کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت حسن بصری کا کلام
حدیث نمبر: 37960
٣٧٩٦٠ - قال: ثم يقول الحسن: وهل يطيب الطعام إلا بالملح، ثم يقول الحسن: فكيف بقوم قد ذهب ملحهم؟.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37960
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37960، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 37961
٣٧٩٦١ - حدثنا الحسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: أدركتهم، واللَّه إن كان أحدهم ليعيش عمره ما طُوي له ثوب قط، ولا أمر أهله بصنعة طعام له قط، ولا حال بينه وبين الأرض شيء قط.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے کہ ان میں سے ایک اپنی پوری عمر گزار دیتا لیکن اس کے کپڑوں کو کبھی نہیں لپیٹا جاتا تھا اور نہ ہی اس نے کبھی اپنے اہل کو کھانا بنانے کا کہا اور نہ ہی اس کے اور زمین کے درمیان کبھی کوئی چیز حائل ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37961
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37961، ترقيم محمد عوامة 36374)
حدیث نمبر: 37962
٣٧٩٦٢ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرني أبو الأشهب عن الحسن قال: لما عرض على آدم ذريته رأى فضل بعضهم على بعض فقال: رب لو سوّيت بينهم، قال: يا آدم إني أحب أن أشكر، يرى ذو الفضل فضله فيحمدني ويشكرني.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر ان کی اولاد پیش کی گئی تو آپ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت والا دیکھا تو عرض کیا : اے میرے پروردگار ! اگر آپ ان کے درمیان برابری فرما دیتے ؟ ارشاد ہوا۔ اے آدم ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرا شکر کیا جائے۔ فضیلت والا، اپنی فضیلت کو دیکھے تو میری تعریف کرے اور میرا شکر ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37962
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37962، ترقيم محمد عوامة 36375)
حدیث نمبر: 37963
٣٧٩٦٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن الأعمش عن أبي وائل عن مسروق قال: ما دخل بيتا حبْرَة إلا دخلته عَبْرَة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس گھر میں بھی خوشی داخل ہوتی ہے اس گھر میں غبار بھی داخل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37963
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37963، ترقيم محمد عوامة 36376)
حدیث نمبر: 37964
٣٧٩٦٤ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا (عمر) (١) بن حمزة قال: أخبرني الحارث ابن عبد الرحمن (عن) (٢) أبي ذؤيب قال: قالت عائشة: ما أعلم رجلا سلمه اللَّه من أمور الناس واستقام على طريقة من كان قبله استقامةَ عبد اللَّه بن عمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتی جس کو اللہ نے لوگوں کے معاملہ سے محفوظ رکھا ہو۔ اور وہ اپنے سے پہلوں کے طریقہ پر استقامت اختیار کیے ہو جس طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے استقامت فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37964
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37964، ترقيم محمد عوامة 36377)
حدیث نمبر: 37965
٣٧٩٦٥ - حدثنا أبو داود عمر بن سعد عن سفيان قال: قال: رجل لمحمد بن واسع إني لأحبك في اللَّه قال: أحبك الذي أحببتني له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت محمد بن واسع سے عرض کیا۔ میں آپ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے جواب دیا جس کی وجہ سے تو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ تجھ سے محبت کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37965
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37965، ترقيم محمد عوامة 36378)
حدیث نمبر: 37966
٣٧٩٦٦ - حدثنا أبو داود عمر بن سعد عن سفيان (١) عن ابن جريج عن مجاهد ⦗٥٤٥⦘ ﴿ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ﴾ [التغابن: ٩]، قال: إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے { ذَلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ } کے بارے میں روایت ہے وہ فرماتے ہیں (یہ وہ دن ہے) جب اہل جنت، جنت میں اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37966
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37966، ترقيم محمد عوامة 36379)
حدیث نمبر: 37967
