حدیث نمبر: 37920
٣٧٩٢٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا أبو همام عن الحسن قال: رحم اللَّه عبدا (وقف) (١) عند همه، فإنه ليس من عبد يعمل حتى (يهم) (٢)، فإن كان خيرا أمضاه، وإن كان شرا كف عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو اپنے قصد و ارادہ پر کھڑا ہوجائے۔ کیونکہ جو بندہ بھی عمل کرتا ہے تو وہ ارادہ کرتا ہے۔ پھر اگر وہ ارادہ اچھا ہو تو بندہ اس کو کر گزرتا ہے اور اگر وہ ارادہ برا ہو تو بندہ اس سے رک جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 37921
٣٧٩٢١ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن عمران القصير قال: سألت الحسن عن شيء (فقلت) (١): إن الفقهاء يقولون كذا وكذا، قال: وهل رأيت فقيها (بعينيك) (٢)؟ إنما الفقيه الزاهد في الدنيا، البصير بدينه المداوم على عبادة ربه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران قصیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے کسی چیز کا سوال کیا تو میں نے کہا بیشک فقہاء یوں یوں کہتے ہیں۔ حسن نے فرمایا : کیا تو نے اپنی آنکھوں سے کوئی فقیر دیکھا ہے۔ فقیر تو وہ ہوتا ہے جو دنیا سے بےرغبت ہوتا ہے اور اپنے دین میں صاحب بصیرت ہوتا ہے اور اپنے رب کی عبادت پر مداومت کرنے والا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 37922
٣٧٩٢٢ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن يونس قال: قال الحسن: لا يزال العبد بخير ما علم ما الذي يفسد عليه عمله.
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن نے فرمایا : بندہ تب خیر پر رہتا ہے جب تک وہ اپنے عمل کو خراب کرنے والی چیز کو جانتا ہے۔ یونس کہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور بعض وہ ہوتے ہیں جن پر ان کی شہوت غالب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 37923
٣٧٩٢٣ - قال يونس: إن منهم من يرى أنه على حق، ومنهم من تغلب شهوته.
حدیث نمبر: 37924
٣٧٩٢٤ - حدثنا أبو أسامة عن يزيد وأبي الأشهب عن الحسن قال: كان يقال: قلب المؤمن وراء لسانه، فإذا هَمّ (أحدكم) (١) بأمر تدبره، فإن كان خيرا تكلم به، وإن كان غير ذلك سكت، وقلب المنافق على طرف لسانه، فإذا هم بشيء تكلم به وأبداه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ مومن کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ اس میں تدبر کرلے۔ پس اگر وہ خیر کا معاملہ ہو تو پھر اس کو بولے اور اگر اس کے علاوہ ہو تو خاموش رہے۔ اور منافق کا دل اس کی زبان کے کنارہ پر ہوتا ہے۔ پس وہ جب کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے بول دیتا ہے اور ظاہر کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 37925
٣٧٩٢٥ - حدثنا (١) معاوية بن هشام قال: (حدثنا) (٢) سفيان عن يونس عن الحسن قال: إن المؤمن أحسن الظن بربه فأحسن العمل، وإن المنافق أساء الظن بربه (فأساء العمل) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک مومن اپنے رب کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہے تو عمل بھی اچھا کرتا ہے اور منافق اپنے رب کے ساتھ برا گمان رکھتا ہے تو عمل بھی برا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 37926
٣٧٩٢٦ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن رجل عن الحسن قال: اطلب العلم (طلبا) (١) لا يضر بالعبادة، واطلب العبادة طلبا لا يضر بالعلم، فإنّ من عمل بغير علم كان ما يفسد أكثر مما يصلح.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ علم کی طلب ایسی کرو جو عبادت کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ اور عبادت کی طلب ایسی کرو جو علم کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ کیونکہ جو شخص علم کے بغیر عمل کرتا ہے تو وہ صحیح کام سے زیادہ خراب کام کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 37927
٣٧٩٢٧ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن يونس قال: كان الحسن رجلا محزونا.
