، ومراسيل الزهري ضعيفة جدًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38518، ترقيم محمد عوامة 36923)
حدیث نمبر: 38519
٣٨٥١٩ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: أول من ترك إحدى إصبعيه في أذنيه: ابن الأصم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ ابن الاصم نے سے پہلے اذان میں کانوں میں ایک انگلی کے رکھنے کو ترک کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38519
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38519، ترقيم محمد عوامة 36924)
حدیث نمبر: 38520
٣٨٥٢٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: رفع الأيدي يوم الجمعة محدث، وأول من أحدث رفع الأيدي يوم الجمعة: مروان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن ہاتھ اٹھانا نئی چیز ہے۔ سب سے پہلے جمعہ کے دن ہاتھ اٹھانے والا مروان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38520
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38520، ترقيم محمد عوامة 36925)
حدیث نمبر: 38521
٣٨٥٢١ - حدثنا سهل بن يوسف عن (ابن) (١) (عون) (٢) عن محمد قال: أول من رفع يديه في الجمعة: عبيد اللَّه بن معمر.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے ہاتھ اٹھانے والے عبید اللہ بن معمر ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38521
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38521، ترقيم محمد عوامة 36926)
حدیث نمبر: 38522
٣٨٥٢٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن قال: أول مصلوب صلب في الإسلام رجل من بني ليث جعلت له قريش (أواقي) (١) على أن يقتل النبي ﷺ فأتاه جبريل فأخبره، فبعث إليه النبي ﷺ فأمر به فصلب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلے بنو لیث کے ایک آدمی کو سولی پر چڑھایا گیا۔ قریش نے اسے بہت سا مال اس لئے دیا تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کردے۔ حضرت جبرئیل نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دے دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو سولی دینے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38522
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الحسن تابعي وعطاء اختلط، وأخرجه أبو داود في المراسيل (٢٩٨)، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار (١٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38522، ترقيم محمد عوامة 36927)
حدیث نمبر: 38523
٣٨٥٢٣ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن محمد قال: أول جدة أطعمت في الإسلام السدس جدة (أطعمته) (١) وابنها حي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلے جس دادی کو سدس دیا گیا وہ ایک عورت تھیں جنہیں ان کے بیٹے کی زندگی میں سدس حصہ ملا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38523
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن سيرين تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٣٥٨)، وعبد الرزاق (١٩٠٩٣)، وسعيد ابن منصور ق ١/ (٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38523، ترقيم محمد عوامة 36928)
حدیث نمبر: 38524
٣٨٥٢٤ - حدثنا وكيع عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن غلام لسلمان ويقال: له سويد وأثنى عليه خيرًا قال: لما افتتح الناس المدائن، وخرجوا في طلب العدو، أصبت سلة، فقال سلمان: هل عندك طعام؟ فقلت: سلة أصبتها، فقال: هاتها، فإن كان (مالا) (١) رفعناه إلى هؤلاء، وإن كان طعامًا أكلناه، قال: ففتحناها فإذا أرغفةُ حواري (٢) وجبنة وسكين، فكان أول ما (رأت) (٣) العرب (الحواري) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ نے حضرت سلمان کے ایک غلام سے نقل کیا ہے کہ جب مسلمانوں نے مدائن کو فتح کرلیا اور دشمن کی تلاش میں نکلے تو مجھے ایک ٹوکری ملی۔ حضرت سلمان نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کھانا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے ایک ٹوکری ملی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے پاس لاؤ اگر تو اس میں مال ہے تو ہم مال غنیمت میں جمع کرادیں گے اور اگر اس میں کھانا ہے تو ہم کھا لیں گے۔ ہم نے اس ٹوکری کو کھولا تو اس میں سفید آٹے کی روٹیاں، مکھن اور چھری تھی۔ عربوں نے پہلی مرتبہ وہاں سفید روٹیاں دیکھی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38524
