کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص جہاد پر جائے جب کہ اس کے والدین حیات ہوں، اس کو اس کی اجازت ہے؟
حدیث نمبر: 35700
٣٥٧٠٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه أبا يعك على الجهاد، فقال له النبي ﷺ: "هل لك (والد) (١)؟ "، قال: نعم، قال: "انطلق فجاهد (فيه) (٢)، ⦗٤٧٢⦘ (فإن فيه) (٣) مجاهدا حسنًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا آپ کے والد حیات ہیں ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واپس چلے جاؤ اور ان کی خدمت کر کے جہاد کرو بیشک ان میں آپ کیلئے خدمت کر کے نیکی کمانے کا موقع ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35700
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط، أخرجه أحمد (٦٥٢٥) وابن حبان (٤٢١)، وسعيد بن منصور (٢٣٣٣)، وأصله في البخاري (٣٠٠٤)، ومسلم (٢٥٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35700، ترقيم محمد عوامة 34141)
حدیث نمبر: 35701
٣٥٧٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر وسفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي العباس المكي عن عبد اللَّه بن عمرو قال: جاء رجل يستأذن النبي ﷺ في الجهاد فقال النبي ﷺ: "أحي والداك؟ " قال: نعم، قال: " (ففيهما فجاهد) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما سے مروی ہے کہ ایک شخص اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں جہاد کی اجازت لینے کیلئے حاضر ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا آپ کے والدین حیات ہیں ؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان کی خدمت کر کے جہاد کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35701
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح حبيب بالسماع عند أحمد (٦٧٦٥)، وأخرجه البخاري (٥٩٧٢)، ومسلم (٢٥٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35701، ترقيم محمد عوامة 34142)
حدیث نمبر: 35702
٣٥٧٠٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن سالم عن (كريب) (١) قال: جاءت امرأة إلى ابن عباس وابنها يريد الغزو وأمه تكره له، فقال له ابن عباس: أطع والدتك واجلس عندها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کریب سے مروی ہے کہ ایک خاتون اپنے بیٹے کو لے کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی اس کا بیٹا جہاد پر جانا چاہتا تھا اور اس کی والدہ ناپسند کر رہی تھی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : اپنی والدہ کی اطاعت کر اور ان کے پاس رہ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35702، ترقيم محمد عوامة 34143)
حدیث نمبر: 35703
٣٥٧٠٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا همام عن قتادة عن زرارة بن أوفى قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إني أردت أن أغزو كان أبوي يمنعاني، قال: أطع أبويك واجلس، فإن الروم ستجد من يغزوها غيرك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زراہ بن اوفیٰ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں جب کہ میرے والدین مجھے منع کر رہے ہیں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا، اپنے والدین کی اطاعت کر اور ان کے پاس رہ بیشک تو روم میں اپنے علاوہ بھی بہت سوں کو لڑتے ہوئے عنقریب پائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35703
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه المروزي في البر والصلة (٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35703، ترقيم محمد عوامة 34144)
حدیث نمبر: 35704
٣٥٧٠٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة عن أبيه طلحة بن معاوية السلمي قال: جئت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه إني أريد الجهاد معك في سبيل اللَّه ابتغي بذلك وجه اللَّه، قال: "حية أمك؟ " ⦗٤٧٣⦘ قلت: نعم، قال: "الزمها"، قلت: ما (أرى) (١) (فهم) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣) (عنى) (٤)، فأعدت عليه مرارا فقال: "الزم رجليها، فثمَّ الجنة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں اور اس کے ذریعہ اللہ کی خوشنودی کا طالب ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں : فرمایا ان کی خدمت کو لازم پکڑو میں نے عرض کیا میرا نہیں خیال نہ اللہ کے نبی ﷺ میری بات سمجھے ہوں، میں نے بار بار اپنی بات دھرائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی والدہ کے پاؤں پکڑ لو (خدمت کرو) جنت وہاں ہی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35704
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35704، ترقيم محمد عوامة 34145)
حدیث نمبر: 35705
