حدیث نمبر: 35657
٣٥٦٥٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الإفريقي عن عبد اللَّه بن يزيد عن عبد اللَّه ابن عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تمنوا لقاء العدو وسلوا اللَّه العافية، فإن لقيتموهم فاثبتوا واذكروا اللَّه، فإن أجلبوا أو (صيحوا) (١) فعليكم بالصمت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دشمن سے ملاقات کی تمنا مت کرو، اللہ سے عافیت مانگو، اور اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو، اور اگر بھیڑ ہوجائے یا وہ چیخیں تو تم پر خاموشی لازم ہے۔
حدیث نمبر: 35658
٣٥٦٥٨ - [حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن همام عن قتادة عن الحسن عن قيس بن عباد قال: كان أصحاب محمد ﷺ يستحبون خفض الصوت عند ثلاث: عند القتال وعند القرآن، وعند الجنائز] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تین مقامات میں آواز کے پست کرنے کو پسند کرتے تھے، جنگ کے وقت، قرآن کی تلاوت کے وقت اور جنازے کے وقت۔
حدیث نمبر: 35659
٣٥٦٥٩ - (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن المبارك عن ابن جريج عن عطاء قال: وجب الانصات والذكر عند (الزحف) (٢) قال: ثم تلا: ﴿فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ [الأنفال: ٤٥]، قال: قلت: ويجهر بالذكر؟ قال: (قال) (٣): نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں جنگ کے وقت خاموشی لازم ہے اور اللہ کا ذکر لازم ہے، پھر قرآن کریم کی آیت { فَاثْبُتُوا وَاذْکُرُوا اللَّہَ کَثِیرًا } تلاوت فرمائی، حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ذکر بلند آواز سے کرے ؟ فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 35660
٣٥٦٦٠ - حدثنا وكيع (قال) (١): ثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن (الحسن) (٢) عن قيس بن عباد قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يكرهون (٣) الصوت عند ثلاث: عند القتال وعند الجنائز وعند الذكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تین اوقات میں آواز کے پست کرنے کو پسند کرتے تھے، جنگ کے وقت، جنازے کے وقت اور ذکر کے وقت۔
حدیث نمبر: 35661
٣٥٦٦١ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن أبي (المعلى) (١) عن سعيد بن جبير أنه كره رفع الصوت عند القتال وعند قراءة القرآن وعند الجنائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنگ کے وقت، قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اور جنازے کے وقت آواز بلند کرنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 35662
٣٥٦٦٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي (حيان) (١) عن رجل من أهل ⦗٤٦١⦘ المدينة عن كاتب عبيد اللَّه قال: كتب (٢) عبد اللَّه بن أبي أوفى أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لا تمنوا لقاء العدو وسلوا اللَّه العافية، (فإذا) (٣) لقيتموهم فإن أجلبوا وصيحوا فعليكم بالصمت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دشمن سے ملاقات کی تمنا مت کرو، اللہ سے عافیت مانگو، اور اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو، اور اگر بھیڑ ہوجائے یا وہ چیخیں تو تم پر خاموشی لازم ہے۔
حدیث نمبر: 35663
٣٥٦٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس أن النبي ﷺ قال: "لصوت أبي طلحة في الجيش خير من فئة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : لشکر میں ابو طلحہ کی آواز ایک جماعت سے بہتر ہے۔