کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: خیانت کے متعلق جو وارد ہوا ہے
حدیث نمبر: 35772
٣٥٧٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عمر قال: كان على (ثقل) (١) النبي ﷺ رجل يقال له: كركرة فمات، فقال رسول ⦗٤٨٩⦘ اللَّه ﷺ: "هو في النار"، فذهبوا ينظرون فوجدوا عليه عباءة قد غلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جس کا نام کر کرہ تھا وہ فوت ہوگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ جہنمی ہے لوگ اس کا سامان دیکھنے گئے تو انہوں نے ایک عبا پائی جس کو اس نے بطور خیانت لیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35772
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35772، ترقيم محمد عوامة 34212)
حدیث نمبر: 35773
٣٥٧٧٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن أبي عمرة أنه سمع زيد بن خالد الجهني يحدث أن رجلًا من المسلمين توفي بخيبر وأنه ذكر لرسول اللَّه ﷺ أمره، فقال: "صلوا على صاحبكم"، فتغيرت وجوه القوم لذلك، فلما رأى ذلك قال: إنه غل في سبيل اللَّه ففتشنا متاعه فوجدنا خرزا من خرز اليهود ما يساوي درهمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص خیبر میں فوت ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے ساتھی کا نماز جنازہ خود پڑھ لو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر لوگوں کے چہروں کا رنگ بدل گیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو فرمایا : اس نے اللہ کے راستہ میں خیانت کی تھی، جب ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہودیوں کے موتیوں میں سے ایک موتی پایا جس کی دو درھم قیمت تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35773
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35773، ترقيم محمد عوامة 34213)
حدیث نمبر: 35774
٣٥٧٧٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن أبي عمرة عن زيد بن خالد عن النبي ﷺ مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35774
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35774، ترقيم محمد عوامة 34214)
حدیث نمبر: 35775
٣٥٧٧٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا الحكم بن عطية عن (أبي) (١) (المُخَيِّس) (٢) ⦗٤٩٠⦘ اليشكري قال: سمعت أنس بن مالك يقول: قيل يا رسول اللَّه استشهد فلان مولاك، قال: "كلا إني رأيت عليه عباءة قد غلها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ فلاں آپ کا غلام شہید ہوگیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں میں نے اس پر ایک چادر دیکھی تھی جو اس نے بطور خیانت لی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35775
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35775، ترقيم محمد عوامة 34215)
حدیث نمبر: 35776
٣٥٧٧٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أبي (حيان) (١) عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ خطيبًا فذكر الغلول فعظمه وعظم أمره ثم قال: " (٢) أيها الناس لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بعير له رغاء يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول: لا أملك لك (شيئًا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بقرة لها خوار يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول لا أملك لك) (٣) شيئا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته فرس له حَمْحَمَةٌ يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول لا أملك لك شيئًا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة وعلى رقبته صامت، يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئًا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته نفس لها صياح، فيقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئًا قد بلغتك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کا ذکر فرمایا اور اس گناہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر ایک اونٹ ہو اور وہ اونٹ آواز نکال رہا ہو اور وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے تو میں اس کو کہوں میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تجھے اپنا پیغام پہنچا دیا تھا، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن میں گائے ہو اور اس کیلئے گائے کی آواز ہو اور وہ کہے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے، میں اس کو کہوں میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے پیغام پہنچا چکا تھا، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑے کی خیانت کا بوجھ ہو اور اس کی آواز اور وہ مجھ سے کہے کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے میں کہوں کہ میں تیرے متعلق کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے اپنا پیغام پہنچا چکا تھا اور تم میں سے کوئی شخص میرے پاس قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر سونے یا چاندی کی خیانت کا بوجھ ہو اور وہ کہے اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں تجھے پپغام پہنچا چکا ہوں، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر کسی انسان کی خیانت کا بوجھ ہو اور اس کیلئے اس کی آواز ہو وہ مجھ سے کہے اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں اپنا پیغام پہنچا چکا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35776
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٧٣)، ومسلم (١٨٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35776، ترقيم محمد عوامة 34216)
حدیث نمبر: 35777
٣٥٧٧٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا بعث أميرًا على سرية أو جيش قال: "لا تغلوا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سریہ یا لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے تو اس سے فرماتے خیانت مت کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35777
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣١)، وأحمد ٥/ ٣٥٨ (٢٣٠٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35777، ترقيم محمد عوامة 34217)
حدیث نمبر: 35778
