حدیث نمبر: 38000
٣٨٠٠٠ - حدثنا الحسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبي رزين عن معاذ بن جبل عن النبي ﷺ (قال) (١): "لا حول ولا قوة إلا باللَّه (كنز من كنوز الجنة) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ۔ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
حدیث نمبر: 38001
٣٨٠٠١ - حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن أبي حازم [قال: (انظر) (١) كل عمل كرهت الموت (من) (٢) أجله فاتركه، (ثم لا يضرك متى ما مت) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم ہر اس عمل کو دیکھو جس کی وجہ سے تم موت کو ناپسند کرتے ہو۔ پس تم اس کو چھوڑ دو ۔ پھر تم جب بھی مرو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 38002
٣٨٠٠٢ - حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن ⦗٥٥٤⦘ أبي حازم] (١) أنه قال: يسير الدنيا (يشغل) (٢) عن كثير الآخرة، ثم قال: إنك تجد الرجل يشغل نفسه بهم غيره، حتى (لهو) (٣) أشد اهتماما من صاحب الهم (بهم) (٤) نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ تھوڑی سی دنیا، بہت زیادہ آخرت سے مشغول کردیتی ہے۔ پھر فرمایا : تم ایسے آدمی کو پاؤ گے جو غیر کی فکر میں اپنے آپ سے مشغول ہوگا۔ جبکہ اس کو دوسرے کی فکر سے زیادہ اپنے نفس کی فکر رکھنی چاہیے تھی۔
حدیث نمبر: 38003
٣٨٠٠٣ - حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا يعقوب عن أبي (حازم) (١) أنه قالت: جد الرجل يعمل بالمعاصي فإذا قيل له تحب الموت؟ قال: لا، وكيف وعندي ما عندي، فيقال له: أفلا تترك ما تعمل به من المعاصي؟ (فقال) (٢): ما أريد تركه وما أحب أن أموت حتى أتركه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے وہ کہا کرتے تھے کہ تم ایک آدمی کو دیکھتے ہو جو گناہ کر رہا ہے۔ پس جب اس سے کہا جائے تمہیں موت پسند ہے ؟ وہ کہتا ہے۔ نہیں اور کیسے پسند ہو جبکہ میرے پاس جو ہے وہ ہے۔ پھر اس سے کہا جائے۔ کیا تم ان گناہ کے عملوں کو ترک نہیں کرتے ؟ تو وہ کہتا ہے میں ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں مر جاؤں۔ یہاں تک کہ میں ان کو چھوڑ دوں۔
حدیث نمبر: 38004
٣٨٠٠٤ - [حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا إبراهيم عن أبي سهل عن (الحسن) (١) في قوله: ﴿إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا﴾ [النبأ: ٢١]، قال: ترصدهم واللَّه، قال: وبينما رجل يمر إذا استقبله آخر (فقال) (٢): أبلغك أن بالطريق رصدا، قال: (نعم، قال) (٣): فخذ (حذرك) (٤) إذن] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشادِ خداوندی {إنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! جہنم، مجرموں کا گھات لگائے گی۔ فرمایا کہ اسی دوران ایک آدمی گزر رہا ہوگا کہ اس کے سامنے ایک آدمی آئے گا اور (اس سے) کہے گا۔ کیا تمہیں یہ بات پہنچی ہے کہ راستہ میں گھات لگا ہوا ہے ؟ وہ کہے گا۔ ہاں۔ پہلا آدمی کہے گا۔ پھر تم اپنا بچاؤ کرو۔
حدیث نمبر: 38005
٣٨٠٠٥ - حدثنا حسين بن علي قال: رأيت أبا سنان يوم جمعة (وعيناه) (١) تسيلان (وشفتاه) (٢) تحرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسنان کو جمعہ کے دن دیکھا کہ ان کی آنکھیں بہہ رہی تھیں اور ان کے ہونٹ حرکت کررہے تھے۔
حدیث نمبر: 38006
٣٨٠٠٦ - حدثنا وكيع عن جعفر (عن ميمون) (١) قال: لا يكون الرجل تقيا حتى يحاسب نفسه (٢) محاسبة الرجل (شريكه) (٣)، حتى ينظر من أين مطعمه (ومشربه ومكسبه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی تب تک متقی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے نفس سے اس سے بھی سخت محاسبہ نہ کرے جیسا وہ اپنے شریک سے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دیکھے کہ اس کا کھانا، اس کا پینا، اس کا لباس کہاں سے ہے ؟ “
حدیث نمبر: 38007
٣٨٠٠٧ - حدثنا (وكيع) (١) عن سفيان عن منصور عن سعيد بن جبير في قوله: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا﴾ (٢) [هود: ١٥]، قال: من عمل للدنيا وُفيّه في الدنيا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے ارشادِ خداوندی { مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ إلَیْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِیہَا وَہُمْ فِیہَا لاَ یُبْخَسُونَ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص دنیا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کو دنیا میں ہی اس کا پورا بدلہ دے دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 38008
