حدیث نمبر: 35768
٣٥٧٦٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا أسر العدو رجلًا من المسلمين فاشتراه تاجر سعى للتاجر حتى يؤدي إليه ما اشتراه به، وإذا أسروا مملوكًا للمسلمين فاشتراه تاجر ثم وجده مولاه فهو أحق به بثمنه، وإذا اشتروا رجلًا من أهل الذمة سعى للتاجر حتى يؤدي إليه ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی شخص کو اگر دشمن قید کرلے پھر اس کو کوئی تاجر خرید لے تو وہ شخص تاجر کو وہ قیمت ادا کرنے کی کوشش کرے گا جو ادا کر کے اس نے اس کو خریدا ہے، اور اگر وہ مسلمانوں کے غلاموں کو قید کرلیں پھر ان کو کوئی تاجر خرید لے، پھر ان کو ان کا آقا پالے تو وہ قیمت دے کرلینے میں زیادہ حقدار ہے، اور اگر وہ کسی ذمی سے خرید لیں پھر وہ تاجر کو قیمت دے کر آزاد ہونے کی کوشش کرے گا۔
حدیث نمبر: 35769
٣٥٧٦٩ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال عطاء في الحر يسبيه العدو ثم يشتريه المسلم مثل قوله في النساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ اس آزاد شخص کے متعلق جس کو دشمن قید کرلے پھر اس کو کوئی مسلمان خرید لے تو جو عورتوں کے متعلق ارشاد فرمایا تھا اسی کے مثل فرماتے ہیں اور حضرت عمرو بن دینار بھی اسی طرح فرماتے ہیں یعنی کہ جو قیمت دے کر خریدا گیا ہے وہ قیمت ان کو ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 35770
٣٥٧٧٠ - وقال عمرو بن دينار مثل ذلك، يعني: يعطيهم أنفسهم بالثمن الذي أخذهم به.
حدیث نمبر: 35771
٣٥٧٧١ - حدثنا غندر عن أبي معاذ عن أبي حريز أنه سمع الشعبي يقول: ما كان من أسارى في أيدي التجار فإن الحر لا يباع، فاردد إلى التاجر رأس مال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ قیدیوں میں جو تاجروں کے پاس ہیں جن کو وہ خرید کر لائیں ہیں تو جو آزاد ہیں ان کو فروخت نہیں کیا جائے گا، تاجر کو اصل قیمت لوٹا دی جائے گی۔