٣٧٩٦٧ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن عمارة بن القعقاع عن ابن شبرمة قال: ما رأيت حيا (أكثر) (١) (شيخا) (٢) (فقيها) (٣) (متعبدا) (٤) من (بني) (٥) ثور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شبرمہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کوئی قبیلہ بنو ثور سے زیادہ شیوخ فقہاء اور عابدین والا نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37967
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37967، ترقيم محمد عوامة 36380)
حدیث نمبر: 37968
٣٧٩٦٨ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن العلاء بن المسيب عن أبي (يعلى) (١) قال: كان فينا ثلاثون رجلا، ما منهم رجل دون ربيع بن (خثيم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابویعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم میں تیس آدمی تھے۔ ان میں سے کوئی آدمی ربیع بن خیثم سے کم درجہ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37968، ترقيم محمد عوامة 36381)
حدیث نمبر: 37969
٣٧٩٦٩ - [حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن (عقبة) (١) الأسدي عن إبراهيم أنه أتي بخبيص فلم يأكله وقال: هذا طعام الصبيان] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس حلوہ لایا گیا تو انہوں نے وہ نہ کھایا اور فرمایا : یہ بچوں کا کھانا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37969، ترقيم محمد عوامة 36382)
حدیث نمبر: 37970
٣٧٩٧٠ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع الأسدي عن ابن منبه قال: الإيمان عُريان، ولباسه التقوى، وماله الفقه، وزينته الحياء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایمان برہنہ ہوتا ہے اور اس کا لباس تقوی ہے اور اس کا مال فقہ ہے اور اس کی زینت حیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37970، ترقيم محمد عوامة 36383)
حدیث نمبر: 37971
٣٧٩٧١ - حدثنا قبيصة (قال: حدثنا) (١) يونس بن أبي إسحاق (عن أبي ⦗٥٤٦⦘ إسحاق) (٢) قال: كان عمرو بن ميمون إذا دخل المسجد ذكر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون جب مسجد میں داخل ہوتے تو خدا یاد آجاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37971
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37971، ترقيم محمد عوامة 36384)
حدیث نمبر: 37972
٣٧٩٧٢ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن ليث عن طاوس قال: إذا تعلمت فتعلم لنفسك، فإن الناس قد ذهبت منهم الأمانة، قال: وكان (يعد) (١) الحديث حرفا حرفا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب تم علم حاصل کرو تو تم اپنی ذات کے لیے علم حاصل کرو۔ کیونکہ لوگوں میں سے امانت ختم ہوگئی ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ حدیث کو ایک ایک حرف کرکے شمار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37972
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37972، ترقيم محمد عوامة 36385)
حدیث نمبر: 37973
٣٧٩٧٣ - حدثنا قبيصة قال: أخبرنا سفيان عن أبي حيان عن أبيه عن شيخ لهم أنه كان إذا سمع السائل يقول: من (١) يقرض اللَّه قرضًا حسنًا، قال: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه (واللَّه أكبر) (٢)، هذا القرض الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
ایک شیخ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جب کسی سوال کرنے والے کو سنتے جو کہتا کون اللہ کو قرض حسن دے گا۔ وہ فرماتے : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ یہ قرض حسن ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37973
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37973، ترقيم محمد عوامة 36386)
حدیث نمبر: 37974
٣٧٩٧٤ - حدثنا قبيصة (عن) (١) سفيان عن سرية الربيع قال: كان الربيع ابن (خثيم) (٢) يحب (الحلوى) (٣) فيقول لنا: اصنعوا لي طعاما، فنصنع له طعاما كثيرا، فيدعو فروخا (و) (٤) فلانا، فيطعمهم ربيع بيده ويسقيهم، ويشرب هو فضل شرابهم، فيقال له: ما يدريان هذان ما تُطعمهما؟ فيقول: لكن اللَّه يدري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سریہ ربیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خیثم کو حلوہ پسند تھا۔ پس وہ ہمیں کہتے۔ میرے لیے کھانا بناؤ۔ چناچہ ہم ان کے لیے بہت زیادہ کھانا تیار کرتے۔ پھر وہ حضرت فروخ اور فلاں کو بلا لیتے۔ اور حضرت ربیع ان کو اپنے ہاتھ سے کھلاتے پلاتے۔ اور خود ان کا بچا ہوا مشروب پیتے۔ حضرت ربیع کو کہا گیا۔ ان دونوں کو کیا پتہ، آپ ان کو کیا کھلاتے ہیں ؟ اس پر حضرت ربیع کہتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37974