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو جعفر الرازي صدوق، وانظر: الإصابة ٣/ ٢٣١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38524، ترقيم محمد عوامة 36929)
حدیث نمبر: 38525
٣٨٥٢٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري (قال) (١): كانوا (يتراهنون) (٢) على عهد النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک دوسرے کے پاس رہن رکھوایا کرتے تھے۔ حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اس میں سب سے پہلے حضرت عمر بن خطاب نے ادائیگی فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38525
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38525، ترقيم محمد عوامة 36930)
حدیث نمبر: 38526
٣٨٥٢٦ - قال الزهري: (وأول) (١) من أعطى فيه عمر بن الخطاب (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38526
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38526، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 38527
٣٨٥٢٧ - [حدثنا كثير بن هشام عن جعفر قلت للزهري: من أول من ورث العرب من الموالي؟ قال: عمر بن الخطاب] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے سوال کیا کہ عربوں میں سب سے پہلے کس نے موالی کو وارث قرار دیا۔ حضرت زہری نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب نے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38527
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38527، ترقيم محمد عوامة 36931)
حدیث نمبر: 38528
٣٨٥٢٨ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن رجل حدثه أن أبا بكر طاف بعبد اللَّه بن الزبير في خرقة، وكان أول مولود ولد في الإسلام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی پیدائش کے بعد ان کو ایک کپڑے میں لے کر طواف کرایا۔ وہ (ہجرت کے بعد) اسلام میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38528
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38528، ترقيم محمد عوامة 36932)
حدیث نمبر: 38529
٣٨٥٢٩ - حدثنا عبد الرحيم عن عبد الرحمن بن عتبة يعني المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: كان أول من أفشى القرآن (بمكة) (١) من في رسول اللَّه ﷺ ابن مسعود، وأول من بني مسجدا صلى فيه عمار بن ياسر، وأول من أذن بلال، وأول من رمى بسهم في سبيل اللَّه سعد بن مالك، وأول من قتل من المسلمين مهجع، وأول من عدا به فرسه في سبيل اللَّه المقداد، وأول (حي) (٢) أدوا الصدقة من قبل أنفسهم بنو (عذرة) (٣)، وأول (حي) (٤) ألفوا مع رسول اللَّه ﷺ جهينة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے سب سے پہلے قرآن کی تعلیم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حاصل کی۔ سب سے پہلے مسجد حضرت عمار بن یاسر نے بنائی۔ سب سے پہلے اذان حضرت بلال نے دی۔ اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلانے والے حضرت سعد بن مالک۔ (مردوں میں) سب سے پہلے شہید حضرت مہجع ہیں۔ اللہ کے راستے میں سب سے پہلے گھوڑا دوڑانے والے حضرت مقداد ہیں۔ سب سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنے والا قبیلہ بنو عذرہ ہے۔ سب سے پہلے ایک مضبوط جمعیت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آملنے والا قبیلہ جہینہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38529
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ القاسم تابعي، وأخرجه الطبراني (٨٩٦١)، وابن عساكر ٤٣/ ٣٧٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38529، ترقيم محمد عوامة 36933)
حدیث نمبر: 38530
٣٨٥٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل أخبرنا عامر قال: أول من بايع تحت (الشجرة) (١) أبو سنان بن وهب الأسدي فقال له رسول اللَّه ﷺ: "علام تبايع؟ " قال: على ما في نفسك، فبايعه ثم تتابع الناس فبايعوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ بیعت رضوان کے موقع پر سب سے پہلے درخت کے نیچے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کرنے والے حضرت ابو سنان وہب الاسدی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اس چیز پر جو آپ کے دل میں ہے۔ لہٰذا انہوں نے بیعت کی اور پھر بعد میں دوسرے لوگ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38530