٣٨٠٠٨ - حدثنا سفيان بن عيينة (١) قال: قالوا لابن (المنكدر) (٢): أي العمل أحب إليك؟ قال: إدخال السرور على المؤمن، قالوا: فما بقي مما (تستلذ؟) (٣) قال: الإفضال على الإخوان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن المنکدر سے پوچھا آپ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مومن کو خوش کرنا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون سی چیز باقی رہ گئی ہے جس سے آپ لذت حاصل کریں ؟ انہوں نے فرمایا : بھائیوں کا اکرام۔
حدیث نمبر: 38009
٣٨٠٠٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عمارة بن عمير قال: دخل قيس بن (السكن) (١) المسجد فجعل ينظر ويقول: أجدب المسجد (أجدب المسجد) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت قیس بن سکن مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھنے لگ گئے پھر فرمایا : مسجد قحط زدہ ہوگئی، مسجد قحط زدہ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 38010
٣٨٠١٠ - حدثنا ابن عيينة عن مالك بن مغول عن أبي حصين قال: قال لي: لو رأيت (أقواما) (١) (رأيتهم) (٢) لتقطعت كبدك عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول، حضرت ابوحصین کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھے کہا : اگر تم ان لوگوں کو دیکھ لیتے جن کو میں نے دیکھا ہے تو تم ان پر اپنا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے کرلیتے۔
حدیث نمبر: 38011
٣٨٠١١ - حدثنا ابن عيينة عن أبي حازم قال: اكتم حسناتك أكثر (مما) (١) تكتم سيئاتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم اپنی نیکیوں کو اس سے زیادہ چھپاؤ کہ جتنا تم اپنی برائیوں کو چھپاتے ہو۔
حدیث نمبر: 38012
٣٨٠١٢ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن قيس قال: من قرأ مائتي آية وهو ينظر في المصحف لم يجئ أحد في ذلك اليوم بأفضل منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص قرآن پاک کی دو صد آیات کی تلاوت اس طرح کرتا ہے کہ وہ قرآن کو دیکھ رہا ہوتا ہے تو کوئی آدمی اس دن اس شخص سے افضل کام کرنے والا نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 38013
٣٨٠١٣ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: ما رأيت أحدا أعلم بفتيا من جابر ابن زيد، وسمعته يقول: ما أملك من الدنيا شيئا إلا حمارا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے بڑا عالم فتویٰ نہیں دیکھا اور میں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ میں دنیا میں سے صرف ایک گدھے کا مالک ہوں۔
حدیث نمبر: 38014
٣٨٠١٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن العلاء بن المسيب عن أبي الضحى في قوله: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ [يونس: ٦٢]، قال: هم الذين إذا رؤوا، ذكر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالضحی سے ارشاد خداوندی { ألاَّ إنَّ أَوْلِیَائَ اللہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جب دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے۔
حدیث نمبر: 38015
٣٨٠١٥ - حدثنا حفص بن غياث عن مالك بن مغول عمن حدثه قال: قال عبد اللَّه: من سره أن يعلم ماله عند اللَّه فلينظر ما للناس عنده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس آدمی کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ اللہ کے پاس موجود اپنی حالت کو دیکھے تو اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس لوگوں کی کیا حالت ہے۔
حدیث نمبر: 38016
٣٨٠١٦ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثنا شعبة عن الحكم عن مجاهد: ﴿إِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ﴾ [التوبة: ١١٠] قال: الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے {إِلاَّ أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُہُمْ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : یہ موت ہے۔
