حدیث نمبر: 35851
٣٥٨٥١ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن الحارث بن حسان قال: قدمت المدينة فإذا النبي ﷺ على المنبر وبلال قائم بين يديه متقلدًا سيفًا، وإذا رايات سود فقلت: من هذا؟ قالوا: عمرو بن العاص قدم من غزاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث رضی اللہ عنہ بن حسان فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تلوار لٹکائے آپ کے سامنے کھڑے ہوئے تھے اچانک کا لے جھنڈے آئے میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ غزوہ سے واپس آئے ہیں۔
حدیث نمبر: 35852
٣٥٨٥٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن عمرة قالت: كانت راية رسول اللَّه ﷺ سوداء من مرط لعائشة (مرحل) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا سیاہ تھا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اونی چادر کا تھا جس پر کجاوے کے نقش تھے۔
حدیث نمبر: 35853
٣٥٨٥٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي الفضل عن الحسن قال: كانت راية النبي ﷺ سوداء تسمى العقاب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم سیاہ تھا جس کا نام عقاب تھا۔
حدیث نمبر: 35854
٣٥٨٥٤ - حدثنا ابن أبي عدي عن سليمان التيمي عن أحريث بن (مخش) (١) قال: كانت راية علي سوداء، وراية أولئك الجمل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حریث فرماتے ہیں کہ جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا سیاہ تھا، اور ان لوگوں کا جھنڈا اونٹ تھا۔
حدیث نمبر: 35855
٣٥٨٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن سليمان التيمي عن] (١) (مخش) (٢) أن راية علي كانت يوم الجمل سوراء وكانت راية طلحة (الجمل) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حریث فرماتے ہیں کہ جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا سیاہ تھا، اور حضرت زبیر اور طلحہ کا جھنڈا اونٹ تھا۔
حدیث نمبر: 35856
٣٥٨٥٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا أسامة بن زيد قال: ثنا أشياخنا أن راية خالد بن الوليد كانت يوم دمشق سوداء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید کا جھنڈا دمشق والے دن سیا ہ تھا۔
حدیث نمبر: 35857
٣٥٨٥٧ - حدثنا وكيع ثنا حسن بن صالح عن السدي عن عدي بن ثابت عن البراء بن عازب قال: لقيت خالي ومعه الراية فقلت له: أين تريد؟ (قال) (١): بعثني رسول اللَّه ﷺ إلى رجل تزوج امرأة أبيه من بعده أن ⦗٥١٢⦘ أقتله أو أضرب عنقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ملاقات میرے ماموں سے ہوئی ان کے پاس جھنڈا تھا، میں نے عرض کیا کدھر کا ارادہ ہے ؟ فرمایا : مجھے رسول اکرم ﷺ نے اس شخص کو قتل کرنے کیلئے بھیجا ہے جس نے اپنے والد کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