کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص دشمن کی سر زمین میں ایسی چیز پائے جس کی وہاں کوئی قیمت نہ ہو
حدیث نمبر: 35848
٣٥٨٤٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن مكحول قال: كان المسلمون لا يرون بأسا بما خرج به من أرض العدو (مما) (١) لا ثمن له هناك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ ایسی چیز دشمن کی زمین سے اٹھا لائیں جس کی وہاں کوئی قیمت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 35849
٣٥٨٤٩ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن خالد ابن أبي عمران قال: سمعت القاسم وسالما يقولان: ما قطعتم من شجر أرض العدو فعملتَ وتدًا أو هراوة أو مرزبة أو لوحًا أو قدحًا أو بابًا فلا بأس به، وما (وجد له) (١) من ذلك معمولا فأده إلى المغنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ دشمن کی زمین کے درخت کاٹ کر اگر اس سے آپ نے کھونٹی، لاٹھی، ہتھوڑا، تختی، پیالہ یا دروازہ بنا لیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جس چیز کی وہاں قیمت ہو (استعمال ہوتی ہو) اس کو مال غنیمت میں دے دو ۔
حدیث نمبر: 35850
٣٥٨٥٠ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن يزيد ومحمد بن عبد اللَّه (الشعيثي) (١) عن مكحول قال: ما قطعتم من أرض العدو فعملتَ منه قدحا أو وتدا أو هراوة أو مرزبة فلا بأس به، وما وجدته من ذلك معمولا فأده إلى المغانم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