حدیث نمبر: 38040
٣٨٠٤٠ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى قال: قال الحسن: من أشراط - (أو اقتراب) (١) - الساعة أن يأتي الموت خياركم فيلقطهم كما يلقط أحدكم أطائب الرطب من الطبق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن نے فرمایا : قرب قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ موت تم میں سے بہتر لوگوں کو آئے اور ان کو اس طرح اچک لے جس طرح تم میں سے کوئی پلیٹ میں سے عمدہ کھجوریں اٹھا لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 38041
٣٨٠٤١ - حدثنا يزيد بن هارون عن سلام بن مسكين قال: قال الحسن: أهينوا (١) الدنيا، فواللَّه (لأهنأ) (٢) ما تكون إذا أهنتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلام بن مسکین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن نے فرمایا : تم دنیا کی اہانت کرو۔ خدا کی قسم ! یہ تم پر اتنی ہی ہلکی ہوگی جتنا تم اس کو ہلکا کرو گے۔
حدیث نمبر: 38042
٣٨٠٤٢ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن يونس عن الحسن قال: صوامع المؤمنين بيوتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل ایمان کے عبادت خانے ان کے گھر ہیں۔
حدیث نمبر: 38043
٣٨٠٤٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن (حسين) (١) عن الحسن في قوله: ⦗٥٦٣⦘ ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ﴾ (قال: الجنة) (٢)، ﴿وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ﴾ [الحديد: ١٣] قال: النار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشادِ خداوندی { فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُورٍ لَہُ بَابٌ بَاطِنُہُ فِیہِ الرَّحْمَۃُ } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنت ہے۔ اور { وَظَاہِرُہُ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ } سے مراد جہنم ہے۔
حدیث نمبر: 38044
٣٨٠٤٤ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف عن الحسن: ﴿(يَوْمَئِذٍ) (١) يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى (٢٣) يَقُولُ يَالَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي﴾ [الفجر: ٢٣ - ٢٤]، قال: علم واللَّه (أنه) (٢) (صادف) (٣) هنالك حياة طويلة لا موت فيها، (آخر ما) (٤) عليه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشادِ خداوندوی { یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الإِنْسَاْن وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْت لِحَیَاتِی } کے بارے میں روایت ہے۔ فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! وہ یہ بات جان لے گا کہ یہاں ایسی لمبی زندگی شروع ہونے والی ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔
حدیث نمبر: 38045
٣٨٠٤٥ - حدثنا معاوية بن هشام (قال: حدثنا) (١) سفيان عن أبي حازم عن الحسن قال: يأتي على الناس زمان يكون حديثهم في مساجدهم أمر (دنياهم) (٢)، ليس للَّه (فيه) (٣) فيه حاجة، فلا تجالسوهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں اپنی دنیا کے امور کی بات کریں گے۔ اس میں خدا کے لیے کوئی حاجت نہیں ہوگی۔ پس تم ان کی مجلس اختیار نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 38046
٣٨٠٤٦ - حدثنا جرير عن عمارة بن القعقاع عن (الحسن) (١) في قوله: ﴿فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى﴾ [طه: ١١٧]، قال: عنى به شقاء الدنيا فلا تلقى بن آدم إلا شقيا ناصيا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشاد خداوندی { فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقَی } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ اس سے خدا کی مراد ” دنیا کی بدبختی “ ہے۔ پس تو کسی ابن آدم کو نہیں ملے گا مگر یہ کہ وہ بدبخت اور نامراد ہوگا۔
حدیث نمبر: 38047
٣٨٠٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى قال: قرأ الحسن هذه الآية: ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا﴾ [الكهف: ٨٢]، قال: ما أسمعه ذكر في ولدهما خيرا حفظهما اللَّه بحفظ أبيهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حسن نے یہ آیت { وَکَانَ أَبُوہُمَا صَالِحًا } تلاوت کی۔ فرمایا : میں نے یہ بات سنی کہ اللہ نے ان کے بچے میں خیر کا ذکر کیا ہو۔ اللہ نے ان کی حفاظت ان کے والد کی وجہ سے فرمائی۔