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37974، ترقيم محمد عوامة 36387)
حدیث نمبر: 37975
٣٧٩٧٥ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن (بختري) (١) (الطائي) (٢) قال: كان يقول: اغبط الأحياء بما تغبط به الأموات، واعلم أن العبادة ⦗٥٤٧⦘ لا تصلح إلا بزهد، وذُل [عند الطاعة، (واستصعب) (٣) عند] (٤) معصية، وأحِبَّ الناس على (قدر) (٥) تقواهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بختری طائی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ جن چیزوں کی وجہ سے مردے رشک کرتے ہیں اس کی وجہ سے زندے بھی رشک کریں۔ جان لو کہ عبادت زہد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی اور نیکی کے وقت نرم ہوجا، گناہ کے وقت مشکل ہوجا اور لوگوں سے ان کے تقویٰ کے بقدر محبت کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37975
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37975، ترقيم محمد عوامة 36388)
حدیث نمبر: 37976
٣٧٩٧٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا عبد الرحمن بن حميد قال: سمعت أبا إسحاق يقول: أقرأ أبو عبد الرحمن السلمي القرآن في المسجد أربعين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحق فرماتے ہیں کہ حضرت ابوعبدالرحمن سلمی نے مسجد میں چالیس سال تک قرآن پڑھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37976
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37976، ترقيم محمد عوامة 36389)
حدیث نمبر: 37977
٣٧٩٧٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن موسى بن قيس عن سلمة بن كهيل قال: لو كان المؤمن على قصبة في البحر (لقيض) (١) اللَّه له من يؤذيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کہیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر مومن، سمندر کے اندر ایک کنارے پر ہوگا تو اللہ تعالیٰ (وہاں پر بھی) اس چیز کو مقرر کریں گے جو اس کو تکلیف دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37977
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37977، ترقيم محمد عوامة 36390)
حدیث نمبر: 37978
٣٧٩٧٨ - حدثنا (غندر) (١) (محمد) (٢) بن جعفر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن أبي كثير الزبيدي عن (ابن عمرو) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إياكم والظلم فإن الظلم ظلمات يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن ظلمات کی شکل میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37978
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٤٨٧)، وابن حبان (٥١٧٦)، والحاكم ١/ ١١، والدارمي (٢٥١٦)، والطبراني في الأوسط (٦٧٥٠)، والطيالسي (٢٢٧٢)، والبيهقي ١٠/ ٢٤٣، وابن عبد البر في التمهيد ٢١/ ٣٩، والمزي ٣٤/ ٢٢٠، وابن عساكر ١٩/ ٩٥، والخطيب في الموضح ٢/ ٩٩، والمروزي في تعظيم الصلاة (٦٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37978، ترقيم محمد عوامة 36391)
حدیث نمبر: 37979
٣٧٩٧٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عطاء بن السائب عن محارب عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الظلم ظلمات يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظلم قیامت کے دن ظلمات کی شکل میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37979
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ زائدة روى عن عطاء قبل اختلاطه، أخرجه البخاري (٢٤٤٧)، ومسلم (٢٥٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37979، ترقيم محمد عوامة 36392)
حدیث نمبر: 37980
٣٧٩٨٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن [أبي ظبيان عن جرير قال: قال لي سلمان: أتدري ما الظلمات يوم القيامة؟ هو ظلم الناس بينهم في الدنيا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان نے مجھے پوچھا۔ کیا تو جانتا ہے کہ قیامت کے دن ظلمات کیا ہوں گی ؟ یہ لوگوں کا دنیا میں باہم ظلم کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37980
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه هناد (٩٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٢، والبيهقي في شعب الإيمان (٨١٤٧)، وابن عساكر ٢١/ ٤٣٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37980، ترقيم محمد عوامة 36393)
حدیث نمبر: 37981