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن ایک غمگین آدمی تھے۔
حدیث نمبر: 37928
٣٧٩٢٨ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن يونس عن الحسن قال: (لقد) (١) أدركت أقوامًا لا يستطيعون أن يسروا (من) (٢) العمل شيئا إلا أسروه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تحقیق میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو عملوں میں سے جس کو خفیہ کرنا چاہتے تھے اس کو خفیہ کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 37929
٣٧٩٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن الحسن قال: إن الرجل ⦗٥٣٧⦘ ليعمل الحسنة فتكون نورا في (قلبه) (١) وقوة في بدنه، وإن الرجل ليعمل السيئة فتكون ظلمة في قلبه ووهنا في بدنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک آدمی ایک نیکی کرتا ہے تو وہ آدمی کے دل میں نور اور اس کے بدن میں قوت بن جاتی ہے۔ اور بیشک آدمی ایک گناہ کرتا ہے تو وہ آدمی کے دل میں ظلمت اور اس کے بدن میں کمزوری بن جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 37930
٣٧٩٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن الحسن قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ إذا التقوا يقول الرجل لصاحبه: هل أتاك أنك وارد؟ فيقول: نعم، فيقول: هل أتاك أنك خارج منها؟ فيقول: لا، فيقول: ففيمَ الضحكُ إذن! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م جب باہم ملتے تو ایک آدمی، اپنے ساتھی سے کہتا۔ کیا تمہیں یہ بات پہنچی ہے کہ تم وارد ہوگے۔ وہ کہتا ہے ہاں۔ پھر پہلا پوچھتا۔ کیا تمہیں یہ بات بھی پہنچی ہے کہ تم اس سے خارج ہو ؟ وہ کہتا۔ نہیں۔ اس پر پہلا کہتا۔ تو تب پھر کس بات کی وجہ سے ہنسی ہے ؟ “
حدیث نمبر: 37931
٣٧٩٣١ - حدثنا أبو أسامة عن أبي هلال قال: حدثني داود صاحب البصري أن الحسن قال: وأيم اللَّه ما من عبد قسم له رزق يوم بيوم فلم يعلم أنه قد خير له إلا عاجز أو (غبي) (١) الرأي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری کے ساتھی حضرت داود کہتے ہیں کہ حسن نے فرمایا : خدا کی قسم ! کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جس کے لیے روز، روز کا رزق تقسیم کیا گیا ہے۔ لیکن وہ اس بات کو نہیں جانتا کہ اس کے لیے بہتر کیا گیا ہے۔ مگر عاجز اور کم ذہن۔
حدیث نمبر: 37932
٣٧٩٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا مبارك عن الحسن قال: واللَّه ما هي بأشر أيام المؤمن (١): أيام قرب له فيها من أجله، وذكر ما نسي من معاده، وكفرت بها خطاياه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! یہ مومن کے بدترین ایام نہیں ہوتے۔ وہ ایام جس میں اس کے لیے اس کی مہلت کو قریب کیا جاتا ہے اور جس میں اس کو اپنے معاد میں سے بھولی ہوئی بات یاد آجاتی ہے اور جن دنوں میں اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37933
٣٧٩٣٣ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا حميد عن الحسن قال: ما رأيت أحدا أشد توليا من قارئ إذا تولى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے قاری کے واپس پلٹنے سے زیادہ واپس پلٹنے والے کو نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 37934
٣٧٩٣٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا علي بن زيد (و) (١) ثابت وحميد عن الحسن أنه قال: (على) (٢) [الصراط حسك وسعدان، ⦗٥٣٨⦘ (الزلالون) (٣) والزلالات يومئذ كثير.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : پل صراط پر کانٹے اور خار دار پودے ہیں۔ اس دن پھسلنے والے مرد وعورت بہت زیادہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 37935