٣٥٧٠٥ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن أبيه أن رجلين تركا أباهما شيخًا كبيرًا وغزوا، فبلغ ذلك عمر فردهما إلى أبيهما، وقال: لا تفارقاه حتى يموت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے اپنے ضعیف والد کو تنہا چھوڑا اور جہاد پر چلے گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو واپس کردیا اور فرمایا ان کی وفات تک ان سے جدا مت ہونا، (ان کے ساتھ رہنا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35705
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35705، ترقيم محمد عوامة 34146)
حدیث نمبر: 35706
٣٥٧٠٦ - حدثنا ابن عيينة عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي يزيد سأل رجل عبيد بن عمير: أيغزو الرجل وأبواه كارهان أو أحدهما؟ قال: لا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبید اللہ بن عمیر سے دریافت کیا کہ کیا کوئی شخص اس حالت میں جہاد پر جاسکتا ہے جب کہ اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک اس کے جانے کو ناپسند کر رہا ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35706
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35706، ترقيم محمد عوامة 34147)
حدیث نمبر: 35707
٣٥٧٠٧ - حدثنا ابن عيينة (عن موسى بن عقبة) (١) عن سالم أو عبد اللَّه بن (عتبة) (٢): أراد محمد بن طلحة الغزو فأتت أمه عمر فأمره أن يقيم، فلما ولي ⦗٤٧٤⦘ عثمان أراد الغزو فأتت أمه عثمان، فأمره أن يقيم فقال: إن عمر لم يجبرني أو تعزم علي، (فقال) (٣): لكني أجبرك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت محمد بن طلحہ نے جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انہوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے پھر جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انہوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا اور فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر جبر نہیں فرمایا تھا لیکن میں آپ پر جبر کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35707
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35707، ترقيم محمد عوامة 34148)
حدیث نمبر: 35708
٣٥٧٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن معن بن عبد الرحمن قال: غزا رجل نحو الشام يقال له شيبان، وله أب شيخ كبير، فقال أبوه في ذلك شعرا: أشيبان ما يدريك أن رب ليلة … (غبقتك) (١) فيها و (الغبوق) (٢) حبيب أأمهلتني حتى إذا ما تركتني … أرى الشخص كالشخصين وهو قريب أشيبان إن بات الجيوش تحدهم … يقاسون أياما بهن خطوب قال: فبلغ ذلك عمر فرده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معن بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ ایک شخص جس کو شیبان کہا جاتا تھا ملک شام کی طرف جہاد میں چلا گیا، اس کا والد بوڑھا تھا، اس کے والد نے اس کی یاد میں اشعار پڑھے ! ” اے شیبان ! تجھے نہیں معلوم کہ تیرے بعد مجھ پر کتنی راتیں ایسی گزری ہیں جن میں میں نے تجھے یاد کیا اور تیری یاد میرے لیے محبوب ہے۔ جب سے تو مجھے چھوڑ کر گیا ہے مجھے قریب کھڑا ایک شخص دو شخصوں کی طرح لگتا ہے۔ اے شیبان تو ان لشکروں کے ساتھ ہے جو رات اور دن اس حال میں کرتے ہیں کہ وہ مشقت کا شکار ہوتے ہیں۔ “ جب اس کے یہ اشعار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچے تو انہوں نے اس کے یٹے کو واپس بلا لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35708، ترقيم محمد عوامة 34149)
حدیث نمبر: 35709
٣٥٧٠٩ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن هشام عن الحسن قال: إذا أذنت لك أمك في الجهاد وأنت تعلم أن هواها عندك في الجلوس فأجلس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تمہاری والدہ تمہیں جہاد پر جانے کی اجازت دے دیں اور آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ ان کی خواہش ہے کہ آپ نہ جاؤ تو آپ مت جاؤ اس کے پاس ٹھہر جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35709
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35709، ترقيم محمد عوامة 34150)
حدیث نمبر: 35710
٣٥٧١٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن محمد بن جحادة عن الحسن قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ يستأذنه في الجهاد فقال: "لك حوبة؟ " (١) قال: نعم، قال: اجلس عندها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جہاد کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دریافت فرمایا کیا تمہاری والدہ حیات ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ نے ارشاد فرمایا ان کے پاس رہ کر ان کی خدمت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35710
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35710، ترقيم محمد عوامة 34151)