حدیث نمبر: 38017
٣٨٠١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن طارق عن سالم: ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ [الحجر: ٩٩] قال: (اليقين) (١) الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم سے { وَاعْبُدْ رَبَّک حَتَّی یَأْتِیَک الْیَقِینُ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : الْیَقِینُ سے مراد موت ہے۔
حدیث نمبر: 38018
٣٨٠١٨ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا الربيع بن المنذر عن أبيه (أن) (١) الربيع بن خثيم جاؤوه (برمل) (٢) أو اشتري له رمل، فطرح في بيته أو في داره -يعني يجلس عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن منذر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم کے پاس لوگ کنکریاں لے کر آئے یا ان کے لیے کنکریاں خریدی گئیں پس یہ ان کے گھر یا ان کے کمرہ میں ڈالی گئیں۔ یعنی وہ اس پر بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 38019
٣٨٠١٩ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن سرية الربيع بن خثيم قالت: كان عمل الربيع سرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم کی سریہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت ربیع کا عمل مخفی ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 38020
٣٨٠٢٠ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا الحكم بن عبد الملك عن قتادة عن مطرف بن الشخير عن ابن عباس: ﴿مِنْ (مَاءٍ) (١) صَدِيدٍ﴾ [إبراهيم: ١٦]، قال: ما يسيل بين جلد الكافر ولحمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشادِ خداوندی { مِنْ مَائٍ صَدِیدٍ } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ یہ وہ پانی ہے جو کافر کی جلد اور اس کے گوشت کے درمیان چلتا ہے۔
حدیث نمبر: 38021
٣٨٠٢١ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف عن الحسن: ﴿(يَوْمَئِذٍ) (١) يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى (٢٣) يَقُولُ يَالَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي﴾ [الفجر: ٢٣ - ٢٤]، قال: علم واللَّه أنه (صادف) (٢) هناك حياة طويلة لا موت فيها (آخر ما عليه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے { یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الإِنْسَان وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْت لِحَیَاتِی } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! اس کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ ایسی زندگی کے قریب ہے کہ جس میں آخرکار موت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 38022
٣٨٠٢٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو الأشهب عن الحسن أن ملكا من تلك الملوك حضرته الوفاة، فأطاف به أهل مملكته، فقالوا: (لمن) (١) تدع العباد والبلاد بعدك؟ فقال: يا أيها القوم لا تجهلوا، فإنكم في ملك من لا يبالي: أصغيرٌ أخذ من ملكه أو كبير.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ اس کی موت کا وقت آیا تو اس کے اہل مملکت اس کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ آپ، اپنے بعد شہروں اور لوگوں کو کس کے لیے چھوڑ رہے ہیں ؟ تو اس بادشاہ نے جواب دیا۔ اے لوگو ! تم جاہل نہ رہنا۔ تم سب اس ذات کی ملکیت میں ہو جس کو اس کی پروا نہیں ہے کہ اس کی ملک سے یہ چیز کوئی چھوٹا لے یا کوئی بڑا لے۔
حدیث نمبر: 38023
٣٨٠٢٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب (عن الحسن) (١) قال: لا يزال العبد بخير إذا قال اللَّه، وإذا عمل للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب تک آدمی اللہ کے لیے کہتا ہے اور جب تک آدمی اللہ کے لیے عمل کرتا ہے تب تک وہ خیر پر رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 38024
٣٨٠٢٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو الأشهب قال: سمعت الحسن يقول: يا ابن آدم إن لك سرا، وإن لك علانية، فسرك أملك (بك) (١) من علانيتك، وإن لك (عملًا، وإن لك قولًا) (٢)، (فعملك) (٣) أملك (بك) (٤) من قولك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاشہب بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو کہتے سنا : اے آدم کے بیٹے ! تیرا ایک پوشیدہ حال ہے اور ایک تیرا ظاہری حال ہے۔ پس تیرا پوشیدہ حال، تیرے ظاہر سے زیادہ تیرے قبضہ میں ہے۔ ایک تیرا عمل ہے اور ایک تیرا قول ہے۔ پس تیرا عمل، تیرے قول سے زیادہ تیرے قبضہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 38025
