کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: لشکر کسی قوم کا محاصرہ کر لے پھر وہ لوگ امن طلب کریں اور وہ لشکر امن دینے پر رضا مند بھی ہو جائیں لیکن کچھ لوگ امن لینے سے انکار کر دیں
حدیث نمبر: 35910
٣٥٩١٠ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني رجاء بن أبي سلمة قال: حدثني مغيرة بن حبيب ختن مالك بن دينار قال: (سألت) (١) ابن عبد اللَّه، قلت: ندخل أرض الشرك فنحاصر الحصن فيقاتلوننا قتالًا شديدًا فيسألوننا الأمان ويأبى ذلك الأمير فما (ترى) (٢) في قتالهم؟ فقال: ليس إليكم ذاك إلى (الأمير) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ہم لوگ کافروں کے ملک میں جا کر ان کے قلعہ کا محاصرہ کریں پھر وہ لوگ ہمارے ساتھ سخت مزاحمت کریں اور بعد میں ہم سے امن طلب کریں اور ان کا امیر انکار کر دے تو ان کے ساتھ لڑنے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ فرمایا یہ تم پر نہیں ہے یہ ان کے امیر کا معاملہ ہے۔
حدیث نمبر: 35911
٣٥٩١١ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: سمعت عمرو بن أبي قيس يذكر عن ⦗٥٢٧⦘ مطرف قال: (سألنا) (١) الحكم، قلت: الملك من ملوك خراسان يصالح من السبي على رؤوس معلومة؟ قال: ما كان من صلح فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے دریافت کیا کہ خراسان کے بادشاہوں میں ایک بادشاہ قیدی سے معلومات کی بنیاد پر صلح کرتا ہے ؟ فرمایا : صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