کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص اﷲ کے راستہ میں کسی چیز پر سوار ہو تو وہ جانور کب اس کیلئے حلال ہو گا
حدیث نمبر: 35746
٣٥٧٤٦ - حدثنا أبو معاوية عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن محمد بن المنكدر عن ربيعة بن عبد اللَّه بن الهدير قال: كان عمر إذا حمل على فرس أو بعير في سبيل اللَّه قال: إذا جاوزت وادي القرى أو مثلها من طريق مصر فاصنع بها ما بدا لك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیعہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی کو گھوڑے یا اونٹ پر سوار کرتے جہاد کیلئے تو اس کو فرماتے کہ جب تم وادی قریٰ یا اس کے مثل سے گزر جاؤ شہر کے راستوں سے تو پھر اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔
حدیث نمبر: 35747
٣٥٧٤٧ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا عبيد اللَّه عن نافع قال: كان ابن عمر إذا حمل على بعير في سبيل اللَّه اشترط على صاحبه أن لا يهلكه حتى يبلغ وادي القرى أو حذاه من طريق مصر، فإذا خلف ذلك فهو كهيئة ماله يصنع ما شاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی کو جہاد کیلئے گھوڑے پر سوار کرتے تو اس پر یہ شرط لگاتے کہ وادی قریٰ یا شہر کے راستے میں اس کے برابر پہنچنے سے قبل اس کو ہلاک نہ کرے، جب اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دے تو وہ اس کے اپنے مال کی طرح ہے جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔
حدیث نمبر: 35748
٣٥٧٤٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن سعيد ابن المسيب وسئل عن الرجل يعطي الشيء في سبيل اللَّه كيف يصنع بما بقي عنده؟ قال: إذا بلغ رأس مغزاه فهو كهيئة ماله، يصنع فيه ما (١) يصنع بماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص کو جہاد کیلئے کچھ دیا جائے تو جو اس کے پاس باقی بچ جائے اس کے ساتھ کیا کرے ؟ فرمایا جب وہ جہاد کی جگہ پر پہنچ جائے تو وہ اس کے مال کی طرح ہے اس کے ساتھ وہی کرے جو اپنے مال کے ساتھ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 35749
٣٥٧٤٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن عمرو مولى غفرة قال: أردت الغزو (فتزوجت) (١) بما في يدي، وبعث إلي رجل معونة بستين دينارا في سبيل اللَّه، قال: فأتيت سعيد بن المسيب فذكرت ذلك له وقلت: أدع لأهلي بقدر ما أنفقت، قال: لا، ولكن إذا بلغت رأس المغزى فهو كهيئة مالك، ثم أتيت القاسم بن محمد فذكرت ذلك له، فقال لي مثل قول سعيد بن المسيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر جو غفرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں جہاد پر جانے لگا تو جو کچھ میرے پاس تھا اس کے ساتھ سامان تیار کرلیا، ایک شخص نے جہاد کیلئے مجھے ساٹھ دینار ارسال کئے، فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ جتنا میں گھر والوں پر خرچہ کرتا تھا اس کی بقدر اس میں سے گھر والوں کیلئے چھوڑ جاؤں ؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن جب میدان جہاد پر پہنچ جاؤ تو پھر یہ تمہارے اپنے مال کی طرح ہے، پھر میں قاسم بن محمد کے پاس آیا اور ان سے یہ معاملہ ذکر کیا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے بھی حضرت سعید بن المسیب کی طرح ہی مجھ سے فرمایا۔
حدیث نمبر: 35799
(٣٥٧٩٩) [*] حدثنا وكيع قال: ثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن سعيد بن المسيب في الرجل يُعطى الشيء في سبيل اللَّه فيفضل معه الشيء، قال: ما فضل من شيء فهو له.
حدیث نمبر: 35750
٣٥٧٥٠ - حدثنا وكيع ثنا شريك عن ليث عن مجاهد وعطاء في الرجل يُعطى الشيء في سبيل اللَّه فيفضل منه الشيء فقالا: هو له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص کو جہاد کیلئے کچھ دیا جائے پھر اس میں سے کچھ زائد ہوجائے تو وہ اسی کیلئے ہوگا۔