حدیث نمبر: 38048
٣٨٠٤٨ - حدثنا ابن علية ومحمد بن أبي عدي عن حبيب بن شهيد عن الحسن قال: لا إله إلا اللَّه ثمن الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ جنت کی قیمت ہے۔
حدیث نمبر: 38049
٣٨٠٤٩ - حدثنا خلف بن خليفة عن إسماعيل بن أبي خالد أن الحسن كان يقول: اتقوا فيما حرم اللَّه عليهم، وأحسنوا فيما رزقهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد سے روایت ہے کہ حسن کہا کرتے تھے۔ جو چیز اللہ نے لوگوں پر حرام کی ہے وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جو چیز اللہ نے لوگوں کو دی ہے اس میں اچھائی کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38050
٣٨٠٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً﴾ [البقرة: ٢٠١]، قال: في الدنيا العلم والعبادة، وفي الآخرة الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشادِ باری تعالیٰ { رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : دنیا میں علم اور عبادت اور آخرت میں جنت۔
حدیث نمبر: 38051
٣٨٠٥١ - حدثنا حفص بن غياث عن أشدث عن الحسن: ﴿وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا﴾ [القصص: ٧٧]، قال: قدّم الفضل، وأمسِكْ ما يبلغك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَنْسَ نَصِیبَک مِنَ الدُّنْیَا } کے بارے میں روایت ہے فرمایا : اضافی چیز آگے بھیج دو اور اتنی چیز روکو جو تمہیں (منزل پر) پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 38052
٣٨٠٥٢ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن: ﴿يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ﴾ [الحديد: ١٢]، قال: على الصراط يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشادِ باری تعالیٰ { یَسْعَی نُورُہُمْ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ وَبِأَیْمَانِہِمْ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : قیامت کے دن پل صراط پر یہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 38053
٣٨٠٥٣ - [حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: قرأ الحسن حتى بلغ: ﴿(وَلَا) (١) يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [النساء: ١٤٢]، قال: إنما (قل) (٢) لأنه كان (لغير) (٣) اللَّه] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاشہب سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حسن نے قرأت شروع کی یہاں تک کہ { وَلاَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ إِلاَّ قَلِیلاً } تک پہنچے۔ فرمایا : یہ تھوڑے صرف اس لیے ہیں کہ یہ غیر اللہ کے لیے (بہت) ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38054
٣٨٠٥٤ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: قرأ الحسن: ﴿التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ﴾ [التوبة: ١١٢]، قال: تابوا من الشرك، وبرئوا من النفاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاشہب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن نے قرآن مجید کی آیت { التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ } تلاوت کی تو فرمایا : انہوں نے شرک سے توبہ کی اور وہ نفاق سے بری ہوئے۔
حدیث نمبر: 38055
٣٨٠٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عقيل (بشير) (١) بن عقبة قال: سمعت الحسن يقول العلماء: ثلاثة منهم عالم لنفسه ولغيره، (فذلك) (٢) أفضلهم (وخيرهم) (٣) (ومنهم عالم لنفسه فحسن) (٤)، ومنهم عالم لا لنفسه ولا لغيره فذلك (شرهم) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں۔ علماء تین طرح کے ہیں۔ بعض وہ علماء ہیں جو اپنے نفس کے لیے اور دوسروں کے لیے عالم ہیں۔ یہ علماء میں سے افضل اور بہتر ہیں۔ اور بعض وہ علماء ہیں جو اپنے نفس کے لیے عالم ہیں۔ یہ بھی بہتر ہیں۔ اور بعض علماء وہ ہیں جو نہ اپنے نفس کے لیے ہیں اور نہ کسی غیر کے لیے۔ یہ علماء میں سے بدترین ہیں۔
حدیث نمبر: 38056
٣٨٠٥٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو الأشهب عن الحسن قال: من استطاع منكم (أن) (١) يكون إماما لأهله، إماما (لحيَّه، إمامًا) (٢) لمن وراء ذلك فليفعل، فإنه ليس (شيء) (٣) يؤخذ عنك إلا كان لك فيه نصيب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم میں سے جو شخص اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے اہل کا، اپنے قبیلہ کا اور ان سے آگے والے لوگوں کا امام ہو تو اس کو یہ کام کرنا چاہیے۔ کیونکہ تم سے جو چیز بھی لی جائے گی اس میں تمہارا حصہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 38057