٣٧٩٣٥ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن هشام عن الحسن] (١) قال: إن الرجل ليطلب الباب من العلم فيعمل (به) (٢)، فيكون خيرا له من الدنيا لو كانت له فجعلها في الآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک آدمی علم کا ایک باب حاصل کرتا ہے پھر اس پر عمل کرتا ہے تو یہ اس کے لیے اس تمام دنیا سے بہتر ہے جو اس کو ملے اور وہ اس کو اپنی آخرت کے لیے دے دے۔
حدیث نمبر: 37936
٣٧٩٣٦ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: أخبرني عبيد اللَّه بن شميط بن عجلان قال: أخبرني أبي أنه سمع الحسن يقول: إن المؤمن يصبح حزينا ويمسي حزينا، ويكفيه ما يكفي العنيزة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں بلاشبہ مومن صبح بھی غمگین حالت میں کرتا ہے اور مومن شام بھی غمگین حالت میں کرتا ہے اور مومن کو وہی کافی ہے جو عنیزہ کو کافی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 37937
٣٧٩٣٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا أيوب قال: سمعت الحسن يقول: إذا رأيت الرجل ينافس في الدنيا فنافسه في الآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو کہتے سنا کہ جب تو کسی آدمی کو دنیا میں رغبت کرتا دیکھے تو تو اس سے آخرت میں رغبت کیا کر۔
حدیث نمبر: 37938
٣٧٩٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن (أبي) (١) الأشهب عن الحسن: ﴿إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾ [الفرقان: ٦٥]، قال: علموا (٢) أن كل غريم (مفارق) (٣) غريمه إلا غريم جهنم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے {إنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں جان لو کہ ہر قرض خواہ، اپنے مقروض کی جان چھوڑ دیتا ہے۔ سوائے جہنم کے غریم (قرض خواہ) کے۔
حدیث نمبر: 37939
٣٧٩٣٩ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن قرة قال: سمعت الحسن يقول: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾، قال: أفسدهم اللَّه بذنوبهم في بر ⦗٥٣٩⦘ الأرض وبحرها بأعمالهم الخبيثة: ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الروم: ٤١]، (يرجع) (١) من بعدهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو کہتے سنا : { ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ } فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے گندے عملوں کی وجہ سے خشک اور تر زمین میں ان کے لیے فساد برپا کردیا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ یعنی ان کے بعد والے رجوع کریں۔
حدیث نمبر: 37940
٣٧٩٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل عن الحسن قال: بلغني أن في كتاب اللَّه: (١) (ابن آدم) (٢) (اثنتان) (٣) جعلتهما لك ولم يكونا لك: وصيةٌ في مالِك بالمعروف وقد صار الملك لغيرك، ودعوة المسلمين لك وأنت في منزل لا (تستعتب) (٤) فيه (من) (٥) سيئ ولا تزيد في حسن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ کی (کسی) کتاب میں ہے آدم کے بیٹے ! میں نے دو چیزیں تیرے لیے کردی ہیں لیکن وہ تیرے لیے نہیں ہیں۔ تیرے مال میں معروف طریقہ سے وصیت۔ جبکہ ملکیت غیر کو حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کا تیرے لیے دعا کرنا۔ جبکہ تو ایسی جگہ ہوتا ہے نہ تو تو کسی برائی کی وجہ سے تھکتا ہے اور نہ کسی اچھائی میں بڑھتا ہے۔
حدیث نمبر: 37941
٣٧٩٤١ - حدثنا ابن علية عن يونس قال: لما توفي سعيد بن أبي الحسن وجد عليه الحسن وجدا شديدا فكلم في ذلك فقال: ما سمعت اللَّه (علي) (١) الحزن على يعقوب.