٣٧٩٨١ - حدثنا أبو أسامة عن الفزاري عن الأعمش] (١) عن المنهال عن عبد اللَّه ابن الحارث عن ابن عباس قال: أوحى اللَّه إلى داود: قل للظلمة: لا يذكروني فإنه حق علي أن أذكر من ذكرني، وإن ذكري إياهم أن (ألعنهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت داود کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ آپ ظالموں سے کہو۔ وہ مجھے یاد نہ کیا کریں۔ کیونکہ یہ مجھ پر حق ہے کہ جو مجھے یاد کرے میں اس کو یاد کروں اور ان ظالموں کو میرا یاد کرنا یہ ہے کہ میں ان پر لعنت کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح إلى ابن عباس؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ٧٣)، وهناد (٧٨٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٤٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37981، ترقيم محمد عوامة 36394)
حدیث نمبر: 37982
٣٧٩٨٢ - حدثنا (الفضل) (١) بن دكين قال: ثنا زهير عن أبي إسحاق عن ثمامة بن بجاد قال: أنذرتكم: سوف أقوم، سوف أصلي، سوف أصوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثمامہ بن بجاد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں (ایسی بات کرنے سے) ڈراتا ہوں کہ میں عنقریب قیام کروں گا۔ میں عنقریب نماز پڑھوں گا۔ میں عنقریب روزہ رکھوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37982، ترقيم محمد عوامة 36395)
حدیث نمبر: 37983
٣٧٩٨٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن أبي إسحاق عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: "لا (تؤخر) (١) عمل اليوم لغد، فإنك لا تدري ما في غد" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم آج کا کام کل پر نہ چھوڑو۔ کیونکہ تمہیں کل کے دن کیا ہونے والا ہے اس کا پتہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37983
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37983، ترقيم محمد عوامة 36396)
حدیث نمبر: 37984
٣٧٩٨٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن محمد بن سوقة عن أبي جعفر قال: لم يكن من أصحاب رسول اللَّه ﷺ (أحد إذا سمع من رسول اللَّه ﷺ) (١) حديثا (أخذه) (٢) لا يزيد فيه ولا ينقص منه، ولا، (ولا) (٣) من عبد اللَّه بن (عمر) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ م میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا کہ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو اس کو لے لیتا۔ نہ اس میں زیادتی کرتا اور نہ اس سے کمی کرتا اور نہ ہی حضرت عبداللہ بن عمر سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37984
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37984، ترقيم محمد عوامة 36397)
حدیث نمبر: 37985
٣٧٩٨٥ - [حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا موسى بن قيس قال: قال لي زر: ارحل بنا إلى هذا المسجد نسبح -يعني نصلي] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن قیس بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت زر نے فرمایا : ہمارے ساتھ اس مسجد میں چلو۔ تاکہ ہم نماز پڑھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37985، ترقيم محمد عوامة 36398)
حدیث نمبر: 37986
٣٧٩٨٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا موسى بن قيس عن سلمة بن كهيل: ﴿لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ﴾ [الأحزاب: ٦٠]، قال: أصحاب الفواحش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کہیل سے ارشادِ خداوندی { لَئِنْ لَمْ یَنْتَہِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ} کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں (اس سے مراد) اصحاب الفواحش ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37986
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37986، ترقيم محمد عوامة 36399)
حدیث نمبر: 37987
٣٧٩٨٧ - حدثنا الفضل قال: حدثنا موسى بن قيس عن عمرو (بن) (١) (قيس) (٢) الكندي: ﴿فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى﴾ [النازعات: ٣٤] قال: إذا (قال) (٣) اذهبوا به إلى النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس کندی سے روایت ہے : وہ { فَإِذَا جَائَتِ الطَّامَّۃُ الْکُبْرَی } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ تب ہوگا جب ارشاد ہوگا کہ ان کو جہنم کی طرف لے جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37987
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37987، ترقيم محمد عوامة 36400)
حدیث نمبر: 37988