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عامر الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ١٠، وأحمد في الفضائل (١٦٨٩)، والعلل ٢/ ٣٣٦، والخلال في السنة (٣٦)، وأبو عروبة في الأوائل (٦٥)، والدولابي في الكنى ١/ ١١١، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٧)، والبيهقي في الدلائل ٤/ ١٣٧، وأبو أحمد الحاكم في علوم الحديث ص ١٨٣، وابن جرير ٢٦/ ٨٦، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣١٥، وابن عساكر ١٠/ ٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38530، ترقيم محمد عوامة 36934)
حدیث نمبر: 38531
٣٨٥٣١ - حدثنا أبو أسامة أخبرنا إسرائيل عن عامر قال: أول من أشار بصنعة النعش أن يرفع أسماء ابنة عميس حين جاءت من أرض الحبشة رأتهم يفعلون ذلك بأرضهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت اسماء بنت عمیس نے حکم دیا کہ عورتوں کی نعش کو چارپائی پر رکھا جائے۔ یہ حکم انہوں نے اس وقت دیا جب وہ ارض حبشہ سے واپس تشریف لائیں وہاں لوگ یونہی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38531
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، وورد نحوه بأسانيد أخرى عند الحاكم ٣/ ١٧٧، والبيهقي ٤/ ٣٤، وعبد الرزاق (٦٢٣٦)، وابن شبه (٣٣٤)، وابن سعد ٨/ ٢٨، وابن شاهين في ناسخ الحديث (٦٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38531، ترقيم محمد عوامة 36935)
حدیث نمبر: 38532
٣٨٥٣٢ - حدثنا ابن عيينة عن أبي الجويرية الجرمي قال: سألت ابن عباس عن الباذق، فقال: سبق محمد الباذق، أنا أول العرب سأل ابن عباس عن ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے باذق (انگور کا ایسا شیرہ جسے ہلکا سا پکایا جائے اور وہ سخت ہوجائے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ محمد باذق کے بارے میں آگے نکل گئے۔ مں ہ وہ پہلا شخص ہوں جس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38532
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥٨٩)، والنسائي (٥١٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38532، ترقيم محمد عوامة 36936)
حدیث نمبر: 38533
٣٨٥٣٣ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن ابن غَنْم قال: أول جد ورث في الإسلام (عمر بن الخطاب) (١) فأراد أن (يحتاز) (٢) المال كله، فقلت: (يَا) (٣) أمير المؤمنين! إنهم شجرة دونك -يعني بني بنيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن غنم فرماتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلے دادا کی حیثیت سے وارث بننے والے حضرت عمر بن خطاب ہیں۔ وہ سارا مال حاصل کرنا چاہتے تھے میں نے ان سے عرض کیا کہ وہ یعنی ان کے پوتے آپ ہی کی اولاد جیسے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38533، ترقيم محمد عوامة 36937)
حدیث نمبر: 38534
٣٨٥٣٤ - حدثنا (غسان) (١) بن مضر عن سعيد بن (يزيد) (٢) عن أبي نضرة عن جابر قال: لما ولي عمر بن الخطاب الخلافة فرض الفرائض، ودون الدواوين، وعرف (العرفاء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب خلیفہ بنائے گے تو انہوں نے میراث میں لوگوں کو حصے دلوانے کا اہتمام کرایا۔ دواوین مقرر کئے اور لوگوں کے نام لکھوائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38534
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في العلل ٢/ ١٩٣، والبيهقي ٦/ ٣٦٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38534، ترقيم محمد عوامة 36938)
حدیث نمبر: 38535
٣٨٥٣٥ - حدثنا مالك بن إسماعيل حدثنا هريم عن أبي إسحاق الشيباني عن محمد بن (عبيد اللَّه) (١) الثقفي قال: أتى عمر رجل من ثقيف يقال: له نافع بن الحارث، وكان أول من (افتلى الفلاء) (٢) بالبصرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ ثقفی فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آئے جن کا نام نافع بن حارث تھا۔ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے بصرہ میں بےآباد زمین کو آباد کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38535، ترقيم محمد عوامة 36939)
حدیث نمبر: 38536
٣٨٥٣٦ - حدثنا عفان (١) حدثنا شعبة عن أبي إسحاق سمعت البراء يقول: أول من قدم علينا من أصحاب (رسول) (٢) اللَّه ﷺ مصعب بن عمير وابن أم مكتوم فجعلا (يقرئان) (٣) القرآن، قال: ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين، ثم جاء رسول اللَّه ﷺ، فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے جو سب سے پہلے ہمارے پاس (مدینہ منورہ) آئے وہ حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن ام مکتوم ہیں۔ ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار، حضرت بلال، حضرت سعدآئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کے ساتھ آئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے۔ میں نے مدینہ والوں کو کسی بات پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38536