٣٥٧٧٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن أبا (حميد) (١) الساعدي صاحب رسول اللَّه ﷺ أخا بني ساعدة حدثه أن رسول اللَّه ﷺ استعمل (ابن) (٢) (اللتبية) (٣) فقال: "والذي نفسي بيده، لا يأخذ أحدكم منها شيئا بغير حقه إلا جاء اللَّه يحمله يوم القيامة، فلا أعرفن أحدا جاء اللَّه يحمل بعيرا له رغاء، أو بقرة لها خوار أو شاة (تيعر) (٤) "، ثم رفع يديه حتى إني أنظر إلى بياض أبطيه، ثم قال: " (اللهم هل بلغت) (٥) "، ثم قال أبو حميد: بصر عيني وسمع أذني (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ کو امیر بنایا تو ان سے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز ناحق وصول نہیں کرے گا مگر قیامت کے دن اس کے دربار میں لے کر حاضر ہوگا میں اس شخص کو ضرور جانتا ہوں جو اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا، اور اونٹ کا بوجھ اٹھایا ہوگا اس کیلئے اونٹ کی آواز ہوگی یا گائے کو اٹھایا ہوگا اور اس کیلئے گائے کی آواز ہوگی یا بکری کا بوجھ لا دے ہوگا اور اس کی آواز ہوگی، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک مہمان کی طرف اٹھائے آپ نے اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند کیا کہ میں آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے حضرت ابو حمید فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا اور میری کانوں نے یہ پیغام سنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35778
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٧٤)، ومسلم (١٨٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35778، ترقيم محمد عوامة 34218)
حدیث نمبر: 35779
٣٥٧٧٩ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن أبي حميد الساعدي عن النبي ﷺ بنحو منه إلا أنه قال: (عفرتي) (١) أبطيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35779
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٩٧)، ومسلم (١٨٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35779، ترقيم محمد عوامة 34219)
حدیث نمبر: 35780
٣٥٧٨٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي حازم عن عدي بن عميرة الكندي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيها الناس من عمل لنا منكم على عمل فكتمنا (١) مخيطا فما فوقه فهو غل يأتي به يوم القيامة"، قال: فقام إليه رجل من الأنصار أسود كأني أراه فقال: أقبل عني ⦗٤٩٢⦘ عملك يا رسول اللَّه، قال: "ما ذاك؟ "، قال: سمعتك تقول الذي قلت، قال: "وأنا أقوله الآن من استعملناه على عمل فليجئنا بقليله وكثيره، فما أوتي منه أخذ، وما نهي عنه انتهى" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جو تم میں سے ہمارے لیے کسی معاملہ میں حاکم یا عامل بنے، پھر وہ ہم سے کوئی سوئی یا اس سے بڑی چیز چھپالے تو یہ خیانت ہے وہ قیامت کے دن اس کو لے کر حاضر ہوگا ایک سیاہ انصاری شخص کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں اور کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنا عامل بنانا واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کس وجہ سے ؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ سے وہ سنا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی فرمایا ہے اس وجہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ جو تم میں سے کسی معاملہ پر عامل بنایا گیا تو اس کو چاہئے کہ جو تھوڑا یا زیادہ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے، جو اس کو دیا جائے وہ وصول کرے جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35780
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٣٣)، وأحمد (١٧٧١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35780، ترقيم محمد عوامة 34220)
حدیث نمبر: 35781
٣٥٧٨١ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس عن عدي (بن عميرة) (١) الكندي قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ فذكر مثله إلا أنه قال: "فإنه غلول يأتي به يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ خیانت اور دھوکا ہے قیامت کے دن اس کے ساتھ حاضر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35781
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٣٣)، وأحمد (١٧٧١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35781، ترقيم محمد عوامة 34221)
حدیث نمبر: 35782
٣٥٧٨٢ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن الحسن في قوله: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: ٧]، قال: كان يؤتيهم الغنائم وينهاهم عن الغلول.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ ، وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کو غنیمت عطا کرتے تھے اور خیانت سے روکتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35782
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35782، ترقيم محمد عوامة 34222)
حدیث نمبر: 35783
٣٥٧٨٣ - حدثنا (محمد بن فضيل عن) (١) محمد بن إسحاق عن يزيد بن خصيفة عن سالم مولى مطيع عن أبي هريرة قال: أهدى رفاعة إلى رسول اللَّه ﷺ غلامًا، فخرج (به معه) (٢) إلى خيبر، فنزل بين العصر والمغرب فأتى الغلام سهم (عائر) (٣) فقتله، فقلنا: هنيئا (لك) (٤) الجنة، فقال: "والذي نفسي بيده إن شملته لتحرق عليه الآن في النار كلها من المسلمين"، فقال رجل من الأنصار: يا رسول اللَّه (أصبت) (٥) ⦗٤٩٣⦘ يومئذ شراكين، فقال: "يقد (منك) (٦) (مثلهما) (٧) من نار جهنم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت رفاعہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام ہدیہ دیا، وہ غلام جنگ خیبر میں ساتھ گیا وہ عصر اور مغرب کے درمیان جنگ میں اترا، غلام کو ایک تیر لگا جس کے مارنے والے کا پتہ نہیں تھا، لیکن وہ شہید ہوگیا ہم نے کہا تمہارے لیے جنت کی خوشخبری ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس کی چادر اس کو آگ میں جلا رہی ہوگی جو اس نے مسلمانوں کے مال میں سے خیانت کی تھی، ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے اس دن دو تسمے پائے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کی مثل تجھے جہنم کی آگ سے کاٹا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35783
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35783، ترقيم محمد عوامة 34223)