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعید بن حسن کی وفات ہوئی تو حسن پر اس کی وجہ سے بہت گہرا غم ہوا۔ چناچہ ان سے اس حوالہ سے بات کی گئی۔ تو فرمایا : میں نے وہ حالت سن رکھی ہے جو اللہ نے حضرت یعقوب کے غم کے بارے بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 37942
٣٧٩٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا أبو محمد الأسدي عن الحسن قال: من دخل المقابر فقال: اللهم رب الأجساد البالية، والعظام النخرة التي خرجت من الدنيا وهي بك مؤمنة: أدخل عليها روحا من عندك وسلاما (مني) (١)، استغفر له كل مؤمن مات منذ خلق اللَّه آدم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص قبرستان میں جائے اور یہ کہے : اے اللہ ! اے بوسیدہ جسموں کے پروردگار ! اور ان بوسیدہ ہڈیوں کے پروردگار جو دنیا سے اس حالت میں نکلی تھیں کہ آپ پر ایمان رکھتی تھیں۔ آپ ان پر اپنی طرف سے رحمت اور سلامتی نازل فرما۔ تو ایسے آدمی کے لیے پیدائش سے تب تک مرنے والا ہر مومن استغفار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 37943
٣٧٩٤٣ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر عن يحيى بن المختار عن الحسن ⦗٥٤٠⦘ قال: إن المؤمن قوّام على نفسه (يحاسب) (١) نفسه للَّه، وإنما خف الحساب يوم القيامة على قوم حاسبوا أنفسهم في الدنيا، وإنما شق الحساب يوم القيامة على قوم أخذوا هذا الأمر (عن) (٢) غير محاسبة، إن المؤمن (يفجؤه) (٣) الشيء فيعجبه فيقول: واللَّه إني لأشتهيك وإنك لمن حاجتي، ولكن واللَّه ما من وُصْلةٍ إليك، هيهات حيل بيني وبينك، ويفرط منه الشيء فيرجع إلى نفسه فيقول: ما أردت (إلى) (٤) هذا؟ (مالي) (٥) ولهذا، (مالي) (٦) (عذر بهذا) (٧)، واللَّه لا أعود إلى هذا أبدا إن شاء اللَّه، إن المؤمنين قوم (أوثقهم القرآن) (٨) (وحال) (٩) بينهم وبين هلكتهم، إن المؤمن أسير في الدنيا، يسعى في فكاك رقبته، لا يأمن شيئا حتى يلقى اللَّه، يعلم أنه مأخوذ عليه في ذلك كله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک مومن اپنے نفس پر نگران ہوتا ہے اور وہ خدا کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ اور قیامت کے دن حساب انہی لوگوں پر ہلکا ہوگا جو دنیا میں اپنے نفسوں کا محاسبہ کریں گے اور قیامت کے دن حساب انہی لوگون پر مشکل ہوگا جو اس بات کا محاسبہ نہیں کرتے۔ بیشک مومن کے پاس کوئی چیز اچانک آتی ہے تو وہ اس کو اچھی لگتی ہے اور وہ کہتا ہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تمہاری چاہت تھی۔ اور بیشک تم میری ضرورت کی چیز ہو۔ لیکن خدا کی قسم ! تیری طرف کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اور ایمان والے سے کوئی چیز ضائع ہوتی ہے تو وہ اپنے نفس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے۔ میں نے تو اس کا ارادہ نہیں کیا تھا ؟ مجھے اس سے کیا غرض ہے ؟ میرے پاس اس کے علاوہ بھی ایک تعداد ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ یقینا اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کو قرآن نے پختہ کیا ہے اور ان کے اور ان کے ہلاک شدہ سامان کے درمیان حائل ہے۔ مومن دنیا میں قیدی ہوتا ہے جو اپنی گردن چھڑانے میں کوشاں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ملنے تک کسی شے سے مامون نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اس سب میں قابل مواخذہ ہے۔
حدیث نمبر: 37944
٣٧٩٤٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: سمعت عبد ربه أبا كعب يقول: سمعت الحسن يقول: المؤمن في الدنيا كالغريب لا ينافس في عزها، ولا يجزع من ذلها، للناس حال وله حال، وجهوا هذه (الفضول) (١) حيث وجهها اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں مومن دنیا میں مسافر کی طرح ہے جو دنیا کی عزت میں رغبت نہیں کرتا اور اس کی ذلت پر جزع نہیں کرتا۔ لوگوں کی ایک حالت ہوتی ہے اور اس کی بھی ایک حالت ہوتی ہے۔ ان برتریوں کو جس طرف اللہ نے متوجہ کیا ہے تم بھی ان کو اسی طرف متوجہ کردو۔