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٤١)، وأحمد (١٨٥١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38536، ترقيم محمد عوامة 36940)
حدیث نمبر: 38537
٣٨٥٣٧ - حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: لم يُقطِع النبي ﷺ ولا أبو بكر ولا عمر ولا علي، وأول من أقطع القطائع عثمان، وبيعت الأرضون في إمارة عثمان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو زمین کے ٹکڑے دیئے، نہ حضرت ابوبکر نے نہ حضرت عمر نے اور نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے۔ سب سے پہلے زمین کے ٹکڑے حضرت عثمان نے دیئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38537
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عامر الشعبي تابعي، وجابر الجعفي ضعيف، أخرجه يحيى بن آدم في الخراج (٢٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38537، ترقيم محمد عوامة 36941)
حدیث نمبر: 38538
٣٨٥٣٨ - [حدثنا علي بن مسهر عن ليث عن طاوس قال: أول من جلس ⦗١٣٤⦘ على المنبر في الجمعة معاوية] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جمعہ کے خطبہ میں سب سے پہلے منبر پر بیٹھنے والے حضرت معاویہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38538
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38538، ترقيم محمد عوامة 36942)
حدیث نمبر: 38539
٣٨٥٣٩ - حدثنا (شبابة) (١) حدثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن حبة (العرني) (٢) عن علي قال: أنا أول رجل صلى مع النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38539
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال حبة العرني، وأخرجه أحمد (١١٩١)، وابن سعد ٣/ ٢١، والنسائي في الخصائص (١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38539، ترقيم محمد عوامة 36943)
حدیث نمبر: 38540
٣٨٥٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبي مالك الأشجعي عن سالم بن أبي الجعد قال: قلت لابن الحنفية: أبو بكر كان أول القوم إسلاما قال: لا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ سے پوچھا کہ کیا حضرت ابوبکر نے سب سے پہلے قوم میں اسلام قبول کیا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38540
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن الحنفية تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38540، ترقيم محمد عوامة 36944)
حدیث نمبر: 38541
٣٨٥٤١ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) عن زائدة بن قدامة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: أول من أظهر إسلامه (٢) رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وعمار وأمه سمية وصهيب وبلال والمقداد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے یہ حضرات ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر، حضرت عمار، ان کی والدہ حضرت سمیہ، حضرت صہیب، حضرت بلال اور حضرت مقداد
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38541
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، وأخرجه أحمد (٣٨٣٢)، وابن ماجه (١٥٠)، وابن حبان (٧٠٨٣)، والشاشي (٦٤١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤٩، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ١٤١، والحاكم ٣/ ٢٨٤، والبزار (١٨٤٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٧٩)، والبيهقي في الدلائل ٢/ ٢٨١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38541، ترقيم محمد عوامة 36945)
حدیث نمبر: 38542
٣٨٥٤٢ - حدثنا علي بن (مسهر) (١) عن زكريا عن الشعبي قال: استقضى ⦗١٣٥⦘ شريحا عمر على الكوفة في (قضية) (٢)، واستقضى كعب بن سور على (البصرة) (٣) في قضية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شریح کو کوفہ کا اور کعب بن سور کو بصر ہ کا قاضی بنایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38542
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38542، ترقيم محمد عوامة 36946)
حدیث نمبر: 38543
