کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت ابوالبختری
حدیث نمبر: 37667
٣٧٦٦٧ - حدثنا شريك بن عبد اللَّه عن عطاء بن السائب قال: كان أبو (البختري) (١) رجلًا رقيقا وكان يسمع النوح ويبكي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالبختری نرم دل تھے اور یہ جب نوحہ سنتے تو رونے لگ جاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37667
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37667، ترقيم محمد عوامة 36083)
حدیث نمبر: 37668
٣٧٦٦٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن أبي (البختري) (١) في قوله: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ [التوبة: ٣١]، قال: أطاعوهم فيما أمروهم به من (تحريم حلال وتحليل حرام) (٢)، (٣) (فعبدوهم) (٤) بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالبختری سے ارشادِ خداوندی { اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہِ } کے بارے میں روایت ہے۔ آپ کہتے ہیں وہ لوگ ان کو جس حرام کے حلال کرنے کا کہتے یہ ان کی اطاعت کرتے اور اسی طرح جس خدا کے حلال کردہ کو حرام کرنے کو کہتے یہ ان کی اطاعت کرتے اس طرح ان لوگوں نے ان کی عبادت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37668
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37668، ترقيم محمد عوامة 36084)
حدیث نمبر: 37669
٣٧٦٦٩ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرني مسعر عن أبي العنبس، قال: قال: أبو (البختري) (١): لأن أكون في قوم أعلم مني أحب إليّ من أن أكون في قوم أنا أعلمهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالبختری کہتے ہیں اگر میں کسی ایسی جماعت میں ہوں جو مجھ سے زیادہ جانتی ہو تو مجھے یہ اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسی قوم میں ہوں جہاں سب سے بڑا عالم میں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37669
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37669، ترقيم محمد عوامة 36085)
حدیث نمبر: 37670
٣٧٦٧٠ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) سعيد بن صالح أخبرنا عن حكيم ابن جبير قال: قال أبو (البختري) (٢): ثلاثة لأن أخر من السماء أحب إليّ من ⦗٤٦٣⦘ (أن) (٣) أكون أحدهم: قوم استحلوا أحاديث لها زينة وبهجة، و (سئموا) (٤) القرآن، وقوم أطاعوا المخلوق في معصية الخالق -يعني أهل الشام والخوارج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالبختری فرماتے ہیں تین باتیں ایسی ہیں کہ مجھے ان میں سے ہونے کی بنسبت آسمان سے گرنا زیادہ محبوب ہے۔ وہ لوگ جو زیب وزینت کی باتوں کو میٹھا سمجھے اور قرآن سے اکتائے اور وہ قوم جو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کرے۔ یعنی خارجی اور اہل شام۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37670
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37670، ترقيم محمد عوامة 36086)
حدیث نمبر: 37671
٣٧٦٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا عطاء بن السائب أن أبا (البختري) (١) وأصحابه كان إذا سمع أحدُهم يُثنى عليه أو دخله عجيب ثنى منكبيه وقال: خشعت للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ حضرت ابوالبختری اور ان کے ساتھی ایسے تھے کہ جب ان میں سے کوئی کسی کو اپنی تعریف کہتے سنتا یا اس کو عجب ہونے لگتا تو وہ اپنے کندھوں کو موڑ لیتا اور کہتا میں خدا کے لیے عاجزی کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37671
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37671، ترقيم محمد عوامة 36087)
حدیث نمبر: 37672
٣٧٦٧٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبي (البختري) (١) قال: إن الأرض (لتفقد) (٢) المؤمن، وإن البقاع لتزين للمؤمن إذا أراد أن يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ زمین صاحب ایمان کی غیر موجودگی کو محسوس کرتی ہے اور زمین کے ٹکڑے مومن کے لیے مزین ہوجاتے ہیں جبکہ وہ نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37672
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37672، ترقيم محمد عوامة 36088)