٣٧٦٧٣ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: كان يقال: بادروا بالعمل أربعًا: بالحياة قبل الممات، وبالصحة قبل السقم، وبالفراغ قبل الشغل، ولم أحفظ الرابعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ چار چیزوں میں عمل کو جلدی کرو۔ موت سے پہلے زندگی میں، بیماری سے قبل صحت میں، مشغولیت سے قبل فراغت میں اور چوتھی مجھے یاد نہیں رہی۔
٣٧٦٧٤ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون في قوله: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ﴾ [آل عمران: ٩٢] قال: البر الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے ارشادِ خداوندی { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ } کے بارے میں روایت ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : (اس سے مراد) جنت ہے۔
٣٧٦٧٥ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن عمرو بن ميمون قال: كان يوتد له في حائط المسجد، فكان إذا سئم من القيام في الصلاة وشق عليه أمسك بالوتد يعتمد عليه، أو يربط له حبل فيمسك به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے لیے مسجد کی دیوار میں ایک کیل لگایا جاتا تھا اور جب آپ نماز میں قیام سے تھک جاتے اور قیام آپ کے لیے مشکل ہوجاتا تو آپ اس کیل سے سہارا لے کر ٹھہر جاتے یا اس کے ساتھ رسی باندھ دی جاتی پھر آپ اس کے ساتھ ٹھہر جاتے۔
٣٧٦٧٦ - حدثنا ابن مهدي عن شعبة عن أبي إسحاق قال: حج عمرو بن ميمون (ستين) (١) من بين حجة وعمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے ساٹھ حج اور عمرے ادا کیے تھے۔
٣٧٦٧٧ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: أخبرنا أبو سنان قال: حدثنا أبو إسحاق عن عمرو بن ميمون في قوله: ﴿ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ﴾ [محمد: ٩]، قال: الفرائض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے ارشاد خداوندی { ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ کَرِہُوا مَا أَنْزَلَ اللَّہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَہُمْ }) کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : (اس سے مراد) فرائض ہیں۔
٣٧٦٧٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عفان) (١) عن عمرو بن ميمون قال: إنه (ليسمع) (٢) بين جلد الكافر ولحمه (جلبة) (٣) الدود كجلبة الوحش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کافر کے گوشت اور اس کی کھال کے درمیان سے وحشیوں کے شور و غل کی طرح کیڑوں کی خوفناک آوازیں سنائی دیں گی۔
٣٧٦٧٩ - حدثنا حفص عن حنش قال: رأيت عمرو بن ميمون وله همهمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن میمون کو دیکھا کہ آپ کے سینہ کی آواز تھی۔
٣٧٦٨٠ - حدثنا (هشيم) (١) عن (أبي بلج) (٢) قال: كان عمرو إذا لقي الرجل من إخوانه قال: رزق اللَّه البارحة من الصلاة كذا، ورزق اللَّه البارحة من الخير كذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبلج سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو جب اپنے بھائیوں میں سے کسی کو ملتے تو کہتے : آج رات اللہ تعالیٰ نے اتنی نماز کی توفیق دی اور آج رات اللہ تعالیٰ نے اتنی خیر کی توفیق دی۔