حدیث نمبر: 37945
٣٧٩٤٥ - [حدثنا (أبو) (١) عبد الرحمن قال: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال] (٢): (حدثنا عفان قال) (٣): حدثنا جعفر بن سليمان قال: (حدثنا زكريا) (٤) يقول: سمعت الحسن يقول: إن الإيمان ليس بالتحلي ولا بالتمني، إن الإيمان ما وقر في القلب وصدقه العمل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا کہتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ کو کہتے سنا کہ بیشک ایمان زینت اور تمنی کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں بیٹھ جائے اور اس کی تصدیق عمل کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 37946
٣٧٩٤٦ - حدثنا يحيى بن يمان عن مالك بن مغول عن محمد بن جحادة قال: مر على الحسن برذون (يُهَمْلِج) (١) فقال: أوَّه قد علمت أن الساعة إذا أقبلت (أقبلت) (٢) بغم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن جحادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن کے پاس سے ایک غیر عربی گھوڑا ناز ونخرے سے چلتا ہوا گزرا تو آپ نے فرمایا : اوہ ! کیا تو جانتا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو غم کے ساتھ آئے گی۔
حدیث نمبر: 37947
٣٧٩٤٧ - حدثنا يحيى بن يمان عن مبارك عن الحسن قال: إن المؤمنين عجلوا الخوف في الدنيا فأمنهم اللَّه يوم القيامة، وإن المنافقين أخروا الخوف في الدنيا فأخافهم اللَّه يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اہل ایمان کے لیے دنیا میں پہلے ہی خوف مل جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن امن میں رکھے گا۔ اور بیشک منافقین نے خوف کو دنیا سے مؤخر کردیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن خوفزدہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 37948
٣٧٩٤٨ - حدثنا ابن يمان عن مبارك عن الحسن قال: عمل القوم ولم يتمنوا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عمل کیا لیکن انہوں نے تمنا نہیں کی۔
حدیث نمبر: 37949
٣٧٩٤٩ - حدثنا ابن يمان عن مبارك قال: سمعت الحسن يقول: إن أقواما بكت أعينهم ولم تبك قلوبهم، فمن بكت عيناه فليبك قلبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مبارک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو کہتے سنا۔ بیشک کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی آنکھیں روتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں روتے۔ پس جس آدمی کی آنکھیں روئیں تو اس کا دل بھی رونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 37950
٣٧٩٥٠ - حدثنا ابن يمان عن مبارك عن الحسن (قال) (١): (أكيسهم) (٢) من بكى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں میں عقلمند ترین انسان وہ ہوتا تھا جو روتا تھا۔
حدیث نمبر: 37951
٣٧٩٥١ - حدثنا ابن يمان عن أبي الأشهب عن الحسن قال: أدركت أقواما يبذلون أوراقهم ويخزنون ألسنتهم، ثم أدركت من بعدهم أقواما خزنوا أوراقهم وأرسلوا ألسنتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو اپنے اوراق خرچ کرتے تھے اور اپنی زبانیں محفوظ رکھتے تھے۔ پھر میں نے ان کے بعد ایسے لوگوں کو پایا جو اپنے اوراق کو محفوظ رکھتے تھے اور اپنی زبانوں کو بھیجتے تھے۔
حدیث نمبر: 37952
٣٧٩٥٢ - حدثنا يحيى بن يمان عن أبي الأشهب عن الحسن قال: حلماء إن جهل عليهم لم يسفهوا، هذا نهارهم فكيف ليلهم، خير ليل أجروا دموعهم على خدودهم، وصفوا أقدامهم يطلبون إلى اللَّه في فكاك رقابهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حلماء (ایسے ہوتے ہیں کہ) اگر ان کے ساتھ جہالت کا مظاہرہ کیا جائے تو وہ بیوقوفی نہیں کرتے۔ یہ تو ان کا دن ہے۔ اور ان کی رات کیسی ہوتی ہے ؟ بہترین رات۔ وہ اپنے آنسو، اپنی گالوں پر بہاتے ہیں اور اپنے قدموں سے صفیں بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے اپنی گردنوں کے چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37953