٣٧٩٨٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا الحسن بن صالح عن أبي حيان قال: مر ابن مسعود على الذين ينفخون الكير فسقط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر ان لوگوں پر سے ہوا جو دھونکنی میں پھونک رہے تھے تو آپ گرپڑے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37988
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37988، ترقيم محمد عوامة 36401)
حدیث نمبر: 37989
٣٧٩٨٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن (١) حكيم بن جابر قال: قال رجل لرجل: أوصني، (فقال) (٢): اتبع السيئة الحسنة (تمحها) (٣)، و (خالق) (٤) الناس خلقا حسنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا : تم مجھے وصیت کرو۔ اس نے کہا : گناہ، کے بعد نیکی کرو۔ یہ اس گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں سے اخلاق حسنہ کے ساتھ ملو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37989
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37989، ترقيم محمد عوامة 36402)
حدیث نمبر: 37990
٣٧٩٩٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس عن مرداس الأسلمي قال: يذهب الصالحون، الأول فالأول حتى تبقى كحثالة التمر والشعير لا يعبأ اللَّه بهم شيئا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرداس اسلمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ نیک لوگ ایک ایک کرکے چلے جائیں گے یہاں تک کہ کھجور اور جو کے بھوسہ کی طرح بھوسہ رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37990
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٥٦)، وأحمد (١٧٧٢٩)، وورد مرفوعًا عند البخاري (٦٤٣٤)، وأحمد (١٧٧٢٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37990، ترقيم محمد عوامة 36403)
حدیث نمبر: 37991
٣٧٩٩١ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: سمعت زيد بن أسلم يقول في هذه الآية: ﴿أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا﴾ قال: لا تخافوا ما أمامكم، ولا تحزنوا (على) (١) ما خلفتم: ﴿وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ [فصلت: ٣٠]، قال: البشرى في ثلاثة مواطن: عند الموت، وفي القبر، وعند البعث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن اسلم کو اس آیت { لاَ تَخَافُوا مَا أَمَامَکُمْ } کے بارے میں کہتے سنا کہ جو تمہارے آگے آنے والا ہے اس سے خوف نہ کھاؤ۔ اور جو پیچھے چھوڑ آئے ہو اس پر غم نہ کرو۔ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ فرمایا : بشارت تین جگہوں پر ہوگی۔ موت کے وقت۔ قبر میں۔ جی اٹھنے کے وقت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37991، ترقيم محمد عوامة 36404)
حدیث نمبر: 37992
٣٧٩٩٢ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن محمد بن كعب قال: إذا أراد (اللَّه) (١) (بعبد) (٢) خيرا فقهه في الدين، وزهده في الدنيا وبصره عيوبه، ومن أوتيهن فقد أوتي خير الدنيا والآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو دین میں سمجھ عطا کرتے ہیں اور دنیا سے بےرغبت بنا دیتے ہیں اور اس کو اپنے عیوب دکھا دیتے ہیں۔ جس شخص کو یہ چیزیں دے دی گئیں تو اس کو دنیا، آخرت کی خیر دے دی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37992
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37992، ترقيم محمد عوامة 36405)
حدیث نمبر: 37993
٣٧٩٩٣ - حدثنا وكيع عن رجل من جعفي عن عدي بن حاتم قال: ما جاءت الصلاة قط إلا وأنا إليها بالأشواق، ولا جاءت قط إلا وأنا مستعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز جب بھی آتی ہے تو مجھے اس کا شوق ہوتا ہے اور نماز جب بھی آتی ہے تو میں تیار ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37993
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37993، ترقيم محمد عوامة 36406)
حدیث نمبر: 37994
٣٧٩٩٤ - (حدثنا (قتيبة) (١) بن سعيد قال) (٢): حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن أبي حازم أنه قال: انظر (٣) الذي تحب أن يكون معك في الآخرة فقدمه اليوم، وانظر الذي تكره أن يكون معك ثم فاتركه اليوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : تم دیکھو کہ جس چیز کو تم آخرت میں اپنے ساتھ ہونا پسند کرتے ہو تو پھر تم اس کو آج ہی آگے بھیج دو ۔ اور تم اس چیز کو دیکھو جس کا تم وہاں ساتھ ہونا پسند نہیں کرتے تو اس کو تم آج ہی ترک کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37994، ترقيم محمد عوامة 36407)
حدیث نمبر: 37995