٣٨٥٤٣ - حدثنا علي بن مسهر عن زكريا عن الشعبي قال: إن أول (حي) (١) ألفوا مع رسول اللَّه ﷺ جهينة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ بڑی تعداد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے ملنے والا قبیلہ جہینہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38543
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38543، ترقيم محمد عوامة 36947)
حدیث نمبر: 38544
٣٨٥٤٤ - حدثنا (عبيد) (١) اللَّه بن موسى حدثنا شيبان عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كنت جالسًا قريبًا من كعب بن عجرة يوم الجمعة، (فخطبنا) (٢) الضحاك بن قيس فجلس فقال: ألا تنظرون، واللَّه ما (رأيت) (٣) إمام (قوم) (٤) (مسلمين) (٥) يخطب جالسًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن حضرت کعب بن عجرہ کے قریب بیٹھا تھا۔ ضحاک بن قیس نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو حضرت کعب بن عجرہ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے ؟ خدا کی قسم ! میں نے کبھی مسلمانوں کے امام کو بیٹھ کر خطبہ دیتے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38544
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٢٤/ ٢٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38544، ترقيم محمد عوامة 36948)
حدیث نمبر: 38545
٣٨٥٤٥ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن خالد (بن) (١) (عرعرة) (٢) عن علي قال له رجل: أخبرني عن البيت أهو أول بيت وضع للناس؟ قال: لا، لكنه ⦗١٣٦⦘ أول بيت وضعت فيه البركة: مقام إبراهيم، من دخله كان آمنًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد روایت کرتے ہیں عرعرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے اس گھر کے بارے میں بتائیے جو لوگوں کے لئے سب سے پہلے بنایا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس گھر کے بارے میں بتاتا ہوں جس میں سب سے پہلے برکت رکھی گئی۔ وہ مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہوگیا امن پا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38545
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38545، ترقيم محمد عوامة 36949)
حدیث نمبر: 38546
٣٨٥٤٦ - حدثنا مالك بن إسماعيل حدثنا زهير عن عاصم عن عامر قال: أول من جعل (العشور) (١) عمر بن الخطاب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ عشر سب سے پہلے حضرت عمر بن خطاب نے مقرر فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38546
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38546، ترقيم محمد عوامة 36950)
حدیث نمبر: 38547
٣٨٥٤٧ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ابن أبي نجيح قال: أول من رأيته يمشي بين الركن اليماني والحجر الأسود: عروة بن الزبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلے رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عروہ بن زبیر کو چلتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38547
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38547، ترقيم محمد عوامة 36951)
حدیث نمبر: 38548
٣٨٥٤٨ - حدثنا أبو أسامة حدثنا عوف قال: (قلت) (١) للحسن: (من) (٢) أول من أعتق أمهات الأولاد؟ قال: عمر، قلت: فهل يرقهن إن زنين؟ قال: لاها اللَّه إذن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے ان باندیوں کو کس نے آزاد کرنے کا حکم دیا جن سے اولاد ہوئی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر نے۔ میں نے سوال کیا کہ اگر وہ زنا کریں تو کیا وہ باندیاں رہیں گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے اللہ کی پناہ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38548
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38548، ترقيم محمد عوامة 36952)
حدیث نمبر: 38549
٣٨٥٤٩ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن مجاهد أن النبي ﷺ لقي قومًا فيهم حاد يحدو، فلما رأوا النبي ﷺ سكت حاديهم فقال: "من القوم؟ " قالوا: من مضر، فقال النبي ﷺ: "وأنا من مضر"، فقال: "ما شأن حاديكم لا يحدو؟ "، فقالوا: يا رسول اللَّه ﷺ إنا أول العرب (حداء) (١) قال: "وما (ذاك) (٢)؟ " قالوا: إن ⦗١٣٧⦘ رجلًا منا -وسموه- (عزب) (٣) في (إبل) (٤) له في أيام الربيع، فبعث غلامًا له مع الإبل، فأبطأ الغلام ثم جاء فجعل يضربه بعصا على يده، فانطلق الغلام وهو يقول: وايداه وايداه، قال: فتحركت الإبل ونشطت، فقال له: أمسك أمسك، قال: فافتتح الناس الحداء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہں ک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ایک ایسی قوم سے ہوئی جن میں ایک حدی خواں حدی پڑھ رہا تھا لیکن جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ خاموش ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ یہ کون سی قوم ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ قیلہ مضر سے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی مضر سے ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا حدی خواں خاموش کیوں ہوگیا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم عربوں میں سب سے پہلے حدی پڑھنے والے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہماری قوم کا ایک آدمی بہار کے موسم میں اپنے اونٹوں سے دور تھا۔ اس نے اپنے غلام کو اونٹ لینے بھیجا تو غلام نے دیر کردی۔ پھر وہ آدمی خود آیا اور غلام کو عصا سے اس کے ہاتھ پر مارنا شروع کردیا۔ تو غلام ” وایداہ ! وایداہ ! “ (ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ) کہتے ہوئے چلنے لگا۔ اس کا یہ جملہ سن کر اونٹ تیز تیز حرکت کرنے لگے اور نشاط میں آگئے۔ اس آدمی نے کہا کہ یہ کہتے رہو، یہ کہتے رہو۔ اس کے بعد سے لوگوں میں حدی کا رواج پڑگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38549
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي، أخرجه ابن سعد ١/ ٢١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38549، ترقيم محمد عوامة 36953)
حدیث نمبر: 38550
٣٨٥٥٠ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث عن الشعبي والحكم عن إبراهيم (قال) (١): إن أول من فرض العطاء عمر بن الخطاب، وفرض فيه الدية كاملة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ سالانہ وظیفہ سب سے پہلے حضرت عمر بن خطاب نے مقرر فرمایا اور اس میں پوری دیت بھی لازم کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ لضعف أشعث، وإبراهيم لم يدرك عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38550، ترقيم محمد عوامة 36954)
حدیث نمبر: 38551
٣٨٥٥١ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: بعث العلاء بن الحضرمي إلى رسول اللَّه ﷺ بثمانمائة ألف من خراج البحرين، وكان أول خراج قدم به على رسول اللَّه ﷺ، فأمر به (فنثر) (١) على حصير في المسجد، وأذن المؤذن فخرج إلى الصلاة فصلى، ثم جاء إلى المال فمثل عليه قائمًا فلم يعط ساكتا ولم يمنع سائلًا، فجعل الرجل يجيء فيقول: أعطني، فيقول: "خذ (قبضة) (٢) "، (ثم يجيء الرجل فيقول: أعطني، فيقول: "خذ قبضتين") (٣)، ويجيء الرجل فيقول: أعطني، فيقول: "خذ ثلاث قبضات" فجاء العباس فقال: يا رسول اللَّه أعطني من هذا المال، فإني أعطيت فداي وفداء عقيل يوم بدر، ولم يكن ⦗١٣٨⦘ لعقيل مال قال: فأخذ يبسط خميصة كانت عليه وجعل (يحثي) (٤) من المال، فحثى فيها ثم قام به فلم يطق حمله فقال: يا رسول اللَّه أحمل علي، فنظر إليه النبي ﷺ فتبسم حتى بدًا ضاحكه، وقال: "انقص من المال وقم بقدر ما تطيق"، فلما ولى العباس قال: أما إحدى اللتين وعدنا اللَّه فقد (أنجز) (٥) لنا إحداهما، ونحن ننتظر الأخرى قوله تعالى: ﴿(يَاأَيُّهَا) (٦) النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا﴾ [الأنفال: ٧٠]، إلى آخر الآية، فقد أنجزها اللَّه لنا ونحن ننتظر الأخرى (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت علاء بن حضرمی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بحرین کے خراج میں سے آٹھ لاکھ درہم بھیجے۔ یہ پہلا خراج تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے حکم دیا اور اس مال کو مسجد میں ایک چٹائی بچھا کر اس پر ڈال دیا گیا۔ مؤذن نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ اس مال کے پاس آئے اور اس کے پاس کھڑے ہوگئے، آپ نے کسی خاموش کو مال نہ دیا اور کسی مانگنے والے کو محروم نہ فرمایا۔ ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ ایک مٹھی لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور وہ کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ دو مٹھیاں لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ تم تین مٹھیاں لے لو۔ اتنے میں حضرت عباس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے بھی اس مال میں سے عطا کیجئے۔ میں نے غزوہ بدر میں اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا تھا۔ جبکہ عقیل کے پاس مال نہیں تھا۔ پھر حضرت عباس اپنے موجود چادر میں وہ مال بھرنے لگے۔ چادر بھرنے کے بعد جب وہ اٹھانے لگے تو ان سے اٹھایا نہ گیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھ پر اسے لدوا دیجئے۔ آپ ان کی طرف دیکھ کر اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ مال کم کرلو اور اتنا اٹھاؤ جتنا اٹھاسکتے ہو۔ جب حضرت عباس چلے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جن دو چیزوں کا وعدہ فرمایا تھا ان میں سے ایک کو پورا کردیا۔ اور ہم دوسری کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی أَیْدِیکُمْ مِنَ الأَسْرَی إنْ یَعْلَمِ اللَّہُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا } اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کردیا اور ہم دوسری بات کے پورا ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38551
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حميد بن هلال تابعي، أخرجه ابن سعد ٤/ ١٥، ويعقوب في المعرفة ١/ ٥٠٣، والبلاذري ص ٩٢، وأخرجه الحاكم ٣/ ٢٢٩ من طريق حميد بن هلال عن أبي بردة عن أبي موسى مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38551، ترقيم محمد عوامة 36955)
حدیث نمبر: 38552
٣٨٥٥٢ - حدثنا يحيى بن سليم الطائفي عن داود بن أبي هند عن ابن سيرين قال: أول من قاس إبليس وإنما عبدت الشمس والقمر بالمقاييس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس تھا اور سورج اور چاند کی عبادت بھی قیاس کی وجہ سے کی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38552
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38552، ترقيم محمد عوامة 36956)
حدیث نمبر: 38553
٣٨٥٥٣ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن الحسن بن محمد قال: أول ما تكلم الناس في القدر جاء رجل فقال: كان في قدر اللَّه أن شرارة طارت فأحرقت البيت، فقال رجل: هذا من قدر اللَّه، وقال آخر: ليس من قدر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے تقدیر کے بارے میں بات کرنے والا وہ شخص تھا جس نے کہا کہ ایک چنگاری اڑی اور اس نے گھر کو جلا دیا۔ ایک آدمی نے کہا کہ یہ اللہ کی تقدیر تھی۔ دوسرے نے کہا کہ یہ اللہ کی تقدیر نہیں تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38553
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38553، ترقيم محمد عوامة 36957)
حدیث نمبر: 38554
٣٨٥٥٤ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن عامر قال: أول من بايع تحت الشجرة أبو سنان (٢) وهب الأسدي أتى النبي ﷺ فقال: أبايعك، قال: "علام ⦗١٣٩⦘ تبايعني؟ " قال: أبايعك على ما في نفسك، فبايعه (٣) الناس بعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر سب سے پہلے حضرت ابو سنان بن وہب اسدی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم کس چیز پر بیعت ہونا چاہتے ہو۔ عرض کیا جو چیز آپ کے دل میں ہے میں اس پر بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے انہیں بیعت فرمایا اور پھر دوسرے لوگ بعد میں بیعت ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38554
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي ومجالد ضعيف، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٦٨٩)، وابن سعد ٢/ ١٠٠، والخلال في السنة (٣٦)، والبيهقي في الدلائل ٤/ ١٣٧، وأبو عروبة في الأوائل (٦٥)، وابن جرير ٢٦/ ٨٦، والدولابي في الكنى ١/ ١١١، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38554، ترقيم محمد عوامة 36958)
حدیث نمبر: 38555
٣٨٥٥٥ - حدثنا أبو أسامة حدثنا إسماعيل عن قيس سمع سعد بن أبي وقاص يقول: أنا واللَّه أول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل اللَّه ﷿ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلانے والا میں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38555
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي (٨٢١٨)، والترمذي (٢٣٦٦)، وابن حبان (٦٩٨٩)، والحميدي (٧٨)، والشاشي (١٦٠)، وابن أبي عاصم في الأوائل (١١٣)، وابن سعد ٣/ ١٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38555، ترقيم محمد عوامة 36959)
حدیث نمبر: 38556
٣٨٥٥٦ - (حدثنا) (١) حسين عن زائدة حدثنا المختار بن فلفل قال: قال أنس: قال النبي ﷺ: "أنا أول شفيع في الجنة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38556
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٦)، وأحمد (١٢٤١٩)، وأصله عند البخاري (٦٥٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38556، ترقيم محمد عوامة 36960)