٣٨٠٢٥ - (حدثنا عفان قال) (١): حدثنا أبو الأشهب قال: سمعت الحسن يقول: يا ابن آدم تبصر القذى في عين أخيك، وتدع الجذل (٢) (معترضا) (٣) في عينك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاشہب بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو کہتے سنا۔ اے ابن آدم ! تجھے اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا دکھائی دیتا ہے اور اپنی آنکھ میں موجود شہتیر بھی تو چھوڑ دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 38026
٣٨٠٢٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا عطاء بن السائب أن أبا (البختري) (١) وأصحابه كانوا إذا سمع أحدهم (يثني) (٢) عليه أو دخله عجب ثنى منكبيه وقال: خشعت للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوالبختری اور ان کے ساتھی جب کسی کو اپنے بارے میں تعریف کہتے سنتے یا انہیں عجب محسوس ہوتا تو وہ اپنے کندھوں کو موڑ لیتے اور کہتے۔ میں اللہ کے لیے خشوع کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 38027
٣٨٠٢٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال: قيل للحسن: يا أبا سعيد أينام الشيطان؟ قال: لو غفل لوجدها كل مؤمن من قلبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حسن سے پوچھا گیا۔ اے ابوسعید ! کیا شیطان سوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اگر وہ غافل ہوتا تو اس بات کو ہر مومن اپنے دل میں محسوس کرتا۔
حدیث نمبر: 38028
٣٨٠٢٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو الأشهب قال: (حدثنا) (١) الحسن أنه قال: (٢) للشر (أهل) (٣)، وللخير (أهل) (٤)، (و) (٥) من ترك شيئا كفيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاشہب بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حسن بیان کرتے ہیں۔ شر کے اہل بھی ہیں اور خیر کے اہل بھی ہیں۔ جو شخص کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کو اس کی کفایت ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 38029
٣٨٠٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن حفصة عن الربيع بن زياد عن كعب قال: واللَّه ما استقر لعبد ثناء في الأرض حتى يستقر (له) (١) في أهل السماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! کسی بندہ کی تعریف زمین میں نہیں ٹھہرتی یہاں تک کہ وہ اس کے لیے آسمان میں قرار پکڑ لیتی ہے۔
حدیث نمبر: 38030
٣٨٠٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا جويبر عن الضحاك قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى: أما بعد فإن القوة في العمل أن لا تؤخروا عملَ اليوم لغد، فإنكم إذا فعلتم ذلك تداركت عليكم الأعمال فلم (تدروا) (١) أيها تأخذون فأضعتم، فإذا خيرتم بين أمرين: أحدهما للدنيا والآخر للآخرة؛ فاختاروا ⦗٥٦٠⦘ أمر الآخرة على أمر الدنيا، فإن الدنيا تفنى و (٢) الآخرة تبقى، كونوا من اللَّه (على وجل) (٣)، وتعلموا كتاب اللَّه، فإنه ينابيع العلم وربيع القلوب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حصرت ابوموسیٰ کو تحریر فرمایا : اما بعد ! بیشک عمل میں قوت ہے۔ تم آج کا کام کل پر نہ چھوڑنا۔ کیونکہ تم جب اس طرح کرو گے تو بہت سے اعمال تمہارے اوپر جمع ہوجائیں گے۔ تمہیں پتہ نہیں چلے گا کہ تم ان میں سے کس کو لو۔ پھر تم ضیاع کرو گے۔ پس جب تمہیں دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جائے۔ ان میں سے ایک دنیا کے لیے ہو۔ اور دوسرا آخرت کے لیے ہو۔ تو تم آخرت کے کام کو دنیا کے کام پر ترجیح دو ۔ کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے اور تم اللہ کی طرف سے خوف پر رہو۔ اور تم اللہ کی کتاب سیکھو۔ کیونکہ وہ علم کے چشمے ہیں اور دلوں کی بہار ہے۔
حدیث نمبر: 38031
٣٨٠٣١ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: من (راءي راءى) (١) (اللَّه) (٢) به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص ریا کاری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ دکھلاوا کریں گے۔