٣٨٠٥٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام عن (الحسن) (١) قال: أدركت أقواما يعزمون على أهاليهم (أن لا) (٢) يردوا سائلا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو اپنے گھر والوں کو اس بات پر پکا کرتے تھے کہ وہ کسی سائل کو واپس نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 38058
٣٨٠٥٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن (الحسن) (١) أنه تلا: ﴿(وَاسْأَلْهُمْ) (٢) عَنِ ⦗٥٦٦⦘ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا﴾ [الأعراف: ١٦٣] الآية، قال: كان حوت حرمه اللَّه (عليهم) (٣) في يوم، (وأحله) (٤) لهم في سوى ذلك، (فكان) (٥) يأتيهم في اليوم الذي حرم عليهم كأنه المخاض، ما يمتنع من أحد، فجعلوا يهمون ويمسكون حتى أخذوه، فأكلوا -واللَّه- بها أوخم أكلة أكلها قوم (قط) (٦) أبقى خزيا في الدنيا وأشد عقوبة في الآخرة، وأيم اللَّه للمؤمن أعظم حرمة عند اللَّه من حوت ولكن اللَّه جعل موعد قوم الساعة والساعة أدهى وأمر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے { وَاسْأَلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِی کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ إذْ یَعْدُونَ فِی السَّبْتِ إذْ تَأْتِیہِمْ حِیتَانُہُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا } پوری آیت تلاوت کی۔ تو فرمایا : یہ ایک مچھلی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک دن ان پر حرام کیا تھا اور اس کے علاوہ بقیہ دنوں میں اس کو لوگوں کے لیے حلال کیا تھا۔ پس یہ مچھلی ان کے پاس اس دن حاملہ اونٹنی کی طرح کی آجاتی تھیں۔ جو کسی کو نہیں روکتی تھی۔ چناچہ ان لوگوں نے ارادہ کیا اور (اس کو) روکنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کو پکڑ لیتے اور پھر کھالیتے۔ خدا کی قسم ! اس کھانے سے بڑھ کر کوئی کھانا نہیں ہے جو لوگوں نے کبھی کھایا ہو۔ اس نے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب کو چھوڑ دیا۔ اور خدا کی قسم ! مومن تو خدا کے ہاں مچھلی سے زیادہ حرمت رکھتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے قیامت کے دن کا وعدہ کر رکھا ہے اور قیامت زیادہ وحشت ناک اور ہو کر رہنے والی ہے۔
حدیث نمبر: 38059
٣٨٠٥٩ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن محمد قال: كنا نتحدث أن العبد إذا أراد اللَّه به -أظنه قال: خيرًا- جعل له زاجرا من نفسه يأمره بالخير وينهاه عن المنكر.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ یہ بات کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے اس کے اپنے نفس کی طرف سے ایک زاجر مقرر کردیتے ہیں جو اس کو خیر کا حکم دیتا ہے اور اس کو منکر سے روکتا ہے۔
حدیث نمبر: 38060
٣٨٠٦٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثنا عبد الحميد بن عبد اللَّه بن مسلم بن يسار قال: أخبرنا كلثوم بن (جبر) (٢) قال: كان المتمني بالبصرة يقول: فقه الحسن، وورع محمد بن سيرين، وعبادة طلق بن حبيب، وحلم (٣) ابن (يسار) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلثوم بن جبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بصرہ میں متمنی کہا کرتا تھا۔ حسن کی فقہ، حضرت محمد بن سیرین کا ورع، حضرت طلق بن حبیب کی عبادت اور ابن یسار کا حلم (بےمثال) ہے۔
حدیث نمبر: 38061
٣٨٠٦١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن عاصم قال: سمعت مورقا العجلي يقول: ما رأيت أحدا أفقه في ورعه، ولا أورع في فقهه من محمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مؤرق عجلی کہتے ہیں کہ میں نے محمد رحمہ اللہ سے بڑھ کر اپنی فقہ میں پرہیزگاری کرنے والا، اور اپنی پرہیزگاری میں فقہ رکھنے والا نہیں دیکھا۔ حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں۔ تم اس کو جہاں بھی پھیر دو ۔ تو وہ تم اس کو سب سے زیادہ پرہیزگاری کرنے والا اور تم میں سے اپنے نفس کا سب سے زیادہ مالک ہوگا۔
حدیث نمبر: 38062
٣٨٠٦٢ - (١) وقال أبو قلابة: اصرفوه حيث شئتم فتجدونه أشدكم ورعا، وأملككم لنفسه.
