کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بچوں کو جہاد میں ساتھ لے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 35949
٣٥٩٤٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: رددت أنا وأبو بكر بن ⦗٥٣٨⦘ عبد الرحمن بن الحارث عن (يوم) (١) الجمل، (استصغرنا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ جمل والے دن مجھے اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کو واپس لوٹا دیا گیا ہمیں چھوٹا قرار دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35949
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35949، ترقيم محمد عوامة 34385)
حدیث نمبر: 35950
٣٥٩٥٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: عرضني رسول اللَّه ﷺ في القتال (يوم أحد) (١) وأنا ابن أربع عشر سنة، فاستصغرني فردني، ثم عرضني يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة فأجازني (٢). - قال نافع: حدثت ذلك عمر بن عبد العزيز - (وهو خليفة) (٣) - فقال: إن هذا (لحد) (٤) بين الصغير والكبير، فكتب إلى عماله أن من بلغ خمس عشرة فافرضوا له في المقاتلة، ومن كان دون ذلك فافرضوا له في (العيال) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے دن مجھے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں جہاد میں شریک ہونے کیلئے پیش کیا گیا اس وقت میری چودہ سال عمر تھی مجھے چھوٹا سمجھا گیا اور واپس کردیا گیا پھر غزوہ خندق والے دن مجھے پیش کیا گیا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو مجھے اجازت دے دی گئی۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ تھے تو میں نے یہ روایت ان سے بیان کی، انہوں نے فرمایا : یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان بیشک ایک حد ہے، پھر انہوں نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ : جس کی عمر پندرہ سال ہو اس کو جہاد کیلئے اور جس کی عمر اس سے کم ہو اس کو اھل و عیال کیلئے مقرر کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35950
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35950، ترقيم محمد عوامة 34386)
حدیث نمبر: 35951
٣٥٩٥١ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن عبد الملك بن عمير قال: سمعت عطية القرظي يقول: عرضنا على رسول اللَّه ﷺ يوم قريظة فكان من أنبت قتل، ومن لم ينبت لم يقتل، فكنت ممن لم ينبت فلم يقتلني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ قریظہ کے دن ہمیں رسول اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بال آچکے تھے اس کو قتل کردیا گیا اور جس کے بال نہ آئے اس کو قتل نہ کیا گیا، میرے بھی چونکہ بال نہ آئے تھے اس لیے مجھے بھی قتل نہ کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35951
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٧٧٦)، وأبو داود (٤٤٠٥)، والترمذي (١٥٨٤)، وابن ماجه (٢٥٤١)، وابن حبان (٤٧٨١)، والحاكم ٢/ ١٢٣، وتقدم في ١٢/ ٣٨٤ برقم [٣٥٣٣٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35951، ترقيم محمد عوامة 34387)
حدیث نمبر: 35952
٣٥٩٥٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن مطرف عن أبي إسحاق عن البراء قال: عرضت أنا وابن عمر على رسول اللَّه ﷺ يوم بدر فاستصغرنا وشهدنا أحدا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو غزوہ بدر کے دن رسول اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، ہمیں چھوٹا سمجھا گیا، پھر ہم غزوہ احد میں شریک ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35952
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٥٦)، وأحمد (١٨٦٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35952، ترقيم محمد عوامة 34388)