حدیث نمبر: 38032
٣٨٠٣٢ - حدثنا وكيع عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن عبد اللَّه بن أبي زكريا قال: بلغني أن الرجل إذا رأءى بشيء من عمله أحبط ما كان قبل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ابی زکریا سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ جب آدمی اپنے کسی عمل میں ریا کاری کرتا ہے تو اس کے اس سے پہلے والے عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38033
٣٨٠٣٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل قال: سمعت جندبا العلقي يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "من يسمع يسمع اللَّه به، ومن يرائي يرائي اللَّه به" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب علقی فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ناموری چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرتے ہیں اور جو شخص ریا کاری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دکھلاوا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38034
٣٨٠٣٤ - [حدثنا غندر عن شعبة عن عاصم بن بهدلة قال: سمعت أبا رزين قال: قال عبد اللَّه: من يسمع (يسمع) (١) اللَّه به، ومن يرائي يرائي اللَّه به] (٢)، ومن ⦗٥٦١⦘ تواضع تخشعا رفعه اللَّه، ومن (تعظم) (٣) تطاولا وضعه اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں جو شخص ناموری چاہتا ہے تو اللہ اس کو رسوائی دیتے ہیں اور جو شخص ڈر کر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند کرتے ہیں اور جو دراز ہو کر بڑا بننا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو گرا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38035
٣٨٠٣٥ - حدثنا الفضل بن دكين (قال) (١): حدثنا الأعمش عن عمرو بن (ميمون) (٢) عن شيخ يكنى أبا (يزيد) (٣) قال: سمعت عبد اللَّه بن عمرو يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "من يسمع الناس بعمله سمع اللَّه به سامع خلقه يوم القيامة، وحقره وصغره" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں میں ناموری چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن ساری مخلوق میں رسوا کرے گا اور اس کو حقیر اور صغیر کریں گے۔
حدیث نمبر: 38036
٣٨٠٣٦ - حدثنا بكر بن عبد الرحمن قال: حدثنا عيسى بن المختار عن محمد بن أبي ليلى عن (العوفي) (١) عن أبي سعيد عن رسول اللَّه ﷺ قال: "من سمع سمع اللَّه به ومن راءى راءى اللَّه به" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ناموری چاہتا ہے تو اللہ اس کو رسوا کردیتا ہے اور جو شخص ریاکاری کرتا ہے تو اللہ اس کے ساتھ دکھلاوا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 38037
٣٨٠٣٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: لقد ⦗٥٦٢⦘ (أدركت) (١) أقواما ما كانوا يشبعون ذلك الشبع، إن كان أحدهم ليأكل حتى إذا رد نفسه أمسك ذابلا ناحلا مقبلا (على شأنه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تحقیق میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو اس طرح سے پیٹ سیراب کرکے نہیں کھاتے تھے۔ وہ لوگ کھانا کھانے کے بعد بھی کمزور، نحیف اور پہلے کی طرح چست ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 38038
٣٨٠٣٨ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث قال: كنا إذا دخلنا على الحسن خرجنا (وما) (١) نعد الدنيا شيئا.
مولانا محمد اویس سرور
حصرت اشعث سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم حسن کے پاس جاتے تو ہم اس حال میں باہر آتے کہ ہم دنیا کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 38039
٣٨٠٣٩ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبي الأشهب عن الحسن: ﴿وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ﴾ [سبأ: ٥٤] قال: من الإيمان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے قرآن مجید کی آیت { وَحِیلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُونَ } کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے مراد ایمان سے محروم ہونا ہے۔
…