٣٧٩٥٣ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن عاصم قال: ما سمعت الحسن يتمثل ببيت شعر إلا هذا البيت: لَيْسَ مَنْ مَاتَ فاسْتراحَ بميْتٍ … إنما الميْتُ مَيِّتُ الأَحْيَاءِ ثم قال: صدق واللَّه، إنه ليكون (حيٌ) (٢) وهو ميت القلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو کبھی کسی شعر کو مثال بیان کرتے نہیں سنا۔ سوائے اس شعر کے صرف وہی میت نہیں جو مرگیا اور راحت پا گیا میت تو وہ ہوتا ہے جو زندہ میں میت ہوتا ہے پھر راوی کہنے لگے : خدا کی قسم ! آپ نے سچ کہا۔ آپ زندہ تھے لیکن دل مردہ تھا۔
حدیث نمبر: 37954
٣٧٩٥٤ - حدثنا حفص عن الأعمش قال: ما زال الحسن (يبتغي) (١) الحكمة حتى (نطق) (٢) بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن مسلسل حکمت کو تلاش کرتے رہتے تھے۔ جب انہیں حکمت کی بات حاصل ہوتی تو اسے بیان فرماتے ۔
حدیث نمبر: 37955
٣٧٩٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا أيوب عن الحسن ⦗٥٤٣⦘ في قوله: ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا (تَصِفُونَ) (١)﴾ [الأنبياء: ١٨]، قال: (هي) (٢) واللَّه لكل واصف كذوب إلى يوم القيامة (الويل) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ارشاد خداوندی { لَـکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُونَ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! یہ ہر جھوٹے واصف کے لیے قیامت تک ویل وادی ہے۔
حدیث نمبر: 37956
٣٧٩٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حبيب بن الشهيد عن (الحسن) (١) قال: لما خلق اللَّه آدم وذريته قالت الملائكة: إن الأرض لا تسعهم، (فقال) (٢): إني جاعل موتا، قال: إذن لا يهنؤهم العيش، قال: إني جاعل أملا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی اولاد کو پیدا فرمایا۔ تو فرشتوں نے کہا : یہ لوگ زمین میں نہیں سما سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں موت کو بھی پیدا کرنے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا : تب تو پھر ان کی زندگی میں خوشگواری نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں امید کو پیدا کرنے والا ہوں۔
حدیث نمبر: 37957
٣٧٩٥٧ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن العلاء عن الحسن قال: تفكر ساعة خير من قيام ليلة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک گھڑی کا غور وفکر رات بھر کے قیام سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 37958
٣٧٩٥٨ - حدثنا ابن فضيل عن أبي سفيان السعدي قال: سمعت الحسن يتمثل هذا البيت: يسر الفتى ما كان قدم من تقى … إذا (عرف) (١) الداء الذي هو قاتله
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسفیان سعدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو یہ شعر بطور مثال پڑھتے سنا۔ ” جوان آدمی کو وہ نیک عمل جو اس نے آگے بھیجا خوش کر دے گا۔ جب وہ اس بیماری کو پہچان لے گا جو اس کے لیے قاتل ہے۔ “
حدیث نمبر: 37959
٣٧٩٥٩ - حدثنا (الحسين) (١) بن علي عن أبي موسى عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ لأصحابه: "أنتم في الناس كمثل الملح في الطعام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ م سے فرمایا : ” تمہاری مثال لوگوں میں ایسی ہے جیسی کھانے میں نمک کی مثال ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حسن نے فرمایا : کھانا صرف نمک کے ساتھ ہی اچھا لگتا ہے ؟ حسن فرماتے ہیں : اس قوم کی حالت کیسی ہوگی جس کا نمک چلا جائے ؟ “
…