حدیث نمبر: 35666
٣٥٦٦٦ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر عن زياد بن مسلم أن رجلًا من أهل (الهند) (١) (قدم) (٢) بأمانٍ (٣) (عدنَ) (٤) فقتله رجل من المسلمين بأخيه، فكتب في ذلك إلى عمر بن عبد العزيز، فكتب: أن لا تقتله، وخذ منه الدية، فابعث بها إلى ورثته، وأمر به فسجن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن مسلم سے مروی ہے کہ اہل ہند میں سے ایک شخص امان لے کر عدن میں آیا، اس کو ایک مسلمان نے قتل کردیا، اس کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزیز کو لکھا گیا، آپ نے تحریر فرمایا : اس کو قتل مت کرو، اس سے دیت وصول کرو اور وہ دیت مقتول کے ورثاء کو بھیج دو ، اور اس قاتل کو قید کرنے کا حکم فرمایا۔
حدیث نمبر: 35667
٣٥٦٦٧ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حبيب المعلم عن الحسن أن رجلًا من المشركين حج، فلما رجع (صادرا) (١) لقيه رجل من المسلمين فقتله، فأمره النبي ﷺ أن (تؤدى) (٢) ديته إلى أهله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص حج پر گیا، جب وہ واپس لوٹا تو اس کو ایک مسلمان نے قتل کردیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو (قاتل کو) حکم فرمایا کہ اس کے گھر والوں کو دیت ادا کرو۔
حدیث نمبر: 35668
٣٥٦٦٨ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن يوسف بن يعقوب أن رجلًا من المشركين قتل رجلًا من المسلمين، ثم دخل بأمان فقتله أخوه، فقضى عليه عمر بن عبد العزيز بالدية وجعلها عليه في ماله، وحبسه في السجن وبعث بديته إلى ورثته من أهل الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن یعقوب سے مروی ہے کہ ایک مشرک نے مسلمان کو قتل کردیا، پھر وہ امان لے کر آیا تو اس کو اس مقتول کے بھائی نے قتل کردیا، حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس پر دیت کا فیصلہ فرمایا، اس کے مال پر دیت کو واجب کیا اور اس کو جیل میں قید کروا دیا اور دیت کا مال دارالحرب مقتول کے ورثاء کو بھیج دیا۔