حدیث نمبر: 38063
٣٨٠٦٣ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد قال: لا أعلم (الدرن) (١) من الدين.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں دین میں کوئی میل کچیل نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 38064
٣٨٠٦٤ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا (سلام) (١) بن مسكين قال: حدثنا عمران بن عبد اللَّه بن (أبي) (٢) طلحة الخزاعي قال: إن نفس سعيد بن المسيب كانت أهون عليه في ذات اللَّه من نفس ذباب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب کا نفس، اللہ کے معاملہ میں ان پر مکھی سے بھی زیادہ ہلکا تھا۔
حدیث نمبر: 38065
٣٨٠٦٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد أن سعيد بن المسيب كان يكثر أن يقول في مجلسه: اللهم سلم سلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب اپنی مجلس میں اکثر یہ کہا کرتے تھے۔ اے اللہ ! سلامتی فرما۔ اے اللہ ! سلامتی فرما۔
حدیث نمبر: 38066
٣٨٠٦٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة عن يزيد عن عبد اللَّه بن الحارث قال: قال كعب: ما نظر اللَّه إلى الجنة قط إلا قال: طبت لأهلك، (فازدادت) (١) على ما كانت طيبا حتى يدخلها أهلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کی طرف کبھی نہیں دیکھا مگر یہ کہ فرمایا : تم اپنے اہل کے لیے اچھی ہوجاؤ۔ چناچہ وہ اپنی اچھائی کے باوجود مزید اچھی ہوتی ہے یہاں تک کہ اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 38067
٣٨٠٦٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا أبو عمران الجوني عن عبد اللَّه بن رباح الأنصاري عن كعب قال: قال إبراهيم: يا رب إني ليحزنني أن لا أرى أحدا في الأرض يعبدك غيري، فبعث اللَّه ملائكة (تصلي معه وتكون معه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم نے عرض کیا۔ اے پروردگار ! مجھے اس بات سے غم ہوتا ہے کہ روئے زمین پر میرے علاوہ تیری عبادت کوئی نہ کرے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا جو ابراہیم کے ساتھ ہوتے تھے اور ان کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 38068
٣٨٠٦٨ - حدثنا يحيى بن يمان عن عبد الرحمن بن ثوبان عن أبيه عن عبد اللَّه ابن (ضمرة) (١) عن كعب قال: الدنيا ملعونة، ملعون ما فيها إلا متعلم خير أو معلمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ سارا کچھ ملعون ہے سوائے خیر کے سیکھنے اور سکھانے والے کے۔
حدیث نمبر: 38069
٣٨٠٦٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرني علي بن زيد عن مطرف أن كعبا قال: في قوله: ﴿وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ﴾ [الواقعة: ٣٤]، قال: (١) مسيرة أربعين عاما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے کہ حضرت کعب نے ارشادِ خداوندی (وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ ) کے بارے میں فرمایا : چالیس سال کی مسافت تک۔
حدیث نمبر: 38070
