کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: خواتین کو جنگ میں لے کر جانا (خواتین کا جنگ میں شریک ہونا)
حدیث نمبر: 35901
٣٥٩٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن حسان عن حفصة بنت سيرين عن أم عطية الأنصارية قالت: غزوت مع رسول اللَّه ﷺ (سبع) (١) غزوات، أخلفهم في رحالهم، فأصنع لهم الطعام وأداوي لهم الجرحى وأقوم على المرضى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیۃ الانصاریۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی میں ان کے کجاو وں کے پیچھے ہوتی اور ان کے لیے کھانا تیار کرتی اور زخمیوں کو مرہم پٹی کرتی اور مریضوں کا خیال رکھتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35901
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨١٢)، وأحمد (٢٠٧٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35901، ترقيم محمد عوامة 34338)
حدیث نمبر: 35902
٣٥٩٠٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: ثنا رافع بن سلمة الأشجعي قال: حدثني (حشرج) (٢) (بن) (٣) زياد الأشجعي عن جدته أم أبيه أنها غزت مع رسول اللَّه ﷺ خيبر سادسة ست نسوة فبلغ رسول اللَّه ﷺ فبعث إلينا فقال: "بأمر من خرجتن"، ورأينا فيه الغضب، فقلنا: يا رسول اللَّه خرجنا ومعنا دواء نداوي به، و (نناول) (٤) السهام، ونسقي السويق ونغزل الشعر نعين به في سبيل اللَّه، فقال لنا: "أقمن"، فلما فتح اللَّه عليه خيبر قسم لنا كما قسم للرجال (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حشرج بن زیاد رحمہ اللہ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوئیں، رسول اکرم ﷺ کو خبر ملی تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کس کام کی وجہ سے تم جنگ میں نکلی ہو ؟ ہم نے آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار دیکھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم جنگ میں شریک ہوئیں ہیں ہمارے پاس دوائی ہے جس سے زخمیوں کو دواء دیں گے اور تیر پکڑائیں گے اور ستو ملا پانی پلائیں گے اور بالو کی رسی بنائیں گے جس سے اللہ کے راستہ میں مدد حاصل کی جائے گی حضور ﷺ نے ہم سے فرمایا : ٹھہری رہو پھر جب خیبر فتح ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی اسی طرح حصہ دیا جس طرح مردوں کو دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35902
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35902، ترقيم محمد عوامة 34339)
حدیث نمبر: 35903
٣٥٩٠٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد بن علي عن يزيد بن هرمز قال: كتب نجدة إلى ابن عباس يسأله عن النساء: هل كن يحضرن مع رسول اللَّه ﷺ الحرب؟ وهل كان يضرب لهن بسهم؟ قال يزيد: كتبت كتاب ابن عباس إلى نجدة: قد كن يحضرن مع رسول اللَّه ﷺ، فأما أن يضرب لهن بسهم، فلا وقد كان يرضخ لهن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ہرمز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ کیا خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتی تھیں اور غنیمت میں ان کو حصہ ملتا تھا ؟ حضرت یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف سے نجدہ کو لکھا کر خواتین رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتی تھیں، باقی ان کو الگ حصہ نہ ملتا تھا، ان کو تھوڑا سا عطیہ دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35903، ترقيم محمد عوامة 34340)
حدیث نمبر: 35904
٣٥٩٠٤ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن الأسود بن قيس قال: حدثني سعيد بن (عمرو) (١) القرشي أن أم كبشة امرأة من بني عذرة عذرة قضاعة قالت: يا رسول اللَّه ائذن لي أن أخرج في جيش كذا وكذا قال: لا، قلت: يا ⦗٥٢٥⦘ رسول اللَّه إني لست أريد أن أقاتل، إنما أريد أن أداوي الجريح والمريض، أو أسقي المريض، فقال: لولا أن (تكون) (٢) سنة ويقال: فلانة خرجت، لأذنت لك ولكن اجلسي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو عذرہ کی خاتون ام کبشہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دے دیں کہ میں فلاں فلاں لشکر میں ساتھ جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں لڑنے کے ارادے سے نہیں جا رہی میں مریضوں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریض کو پانی پلانے کے ارادہ سے جانا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ عادت نہ بن جاتی اور کہا جاتا کہ فلاں خاتون جہاد میں گئی تھی تو میں تجھے اجازت دے دیتالیکن بیٹھی رہ، (ساتھ مت جا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35904
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، سعيد بن عمر تابعي، أخرجه أبو يعلى كما في المطالب العالية (٢٠٢٧)، وابن سعد ٨/ ٣٠٧، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني (٣٤٧٣)، والطبراني ٢٥/ (٤٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35904، ترقيم محمد عوامة 34341)
حدیث نمبر: 35905
٣٥٩٠٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عكرمة أن صفية كانت مع النبي ﷺ يوم الخندق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق والے دن حضرت صفیہ حضور ﷺ کے ساتھ تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35905
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35905، ترقيم محمد عوامة 34342)
حدیث نمبر: 35906
٣٥٩٠٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن العوام بن (مراجم) (١) عن خالد بن سيحان (قال: شهدت) (٢) تستر مع أبي موسى أربع نسوة أو خمس منهن أم (مجزأة) (٣) بن ثور (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن سیحان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چار یا پانچ خواتین تستر میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئیں جن میں ام مجزاۃ بن ثور رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35906
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35906، ترقيم محمد عوامة 34343)
حدیث نمبر: 35907
٣٥٩٠٧ - حدثنا خالد بن حرملة العبدي عن المؤثرة بنت (زيد) (١) أخت أبي نضرة أن أبا نضرة غزا بامرأته زينب إلى خراسان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موثرہ بنت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو نضرہ اپنی اہلیہ زینب کے ساتھ خراسان کی طرف جہاد میں شریک ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35907
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35907، ترقيم محمد عوامة 34344)
حدیث نمبر: 35908
٣٥٩٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا الوليد بن عبد اللَّه بن جميع قال: حدثتني جدتي و (عبد الرحمن) (١) بن خلاد الأنصاري عن أم ورقة بنت نوفل أن النبي ﷺ لما ⦗٥٢٦⦘ غزا بدرا قالت: قلت: يا رسول اللَّه ائذن لي في أن أغزو معك، أداوي جرحاكم وأمرض مرضاكم لعل اللَّه يرزقني شهادة، قال: "قري في بيتك فإن اللَّه يرزقك الشهادة"، قال: فكانت تسمى الشهيدة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ورقۃ بنت نوفل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کیلئے روانہ ہونے لگے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے بھی اپنے ساتھ جہاد پر جانے کی اجازت عنایت فرما دیں، میں آپ کے زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریضوں کی تیمار داری کروں گی شاید کہ اللہ مجھے بھی شہادت کی موت نصیب فرما دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اپنے گھر میں رہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھے شہادت (کا ثواب) دے دیا ہے، فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میرا نام شہیدہ پڑگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35908
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35908، ترقيم محمد عوامة 34345)
حدیث نمبر: 35909
٣٥٩٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن: أنه كان يكره أن تخرج النساء إلى شيء من هذه الفروج -يعني الثغور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ ناپسند فرماتے تھے کہ خواتین سر حدات وغیرہ کی طرف بڑھنے کیلئے جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35909
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35909، ترقيم محمد عوامة 34346)