٣٧٩٩٥ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن ابن السائب بن (بركة) (١) عن عمرو بن ميمون سمع أبا ذر يقول: كنت أمشي خلف النبي ﷺ فقال: "ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟ " قلت: بلى، قال: "لا حول ولا قوة إلا باللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا۔ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کا نہ بتاؤں ؟ “ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37995
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ١٤٥ (٢١٣٨٤)، والنسائي (٩٨٤٢)، وابن ماجه (٣٨٢٥)، وابن حبان (٨٢٠)، والبخاري في التاريخ ١/ ١٠٠، والحميدي (١٣٠)، والطيالسي (٤٧٨)، وهناد في الزهد (١٠٦٥)، والمروزي في زوائد الزهد (١١٢١)، والبزار (٤٠٢٠)، والدولابي ١/ ٨٠، وابن أبي عمر كما في المطالب (٣٤٤٧)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٦٦، وابن عدي ٣/ ٢٣٣، وابن معين في التاريخ ٣/ ١٣٥، والخطيب ١٠/ ٢٧٣، والطبراني في الدعاء (١٦٤٤)، وابن عساكر ٥٩/ ٣٣٤، والمزي ٢٥/ ٢٤٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37995، ترقيم محمد عوامة 36408)
حدیث نمبر: 37996
٣٧٩٩٦ - حدثنا (١) ابن فضيل عن عاصم عن أبي عثمان (عن أبي موسى) (٢) قال: كنا مع النبي ﷺ فسمعني وأنا خلفه وأنا أقول: (لا) (٣) حول ولا قوة إلا باللَّه، ⦗٥٥٢⦘ (فقال: "يا عبد اللَّه بن قيس ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة"، فقلت: بلى، قال: "لا حول ولا قوة إلا باللَّه") (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ میں آپ کے پیچھے تھا اور آپ نے مجھے سنا کہ میں کہہ رہا ہوں۔ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ کا نہ بتاؤں ؟ “ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37996
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦٨)، ومسلم (٢٧٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37996، ترقيم محمد عوامة 36409)
حدیث نمبر: 37997
٣٧٩٩٧ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن كثير بن (زيد) (٢) (المدني) (٣) قال: حدثني المطلب بن عبد اللَّه (بن حنطب) (٤) عن عامر بن سعد بن أبي وقاص قال: لقيت أبا أيوب الأنصاري فقال (لي) (٥): ألا آمرك بما (أمرني) (٦) به رسول اللَّه ﷺ، أن أكثر من (٧) لا حول ولا قوة إلا باللَّه (فإنه) (٨) كنز من كنوز الجنة (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری حضرت ابوایوب انصاری سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا۔ کیا میں تمہیں اس کام کا نہ کہوں جس کا مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا ؟ یہ کہ میں لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ کثرت سے کہا کروں۔ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37997
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كثير صدوق، أخرجه عبد بن حميد (٢٣١)، والطبراني (٤٨٠٩)، وانظر: المطالب (٣٤٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37997، ترقيم محمد عوامة 36410)
حدیث نمبر: 37998
٣٧٩٩٨ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد اللَّه بن عامر الأسلمي عن أبي الزناد عن سعيد بن سليمان عن زيد بن ثابت أن رسول اللَّه ﷺ كان يقول: "ألا أدلكم على كنز من كنوز الجنة (تكثرون) (١) من لا حول ولا قوة إلا باللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ ” کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کا نہ بتاؤں ؟ تم لوگ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ۔ کثرت سے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37998
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عبد اللَّه بن عامر، وأخرجه عبد بن حميد (٢٤٩)، والطبراني (٤٨٠٩)، وفي الدعاء (١٦٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37998، ترقيم محمد عوامة 36411)
حدیث نمبر: 37999
٣٧٩٩٩ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن (كميل) (٢) بن زياد عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "لا حول ولا قوة إلا باللَّه كنز من كنوز الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37999
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي (١٠١٩٠)، وأحمد ٢/ ٣٠٩ (٨٠٧١)، وعبد الرزاق (٢٠٥٤٧)، والحاكم ١/ ٥١٧، وإسحاق (٢٦٦)، والطيالسي (٢٤٥٦)، وابن فضيل في الدعاء (٥٥)، والبخاري في التاريخ ١/ ١٠٠، والخطيب في تاريخ بغداد ٧/ ١٧٩، والبيهقي في الشعب (٦٥٩)، وابن عساكر ٥٠/ ٢٤٨، والمزي ٢٤/ ٢٢٢، والطبراني في الهناء (١٦٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37999، ترقيم محمد عوامة 36412)