کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص دارالحرب میں اسلام قبول کرے اور اس کو وہیں پر کوئی شخص قتل کر دے
حدیث نمبر: 35669
٣٥٦٦٩ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن سفيان عن سماك عن عكرمة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم قرآن کریم کی آیت { وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ : کوئی شخص دارالحرب میں مسلمان ہو اس کو کوئی قتل کر دے تو اس پر دیت نہیں ہے صرف کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 35670
٣٥٦٧٠ - (و) (١) عن (مغيرة) (٢) عن إبراهيم، ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾ [النساء: ٩٢]، قالا: الرجل يسلم في دار الحرب فيقتله الرجل ليس عليه الدية، وعليه الكفارة.
حدیث نمبر: 35671
٣٥٦٧١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن عيسى عن الشعبي، ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾، قال: من أهل العهد وليس بمؤمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی قرآن کریم کی آیت { وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ اھل ذمہ میں سے ہو۔ امان لے کر آنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 35672
٣٥٦٧٢ - حدثنا معاوية بن هشام عن عمار بن (رزيق) (١) عن عطاء بن السائب عن أبي يحيى عن ابن عباس، ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾، هو الرجل يكون معاهدا أو يكون قومه أهل عهد (فيسلم) (٢) إليهم ديته ويعتق الذي أصابه رقبة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کریم کی آیت { وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو عہد میں داخل ہو اور اس کی قوم بھی عہد میں شامل ہو، اس کی دیت اس کے ورثاء کو دے دیں گے، اور اس کے غلام آزاد ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 35673
٣٥٦٧٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ [النساء: ٩٢]، الرجل يُقتل وقومه مشركون، ليس بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فتحرير رقبة مؤمنة، فإن قتل مسلم من قوم مشركين وبينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فعليه رقبة مؤمنة، وتؤدى ديته إلى قومه الذين بينهم ⦗٤٦٤⦘ وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فيكون ميراثه للمسلمين ويكون عقله عليهم (لقومه) (١) المشركين الذين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فيرث المسلمون ميراثه ويكون عقله لقومه؛ لأنهم يعقلون عنه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم قرآن کریم کی آیت { فَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ آدمی مارا جائے اور اس کی قوم مشرک ہو، اس کے اور اللہ کے رسول ﷺ کے درمیان کوئی معاہدہ بھی نہ ہو، تو مومن غلام کو آزاد کریں گے اور اگر مسلمان کسی ایسے مشرک کو قتل کر دے جس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ ہو، اس پر مومن غلام آزاد کرنا ہے، اور دیت اس کی قوم کو دے دی جائے گی جس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا، اس کی وراثت مسلمانوں کی ہوگی، ان کی دیت مسلمانوں پر ہوگی اس کی مشرک قوم کیلئے جن کے اور اللہ کے رسول ﷺ کے درمیان معاہدہ ہے، مسلمان اس کی وراثت کے وارث ہوں گے۔ اس کی دیت اس کی قوم پر ہوگی کیوں کہ وہ اس کی طرف سے دیت ادا کرتے ہیں۔