٣٨٠٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام قال: حدثنا زيد بن أسلم عن عطاء ابن يسار عن كعب قال: (يؤتى) (١) بالرئيس في الخير يوم القيامة، فيقال (له) (٢): أجب ربك، فينطلق به إلى ربه فلا يحجب عنه، (٣) فيؤمر به إلى الجنة فيرى منزله ومنازل أصحابه الذين كانوا يجامعونه على الخير ويعينونه عليه، فيقال (له) (٤): هذه منزلة فلان وهذه منزلة فلان، (فيرى) (٥) (ما أعد اللَّه) (٦) (٧) في الجنة من الكرامة، ويرى منزلته (أفضل) (٨) من منازلهم، ويكسى من ثياب الجنة ويوضع على رأسه تاج، و (يعلقه) (٩) من ريح الجنة، ويشرق وجهه حتى يكون مثل القمر، قال همام: أحسبه قال: ليلة البدر. ⦗٥٦٩⦘ قال: فيخرج فلا يراه أهل ملأ إلا قالوا: اللهم اجعله منهم، حتى يأتي أصحابه الذين كانوا يجامعونه (على الخير) (١٠) ويعينونه عليه فيقول: أبشر يا فلان فإن اللَّه (١١) أعد لك في الجنة كذا، وأعد لك في الجنة كذا وكذا، فما (زال) (١٢) يخبرهم بما أعد اللَّه لهم في الجنة من الكرامة حتى يعلو وجوههم من البياض مثل ما علا وجهه، فيعرفهم الناس ببياض وجوههم (فيقولون) (١٣): هؤلاء أهل الجنة. ويؤتى بالرئيس في الشر فيقال له: أجب ربك، فينطلق به إلى ربه، فيحجب عنه، ويؤمر به إلى النار، فيرى (منزله) (١٤) ومنازل أصحابه، فيقال: هذه منزلة فلان وهذه منزلة فلان فيرى ما أعد اللَّه له فيها من الهوان، ويرى منزلته شرا من منازلهم، (قال) (١٥): فيسود وجهه وتزرق عيناه، ويوضع على رأسه قلنسوة من نار، فيخرج فلا يراه أهل ملأ إلا تعوذوا باللَّه منه، فيأتي أصحابه الذين كانوا يجامعونه على الشر ويعينونه عليه، قال: فيقولون: نعوذ باللَّه منك، قال: فيقول: ما أعاذكم اللَّه مني؟ فيقول لهم: أما تذكر يا فلان كذا وكذا؟ فيذكرهم الشر الذي وكانوا يجامعونه ويعينونه عليه، فما زال يخبرهم بما أعد اللَّه لهم في النار حتى يعلو وجوههم من السواد مثل ما علا وجهه، فيعرفهم الناس بسواد وجوههم (فيقولون) (١٦): (هؤلاء) (١٧) أهل النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن خیر میں سرداری کرنے والے ایک سردار کو لایا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا۔ اپنے رب کو جواب دو ۔ پھر اس کو اس کے رب کی طرف لے جایا جائے گا اور اس سے حجاب نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا چناچہ وہ اپنی اور اپنے ساتھ خیر کے کاموں میں معاونت اور ہاتھ بٹانے والوں کی منزلیں دیکھے گا۔ اور اس کو کہا جائے گا یہ فلاں کی منزل ہے اور یہ فلاں کی منزل ہے۔ چناچہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت میں عزت ومقام تیار کیا ہوگا یہ اس کو دیکھے گا۔ اور یہ اپنی منزل کو دیگر لوگوں کی منزلوں سے افضل دیکھے گا۔ اور اس کو جنت کے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اور اس کے سر پر تاج رکھا جائے گا اور اس پر جنت کی ہوا چڑھائی جائے گی۔ اور اس کے چہرے کو اتنا چمکایا جائے گا کہ وہ چاند کی طرح ہوجائے گا ہمام راوی کا کہنا ہے ۔ میرے خیال میں استاد نے کہا تھا۔ ماہِ تمام کی طرح … ہوجائے گا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ باہر آئے گا۔ اس کو جو لوگ بھی دیکھیں گے وہ یہی کہیں گے۔ اے اللہ اس کو ان میں سے کردے یہاں تک کہ یہ ان لوگوں کے پاس آئے گا جو اس کے ساتھ کارخیر میں معاونت اور شرکت کرتے تھے۔ اور کہے گا۔ اے فلاں ! تجھے خوشخبری ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے جنت میں ایسی ایسی تیاری کر رکھی ہے۔ اور تیرے لیے جنت میں یہ، یہ تیار کیا ہے۔ پس وہ ان لوگوں کو ان نعمتوں کے بارے میں بتاتا رہے گا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں بنا رکھی ہیں یہاں تک کہ ان کے چہروں پر بھی ایسی ہی سفیدی چڑھ جائے گی جیسی اس کے چہرے پر چڑھی ہوئی ہوگی۔ چناچہ لوگ انہیں ان کے چہروں کی سفیدی سے پہچانیں گے اور کہیں گے۔ یہ لوگ اہل جنت ہیں۔ (اور شریروں کے سردار کو لایا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا۔ تو اپنے رب کو جواب دے۔ پس اس کو اس کے رب کی طرف لے جایا جائے گا۔ پھر اس سے پردہ کردیا جائے گا اور اس کو جہنم کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ (وہاں) اپنی اور اپنے ساتھیوں کی منزل دیکھے گا۔ اس کو کہا جائے گا۔ یہ فلاں کی منزل ہے اور یہ فلاں کی منزل ہے پس وہ وہاں خدا کی طرف سے تیار کردہ ذلت کو دیکھے گا اور وہ اپنی منزل دیگر تمام لوگوں سے بدتر دیکھے گا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اس کا چہرہ سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی اور اس کے سر پر آگ کی ٹوپی رکھی جائے گی۔ پھر یہ باہر آئے گا تو اس کو جو جماعت بھی دیکھے گی وہ اس سے خدا کی پناہ مانگے گی۔ پھر وہ اپنے ان ساتھیوں کے پاس آئے گا جو اس کے ساتھ شر میں معاونت وشرکت کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ لوگ کہیں گے۔ ہم تجھ سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ سے پناہ نہ دے پھر یہ ان سے کہے گا۔ اے فلاں ! یہ یہ بات یاد کر۔ چناچہ یہ ان کو وہ تمام شرارتیں یاد دلائے گا جس کو یہ سب اکٹھے اور باہم معاونت سے کرتے تھے۔ یہ انہیں جہنم میں ان کے لیے تیار شدہ عذاب کی بات کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کے چہرے پر چڑھی ہوئی سیاہی کی طرح ان کے چہرے پر بھی سیاہی چڑھ جائے گی اور لوگ ان کو ان کے چہرے کی سیاہی کی وجہ سے پہچان لیں گے اور لوگ کہیں گے۔ یہ جہنم والے ہیں۔
حدیث نمبر: 38071
٣٨٠٧١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: قال لنا أبي: إذا رأى أحدكم شيئا من زينة الدنيا وزهرتها، فليأت أهله (فيأمرهم) (١) بالصلاة وليصطبر عليها، فإن اللَّه قال لنبيه: (و) (٢) ﴿(لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ) (٣) إِلَى (مَا) (٤) مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ﴾ [الحجر: ٨٨] ثم قرأ إلى آخر الآية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں، میرے والد صاحب نے کہا تھا : جب تم میں سے کوئی دنیا کی زینت اور خوب صورتی کو دیکھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئے اور ان کو نماز پڑھنے اور اس پر ٹھہرنے کا حکم دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : { وَلاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْک إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجًا مِنْہُمْ } پھر آپ رحمہ اللہ نے آخر تک یہ آیت تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 38072
٣٨٠٧٢ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام بن عروة عن أبيه قال: إذا رأيت الرجل يعمل الحسنة، فاعلم أن (لها عنده) (١) أخوات، (فإن الحسنة تدل على أختها، وإذا رأيته يعمل السيئة فاعلم أن لها عنده أخوات) (٢)، (فإن) (٣) السيئة تدل على أختها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : جب تم کسی آدمی کو نیکی کرتے دیکھو تو جان لو کہ اس کے پاس اور بھی نیکیاں ہیں کیونکہ نیکی، نیکی پر دلالت کرتی ہے۔ اور جب تم کسی آدمی کو گناہ کرتے دیکھو تو جان لو کہ اس کے پاس اور بھی گناہ ہیں کیونکہ گناہ گناہ پر دلالت کرتا ہے۔